بچپن کوئی معمولی لفظ یا کتابی تصور نہیں ہے یہ دراصل کسی بھی معاشرے کی تہذیبی سطح ، اخلاقی قدر و قیمت، پہچان اور اس کے اجتماعی ضمیر کا سب سے روشن پیمانہ ہوتا ہے ۔وہی قوم زندہ رہتی ہے جس قوم کے بچے محفوظ ، تعلیم یافتہ ، باوقار اور خوف سے آزاد ہوں۔ خواہ وہ قوم وقتی معاشی مشکلات میں گھری ہوپھر بھی زندہ اور مہذب کہلاتی ہے ۔ لیکن جس معاشرے میں بچے مزدور بن جائیں ، بھیک مانگنے پر مجبور کیے جائیں، نشے کی نذر ہونے لگیں اور ظلم کو اپنی قسمت سمجھنے لگیںوہاںانسانیت نہیں بلکہ صرف عمارتیں ہی باقی رہ جاتی ہیں ۔شومئی قسمت کہ ہمارا سماج آج اسی خطرناک موڑ پر کھڑا ہے ہمارے ہاں یہی بچپن سب سے زیادہ سستا ، سب سے زیادہ استعمال شدہ اور سب سے زیادہ نظر انداز کیا جانے والا مالِ زندگی بن چکا ہے۔ پاکستان سمیت ترقی یافتہ ممالک میں چالڈ لیبر کوئی نئی بات نہیں مگر اس کی شدت دن بہ دن برھتی جا رہی ہے ۔ چھوٹے بچے ہوٹلوں میں برتن دھوتے ہیں ، ورکشاپ میں کام سنبھالتے ہیں ، سڑکوں پر سامان اٹھاتے ہیں اور فیکٹروںمیں بالغ انسان کے برابرکام کرتے ہیں ۔ہمارے معاشرے میں زیادہ تر بچوں کا بچپن نعمت نہیں بوجھ بن جاتاہے ، ان کے ہاتھوں میں کتاب نہیں اوزار تھما دیے جاتے ہیں، ان کے ذہنوں کو علم کی روشنی سے روشن نہیں کیا جاتا بلکہ غربت استحصال اور محرومی کے اندھیروں دھکیل دیا جاتا ہے ۔یہاں بچہ کھیلنے اور سیکھنے سے زیادہ کام کرنے اور بوجھ اٹھانے کے لیے تیار کیا جاتا ہے اور سب سے خطرناک بات تو یہ ہے کہ ہم نے اس المیے کو المیہ ماننا ہی چھوڑ دیا ہے ۔یہی وہ مقام ہے جہاں معاشرے زوال کی عادت میں داخل ہو جاتے ہیں ۔ یہی بگڑتا ہوا بچپن آج ہمارے سامنے چائلڈ لیبر ، کم عمر بھکا ری اور منشیات کی تاریکی میں ڈوبتی ہوئی نسل کی تین شکلوں میں کھڑا ہے ۔ یہ تینوں مسائل الگ نہیں بلکہ ایک ہی فکری ، اخلاقی اور انتظامی انہدام کے مختلف مظاہر ہیں ۔ ہم جتنا بھی انہیں الگ الگ مسئلہ بنا کر دیکھنے کی کوشش کریں لیکن حقیقت بہرحال یہی ہے کہ ان تمام مسائل کی جڑ ریاست کی کمزور گرفت اور معاشرے کی بے حسی ہی ہے ۔ چائلڈ لیبر اب کسی
عارضی سماجی مظہریا استثنائی صورتحال کا نام نہیں بلکہ یہ ہمارے معاشی ڈھانچے میں پیوست ایک خاموش مگر فعال ظلم ہے ہوٹلوں میں برتن چھوتے بچے ، ورکشاپ میں چنگاریوں کے درمیان جلتے چہرے ، بھٹوں پر اینٹیں ڈھوتے ننھے کندھے ، گلیوں میں ریڑھیاں کھینچتے ننھے ہاتھ یا گلی محلے کی دکان ہر جگہ ہی کوئی نہ کوئی طفلِ معصوم محنت کی چکی میں پس رہا ہے ۔ اب یہاں اصل سوال یہ نہیں ہے کہ وہ بچے وہاں کیوں موجود ہیں بلکہ یہ ہے کہ انہیں وہاں سے بے دخل کیوں نہیں کیا جاتا؟ اور اس سوال کا جواب بہت ہی سادہ ہے کہ یہ استحصال سستا ،سہل اور جوابدہی سے ماورا ہے ان سے کم اجرت پر زیادہ کام لیا جا سکتا ہے۔ یہ احتجاج نہیں کرتے ، ان کی تھکن کی کوئی خبر نہیں بنتی چنانچہ استحصال کے سوداگر انہیں اپنے کاروبار کا خاموش سرمایہ سمجھتے ہیں۔ یہ کہنا بالکل بھی غلط نہ ہوگا کہ ہمارے بعض معاشی شعبے بچوں کی انتھک محنت پر کھڑے ہیں اور جب کسی معیشت کو چلانے کے لیے بچوں کے ہاتھ درکار ہوں تو سمجھ لینا چاہیے کہ وہ معیشت ترقی کی طرف نہیں بلکہ اخلاقی دیوالیہ پن کی طرف بڑھ رہی ہے ۔ یہاں ایک سوال اور بھی ہے کہ کیا واقعی غربت اس مسئلے کی واحد وجہ ہے ؟ اگر ایسا ہوتا تو ہر غریب ملک میں اس سے ملتی جلتی صورتحال ہوتی لیکن حقیقت یہ ہے کہ غربت ایک سبب ضرور ہے مگر واحد سبب نہیں ہے ۔اصل مسئلہ ترجیحات کا ہے ، جب ریا ست تعلیم کو اولین ترجیح نہ دے ، جب والدین مجبوری کے نام پر خاموش ہو جائیں ، جب معاشرہ اسے معمول سمجھ لے تو پھر غربت ظلم کی مستقل توجیہ بن جاتی ہے ۔ اس طرح کم طفلانہ بھیک کا مسئلہ اب محض ہمدردی یا خیرات کا معاملہ نہیں رہا بلکہ یہ ایک باقاعدہ منظم استحصالی صنعت کی صورت اختیار کر چکاہے ۔چوراہوں ،بازاروں ، مساجد کے باہر ہر جگہ معصوم چہرے ہاتھ پھیلائے دکھائی دیتے ہیں ۔ کوئی زخمی ہے ،کوئی شیر خوار، کوئی ننگے پاﺅں دھوپ میں کھڑا ہے ، کوئی بارش میں بھیگ رہا ہے ۔سڑک پر کھڑے یہ بچے محض فقر و فاقہ کا استعارہ نہیں بلکہ کسی نہ کسی منظم نیٹ ورک کے آلہ کار ہیں ۔ ہم روزانہ ہمدردی کے نام پر چند روپے ان کی نذر کر کے سمجھتے ہیں کہ ہم نے انسانی فرض ادا کر دیا حالانکہ ہم غیر شعوری طورپر اسی استحصالی نظام کی تقویت کا باعث بن رہے ہوتے ہیں جو ان بچوں کو بار بار اسی گرداب میں دھکیل دیتا ہے ۔بھیک مانگتے یہ بچے ہماری ریاستی ناکامی کا اشتہار بنے سوال کرتے ہیں کہ اگر قانون یہاں موجود ہے تو میرا استحصال کیوں ہو رہا ہے ؟ اگر معاشرہ زندہ ہے تو میری آواز کیوں کسی کو سنائی نہیں دیتی ؟ میرا دکھ کسی کو کیوں دکھائی نہیں دیتا ؟
اس پورے المیے کی سب سے خطرناک سطح منشیات میں مبتلا ہوتی ہوئی کم سن نسل ہے ۔یہ وہ مقام ہے جہاں معاشرہ زوال پذیر نہیں رہتا بلکہ اخلاقی شکست و ریخت کے دہانے پر آکھڑا ہوتا ہے ۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں بھی اب معاملہ مزدوری اور بھیک تک ہی محدود نہیں ہے ۔کم عمر بچوں میں منشیات کا پھیلاﺅ وہ انتہاءہے جہاں معاشرہ بکھر رہا ہے ۔ نشہ اب گلی گلی دستیاب ہے اور ان کاٹارگٹ کم عمر معصوم بچے ہیں ۔ یہ سب ہمارے خاندان ،معاشرے اور ریاست کی ناکامی کا نتیجہ ہے ۔ریاست کے ساتھ ساتھ والدین کی ذمہ داری بھی کم نہیں اولاد کو صرف کفالت کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ ان کی تربیت ، نگرانی ، شفقت اور اخلاقی رہنمائی بھی اتنی ہی ضروری ہے ۔ جن گھروں میں وقت ، محبت اور مکالمہ نہ ہو وہاں بچے جذباتی طور پر یتیم ہو جاتے ہیں اور جذباتی یتیمی اکثر جسمانی محرومی سے زیادہ خطرناک ثابت ہوتی ہے ۔یہاں یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ ہم ایک ایسی نسل کھو رہے ہیں جسے ہم نے کبھی سنبھالنے کی کوشش ہی نہیں کی ۔نگرانی ،تحفظ اورتعلیم سے محروم بچہ دنیا کے رحم و کرم پر ہوتا ہے اوردنیا کبھی بھی ماں نہیں ہوتی ۔ریاست کی ذمہ داری یہاں سب سے زیادہ واضح ہے ، قوانین موجود ہیں ،ادارے موجود ہیں مگر آج تک کتنے کارخانے سیل ہوئے ؟ کتنے مالکان کو سزا ملی ؟ کتنے بچوں کو بازیاب کروا کر انہیں بہتر مستقبل دیا گیا ؟ جب تک قانون صرف فائلوں میں زندہ رہے گا بچے سڑک پر ایسے ہی سسکتے رہیں گے۔۔ہمیں تسلیم کرنا ہو گا کہ ہر معصوم بچہ ریاست کی ذمہ داری ، معاشرے کی امانت اور مستقبل کی ضمانت ہے ۔ تعلیم ہی اس مسئلے کا بنیادی حل ہے ہمیں اس بات کو سمجھنا ہو گا کہ آج کا محروم بچہ کل کا ناراض نوجوان ہے ۔ آج اگر ان بچوں کو محفوظ نہیں کریں گے تو آنے والے وقت میں جرائم ، انتہاءپسندی ، تشدد ، سماجی بغاوت سے اپنے معاشرے کو کیسے بچا سکیں گے ؟