Mon, September 28, 2026

خیبرپختونخوا میں دہشت گردی بڑا چیلنج، حکومت احتجاج کے بجائے عوام پر توجہ دے، امیر مقام

خیبرپختونخوا میں دہشت گردی بڑا چیلنج، حکومت احتجاج کے بجائے عوام پر توجہ دے، امیر مقام

پشاور: وفاقی وزیر امیر مقام نے خیبرپختونخوا حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں دہشت گردی اور بدامنی کے حالات کے پیش نظر حکومت کو احتجاجی سیاست کے بجائے عوامی مسائل کے حل اور امن و امان کے قیام پر توجہ دینی چاہیے۔

پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے امیر مقام نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام ایک طویل عرصے سے دہشت گردی کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ صوبے کے مختلف علاقوں میں روزانہ دہشت گردی کے واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امن و امان کا قیام خیبرپختونخوا کا سب سے بڑا مسئلہ ہے اور امن کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت کو تقریباً 13 سال ہو چکے ہیں، تاہم عوام کو تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی سہولیات کے حوالے سے مطلوبہ ریلیف نہیں مل سکا۔ ان کے مطابق صوبے کے ہسپتالوں میں ادویات کی دستیابی اور تعلیم و صحت کے شعبوں کی صورتحال پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

امیر مقام نے کہا کہ صوبے میں مختلف وزرائے اعلیٰ تبدیل ہوتے رہے، تاہم اس عرصے میں عوام کی حالت میں وہ تبدیلی نہیں آئی جس کا وعدہ کیا گیا تھا۔ انہوں نے موجودہ صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ سیاسی سرگرمیوں کے بجائے عوامی مسائل کو ترجیح دی جائے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ موجودہ حکومت کی توجہ احتجاجی سرگرمیوں اور ایک سیاسی قیدی کی رہائی پر زیادہ مرکوز ہے، جبکہ دہشت گردی، بدامنی اور عوامی مسائل نظر انداز ہو رہے ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ دہشت گردی کے باعث خیبرپختونخوا کے بعض علاقے نوگو ایریاز میں تبدیل ہو چکے ہیں، جبکہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردوں کے خلاف فرنٹ لائن پر کارروائیاں کر رہے ہیں۔

امیر مقام نے دہشت گردی کے خلاف تمام سیاسی جماعتوں اور عوام کو متحد ہونے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صوبے میں امن کے قیام کے لیے مشترکہ کوششیں ضروری ہیں۔

انہوں نے صوبائی حکومت پر آئی جی پولیس اور چیف سیکریٹری کے اختیارات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے اور کہا کہ آئین کے خلاف کوئی قانون سازی قابل قبول نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اداروں کو اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہیے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کی کارکردگی اور صوبے کی صورتحال کے حوالے سے مزید حقائق جلد سامنے لائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کی ترقی اور عوام کی فلاح کے لیے امن و امان، صحت اور تعلیم کو ترجیح دینا ہوگی۔

ٹیگز: