خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت دہشت گردوں کی سہولت کاری میں انتہا کو پہنچ چکی ہے۔ اس وقت پاکستان دہشت گردی کے خلاف ایک فیصلہ کن جنگ لڑ رہا ہے، سکیورٹی فورسز، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جوان اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں، خیبر پختونخوا کے عوام اپنے گھروں، بازاروں، مساجد اور سرکاری تنصیبات پر دہشت گرد حملوں کا سامنا کر رہے ہیں، ایسے سنگین حالات میں صوبائی حکومت کا کردار انتہائی شرمناک اور مایوس کن ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت ریاست اور اداروں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر دہشت گردی کے خلاف کھڑے ہونے کے بجائے پولیس اور انتظامیہ کی دہشت گردی کے خلاف لڑنے کی صلاحیت کو کمزورکرنے پر تلی ہوئی ہے، جس سے دہشت گردی کے خلاف جاری ریاستی کارروائیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں۔ جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ صوبائی حکومت کی نااہلی کے باعث 2024-25 میں خیبر پختوانخوا میں دہشت گردی میں 52 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ اغوا اور قتل کے واقعات میں 30 فیصد اضافہ ہوا۔ منشیات اور سمگلنگ میں بھی 15 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ایسے حالات میں بنیادی سوال یہی ہے کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف ریاستی پالیسی کے ساتھ کس حد تک کھڑی اور اپنے انتظامی و سکیورٹی اداروں کو کس حد تک معاونت فراہم کر رہی ہے؟ اپنے سیاسی مفادات کو ملک کے استحکام اور سالمیت پر فوقیت دی جا رہی ہے۔ جس کا نتیجہ پچھلے ایک سال میں خیبر پختونخوا میں 19 خود کش حملے ہوئے، جن میں 12 حملے افغان دہشت گردوں نے کیے جو صوبائی حکومت کی جانب افغان طالبان کی حمایت کے بغیر کسی صورت بھی ممکن نہیں تھے۔ سب سے افسوسناک بات یہ ہے دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبے کے وزیر اعلیٰ نے اپنے پورے دور حکومت میں اب تک صرف ایک رسمی اپیکس کمیٹی کا اجلاس فروری 2026 میں منعقد کیا۔ واضح رہے کہ دہشت گردی کسی ایک جماعت یا حکومت کا نہیں بلکہ ریاست اور معاشرے کے تحفظ کا مسئلہ ہے۔ ایک بندے کو قومی سلامتی پر ترجیح دینا کسی صورت بھی قابل قبول نہیں ہو سکتا۔ تحریک انصاف اور افغان حکومت کے گٹھ جوڑ کا ایک ثبوت 17 ستمبر 2024 کو پشاور میں منعقدہ تقریب میں افغان قونصل خانے کے حکام کو مدعو کیا گیا۔ قومی ترانے کے دوران افغان مندوبین دانستہ طور پر اپنی نشستوں پر بیٹھے رہے، جس پر تحریک انصاف کی جانب سے کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا جو انتہائی شرمناک ہے۔ ایک تمہارے ملک میں آ کر تمہاری اقدار کی توہین کرے اور تم خاموشی اختیار کرو، آخر کیوں؟
صوبائی حکومت خیبر پختونخوا کے عوام کے جان و مال کے تحفظ کی ذمہ دار ہے، جیسا کہ اٹھارویں ترمیم میں واضح کیا گیا ہے۔ لیکن گذشتہ تیرہ برس سے خیبر پختونخوا کے بہادر عوام کو بھیڑ بکریوں کی طرح کاٹا جا رہا ہے اور صوبائی حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے بجائے دہشت گردوں کی سہولت کاری کا فرض انجام دے رہی ہے۔ عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے بجائے اس صوبے کا وزیر اعلیٰ دوسرے صوبے میں جا کر بچگانہ حرکات کرتا دکھائی دیتا ہے۔ دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع شمالی و جنوبی وزیرستان، مہمند، اورکزئی ہیں، اکتوبر 2025 سے آج تک سہیل آفریدی نے ان اضلاع کا ایک بھی دورہ نہیں کیا اور نہ ہی کسی شہید کے نماز جنازہ میں شرکت کی۔ جو انتہائی افسوسناک امر ہے۔ وہ شہدا جن کی تعریف و مقام اللہ رب العالمین خود بیان فرماتا ہے، جن کے جنازوں میں شرکت کا بھی اجر و ثواب ملتا ہو، ان جنازوں میں شریک نہ ہونا جہالت اور بدقسمتی کے سوا کیا ہو سکتا ہے؟
ایک ذہنی مریض کے لیے صوبے اور اس کے عوام کی سلامتی کو داو¿ پر لگانا، اپنے ہی افواج کے خلاف پراپیگنڈا کرنا، بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کی پراکسی ماہ رنگ لانگو کے مو¿قف کی تائید و حمایت کرنا، صوبے اور عوام کی خدمت نہیں ہو سکتی۔ خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے پولیس ایکٹ میں ترمیم کی غیر آئینی اور غیر قانونی منظوری بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ پولیس، جو فوج کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے ناسور کے خاتمے کے لیے انتہائی اہم کردار ادا کر رہی ہے، کی صلاحیتوں کو متاثر کیا جائے اور اس کو اپنے ماتحت کر کے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں غیر فعال بنا دیا جائے۔ یہ ایک انتہائی خطرناک اور ناقابل قبول اقدام ہے، جس کی کسی صورت اجازت نہیں دی جا سکتی اور نہ ہی دی جائے گی۔
1258 میں خلافت عباسیہ کے آخری خلیفہ مستعصم باللہ کے دور میں اس کا وزیر محمد بن علی ابن العلقمی ہلاکو خان کے ساتھ مل چکا تھا۔ ابن العلقمی نے خلیفہ کو یقین دلایا کہ ہلاکو خان ٹکر لینے کے بجائے اس کے ساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھانے اور اطاعت قبول کرنے آ رہا ہے۔ لہٰذا عسکری قوت کو مضبوط کرنے کی ضرورت نہیں ہے، ہلاکو خان کے لیے بغداد کے دروازے کھول دئیے گئے، ہلاکو خان نے بغداد کو خون میں نہلا دیا۔ ہلاکو خان نے تخت پر قابض ہونے کے بعد ابن العلقمی کو بھی یہ کہہ کر قتل کر دیا کہ جو شخص اپنی سلطنت کا وفادار نہیں ہو سکتا، وہ کسی دوسرے کا بھی وفادار نہیں ہو سکتا اور غدار کا یہی انجام ہوتا ہے۔ یاد رہے کہ تحریک انصاف کے پی میں جو مرضی قانون سازی کر لے مگر پاکستان بغداد نہیں یہاں کے ابن العلقمی اپنے مذموم مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔ تحریک انصاف کا مسئلہ صرف اقتدار حاصل کرنا ہے اس کے لیے کسی ملک دشمن سے ہاتھ ملانا پڑے تو گریز نہیں کرینگے۔ واضح رہے یہ واحد جماعت ہے جس نے قومی سلامتی اداروں پر مسلح حملے کیے۔
اس وقت ضرورت ہے خیبر پختونخوا حکومت اپنے تمام سیاسی مفادت کو نظر انداز کرتے ہوئے دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے ریاست اور اداروں کا ساتھ دے، اور دہشت گردوں کی سہولت کاری ختم کرے۔ پاکستان کی ہر سیاسی جماعت کی اولین ترجیح پاکستان کا استحکام اور سالمیت ہونی چاہیے کیونکہ پاکستان ہے تو ہم ہیں۔ پاکستان ہمیشہ زندہ باد