Mon, September 28, 2026

سماج اور بے حیائی!

سماج اور بے حیائی!

شایدآپ اس وقت یہ کالم اپنے موبائل پر پڑھ رہے ہوں، کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ موبائل نے ہماری روزمرہ زندگی، ہمارے وقت اور ہمارے ذوق کو کس قدرمتاثر اور تبدیل کردیا ہے؟ آج سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ دیکھی جانے والی چیزوں میں ریلز شامل ہیں اور ان ریلز کا ایک بڑا حصہ جسم کی نمائش،بے حیائی پر مشتمل مناظر، نجی زندگی کی تشہیر اور گھریلومعاملات کی تفصیلات پر مشتمل ہوتا ہے ۔ ہم نے بے حیائی کو باقاعدہ ایک صنعت بنا دیاہے، جوجتنی زیادہ جسم کی نمائش کرتا اور بے حیائی کو فروغ دیتا ہے اسے اتنی زیادہ توجہ، اتنی زیادہ مقبولیت اور آمدنی حاصل ہوتی ہے۔ یہ بے حیائی آہستہ آہستہ ہماری نگاہ، ہماری گفتگو اور ہمارے معاشرتی ذوق کا باقاعدہ حصہ بن چکی ہے۔آج کے اس کالم میں ہم بے حیائی زدہ اس سماج کورسول اللہ کی تنبیہات کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:” بے حیائی جس چیز میں آتی ہے اسے عیب دار بنادیتی ہے اور حیا جس چیز میں آتی ہے اسے عمدہ بنا دیتی ہے۔“
دور جدیدمیں پیرا ڈائم مکمل تبدیل ہو چکا ہے۔حیاجومردوزن کی فطرت اور پہچان تھی آج محض ایک فرسودہ روایت بن کر رہ گئی ہے۔بے حیائی جو کبھی باعث شرم وندامت تھی آج اس کو فن، آزادی اظہار اور سوشل میڈیا کے ذریعے کمائی کا ذریعہ سمجھ لیا گیا ہے۔ گالی کو”ٹَرینڈ“بنا دیا گیاہے۔فحش لباس کو ”کانفیڈینس“ کا استعارہ بنادیا گیا ہے اورفحش اورذو معنی گفتگو کو”کول“ کہہ کر جواز بخش دیا گیا ہے۔دورجدیدمیں جہاں علم و ٹیکنالوجی نے بے پناہ ترقی کر لی ہے وہیں انسان کی اخلاقی بصیرت اور روحانی عظمت کمزور پڑ گئی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ زبان بے لگام ہوئی تو گفتگو زہر بن گئی۔ نظر سے حیا رخصت ہوئی تو نگاہیں بے مقصد اور ہوس ناک بن گئیں۔لباس سے حیا نکلی تو وقار جاتا رہا۔ دل سے ایمان نکلا تو انسان رب کو بھول کر خواہشات کی غلامی کا اسیر ہوگیا۔جدید نفسیات ہمیں بتاتی ہیں کہ انسان کی اصل طاقت اس کے ضمیر کی آواز ہے اور ضمیر وہی سلیم رہتا ہے جس میں حیا کی چنگاری سلگ رہی ہو۔ حیا انسان کی شخصیت کو اندر سے مضبوط کرتی اور اُسے خود اعتمادی عطا کرتی ہے۔ اس کے برعکس بے حیائی وقتی شہرت تو دیتی ہے مگر انسان کواندرسے کھوکھلا اور معاشرتی عزت کو داغدار کرکے روح کی گہرائیوں میں ایسا خلا پیدا کردیتی ہے جو پھر کسی چیز سے پُر نہیں ہوتا۔
ہم ایک ایسے ڈیجیٹل دور میں رہ رہے ہیں جہاں ہر شخص سوشل میڈیا پر اپنی زندگی کی نمائش میں مصروف ہے۔وہ لائیکس اور ویوزکے چکر میں اپنی پرائیویسی کی حدیں توڑتا چلا جارہا ہے۔بے حیائی نے صرف افراد کو نہیں بلکہ خاندانی نظام کو بھی عیب دار اور کھوکھلا کر دیا ہے۔ طلاق کی شرح بڑھ گئی ہے، نوجوان نسل ناجائز جنسی تعلقات کو تفریح سمجھنے لگی ہے اور رشتوں میں اعتماد کمزور ہوچکا ہے۔ حیا جب کردار کا حصہ نہیں رہی تو خاندان جو محبت، وفا اور اعتمادکا استعارہ تھا وہ بکھر چکاہے۔ اسی لیے حدیث میں حیا کو عیب کو دور کرنے والی اور بے حیائی کو عیب پیدا کرنے والی قوت کے طور پر بیان کیا گیا۔اس حدیث کے مطابق اگر گفتگو، سوچ، لباس، علم اور طاقت سب کچھ حیا سے جڑ جائیں تو وہ خوبصورت بھی ہوں گے اور دیرپا بھی۔ اور اگر ان میں بے حیائی آجائے تو وقتی شہرت کے باوجود انجام میں رسوائی اور نتائج تباہ کن ہوں گے۔ دور جدید کا مطالبہ یہی ہے کہ ہم پھر سے حیا کو زندگی کا مرکزی اصول بنائیں۔ حیا ہی ایمان کی روح، انسان کی اصل پہچان ہے اور کامیابی کا واحد راستہ ہے۔آج دنیا کو اگر پائیدار اخلاقی نظام چاہیے تو اس کی بنیاد صرف اور صرف حیا پر ہی رکھی جا سکتی ہے۔ 
ایک دوسری حدیث میں حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”حیااور کم گوئی ایمان کے دوشعبے ہیں۔فحش گوئی اور باتونی پن نفاق کے دو شعبے ہیں۔“دور جدید کی دنیا چیخ وپکار،بے ہنگم الفاظ اوربے مقصد لفظوں کی بارش سے اَٹی ہوئی ہے۔ لمحہ بھر کے لائیک اور کمنٹ کی ہوس میں انسان نے اپنی زبان کو بے لگام چھوڑ دیاہے۔ اسی ہنگامہ خیزی کے پیش نظر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھاکہ حیااور کم گوئی ایمان کے شعبے جبکہ فحش گوئی اور باتونی پن نفاق کے شعبے ہیں۔ یہ نصیحت محض عرب کے بدو¶ں کے لیے نہیں تھی بلکہ اس کے کہیں زیادہ مخاطب دور جدید کے انسان ہیں۔حیا دل کی وہ کیفیت ہے جو انسان کے کردار کو سنجیدہ اور باوقار بناتی ہے۔ کم گوئی اپنی گفتگو کو وزن اور وقار دینے کا نام ہے۔ یہ دونوں صفات مل کر انسان کے ظاہر اور باطن کو ایک باوقار اور سنجیدہ کردار عطا کرتی ہیں۔ یہ کردار انسان کو لوگوں کی نظروں میں معزز بناتا اور اس کے دل کو سکون عطا کرتا ہے۔اس کے برعکس فحش گوئی اور باتونی پن نفس کے ہاتھوں غلامی کی علامت ہیں۔ انسان جب بولتا ہے تو وہ اپنا باطن ظاہر کرتا ہے۔ اگر اندر کی دنیا پاکیزہ ہو تو زبان نرم، مہذب اور پروقار ہوتی ہے اور اگر دل میں خود پسندی، حسد، نفرت یا بے لگامی ہو تو زبان اس کا غلیظ اظہار بن جاتی ہے۔موبائل پرستی کے سبب فحش گوئی آج انٹرٹینمنٹ انڈسٹری بن چکی ہے۔ طنز، میمز، ٹاک شوز اورکامیڈی شوزمیں فحش اشارے اور ذو معنی الفاظ سامعین و ناظرین کو ہنسانے کا ذریعہ سمجھے جاتے ہیں۔ اس کے نتائج یہ نکل رہے ہیں کہ محض چندلمحوں کی ہنسی کے عوض معاشرے کی زبان، ذہنوں کی معصومیت اور دل کی حیا ماند پڑ چکی ہے۔ یہ محض ایک اخلاقی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی بیماری ہے جونسل نو پر اس طرح اثر انداز ہورہی ہے کہ مسلسل ایسی زبان سننے سے اس کی حساسیت اور حیا دونوں کمزور ہو چکی ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں منفی رویوں کو نفاق کی علامات قرار دیا ہے۔ نفاق صرف یہ نہیں کہ انسان دل میں کفر چھپائے بلکہ نفاق یہ بھی ہے کہ انسان اپنے باطن کے پراگندہ ہونے کے باوجوداپنے ظاہر کو خوبصورت ثابت کرنے کی کوشش کرے۔ خود کو سنجیدہ اور باوقار ظاہرکرے جبکہ اس کا اپنے دل اور زبان پر کنٹرول نہ ہو۔ وہ خود کو مہذب اور مخلص ظاہر کرے جبکہ حقیقت میں زبان کا غلام اور نفس پرست ہو۔ایک مسلمان کا شعار یہ ہونا چاہیے کہ اس کے الفاظ کم مگر باوزن ہوں۔ گفتگو مختصر ہو مگر پراثر ہو۔ زبان نرم ہو مگربات سیدھی اور سچائی پر مبنی ہو۔ یہی حیا کا عملی مظاہرہ ہے۔

ٹیگز: