پاکستان اور بھارت کے درمیان آج ایشیاء کپ کا فائنل دوبئی کے انٹرنیشنل کرکٹ سٹیڈیم میں کھیلاجائے گا۔ اس میگا یونٹ میں بھارت ابھی تک نا قابل شکست جبکہ پاکستان اپنے دونوں میچ بھارت سے ہار کر دوسری پوزیشن پر براجمان ہے۔ ایشیاء کی نمبر ون ٹیم کے لئے دونوں حریف آج فائنل میچ جیتنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگائیں گے۔ آج کا میچ ایک اعصابی جنگ ہے اور مشکل صورتحال میں بہترین فیصلے اور کم غلطیاں کرنے والی ٹیم ہی کامیاب ہوگی۔ ٹیم انڈیا ہر لحاظ سے ایک مضبوط اور بہترین ٹیم ہے۔ ان کی بیٹنگ اور باؤلنگ اس ٹورنامنٹ میں شریک تمام ٹیموں سے بہتر رہی۔ ٹیم انڈیا نارمل کھیل کر پاکستان کو شکست دینے کی صلاحیت رکھتی ہے جبکہ ٹیم پاکستان کو یہ میچ جیتنے کے لئے غیر معمولی کارکردگی پیش کرنی ہوگی۔ ہماری ٹیم کا سب سے بڑا مسئلہ بیٹنگ ہے جو اس میگا یونٹ میں بالکل ناکام رہی۔ صائم ایوب، فخرزمان، کپتان سلیمان علی آغا اور محمد حارث ابھی تک کوئی بڑی اننگز نہیں کھیل سکے جبکہ آل راؤنڈر محمد نواز ، فہیم اشرف اور شاہین آفریدی کی بیٹنگ سے ٹیم فائنل تک پہنچی۔ ٹیم کے 5 مستند بلے باز آف کلر ہیں جبکہ بیک اپ میں موجود حسن نواز بھی پرفارم نہیں کررہاایسی گھمبیر صورتحال میں کچھ بڑے کی توقع نہیں کرنی چاہئے۔ باؤلنگ لائن اس وقت ٹھیک اور پرفیکٹ ہے۔ فائنل میں صرف حسین طلعت کی جگہ حسن نواز کو شامل کرکے صاحبزادہ فرحان کے ساتھ اوپن کروائیں کیونکہ مختصر فارمیٹ کی کرکٹ میں شروع کے 6 اورز میں 50 رنز کرنے والی ٹیم ہی بورڈ پر بڑا ٹوٹل سجاتی ہے اور اگر حسن نواز کا بلا چل گیا تو پاکستان بہترین پوزیشن میں ہوگا۔ صائم ایوب، فخرزمان اور کپتان سلیمان علی آغا کو ذمہ داری اور ٹیم کی ضرورت کے مطابق کھیلنا ہوگا۔ اگر ٹیم کی بیٹنگ کلک کرگئی اور باؤلرز نے لائن اور لینتھ سے باؤلنگ کی تو پاکستان انڈیا کو شکست دے سکتا ہے۔ انڈیا کے خلاف کپتان کا ایک اہم رول ہے جو اسے ہرصورت عمدہ طریقے سے ادا کرنا ہے۔ دوسرے میچ میں پاکستان کا سکور ٹھیک تھا لیکن کپتان نے شاہین آفریدی کے ساتھ صائم ایوب کو اٹیک میں لگا کر سارا پریشر ختم کردیا۔ فائنل میں شاہین کے ساتھ فہیم اشرف کو اٹیک میں لگائیں اور باؤلرز کو چاہئے شروع میں باؤنسر اور شارٹ پچ باؤلنگ نہ کریں بلکہ لائن و لینتھ کے ساتھ اندر کھلائیں۔ پھر ایک اوور ابرار اور نواز کو دیں۔ حارث رؤف کو ایک ایک اوور کے چار سپیل میں استعمال کریں۔ یہ باؤلرز کے صحیح استعمال کا امتحان ہے۔ جو ٹیم اپنے باؤلرز کو بہتر استعمال کرگئی وہ میچ جیت جائے گی۔ ہماری ٹیم کی جیت کا تمام تر دارومدار بیٹنگ پر ہے کیونکہ اس میگا یونٹ میں انڈیا نے پاکستانی بیٹرز کو ٹارگٹ سکور نہیں بنانے دیا اور دونوں میچ باآسانی جیت کر نفسیاتی برتری حاصل کرلی۔ فائنل میچ کا پریشر اور دباؤ دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں پر یکساں ہوگا۔ جو ٹیم بھی مشکل صورتحال میں اچھا پرفارم کرگئی جیت اس کا مقدر ہوگی۔ پاکستان کی طرف سے اس میچ میں فخرزمان، صاحبزادہ فرحان، شاہین افریدی، محمد نواز، ابرار احمد، حارث رؤف اور کپتان سلیمان علی آغا کو بہترین پرفارم کرنا ہوگا۔ پاکستانی پلیئرز کسی دباؤ کے بغیر اپنی نیچرل کرکٹ ذمہ داری سے کھیلیں اور آخری دم تک لڑتے ہوئے دکھائی دیں۔ جس طرح آخری میچ میں سری لنکا نے ٹیم انڈیا کا جم کر مقابلہ کیا اور سپر اوور تک میچ لیکر گئے ایسی ہی فائٹنگ سپرٹ سے کھیلتے ہوئے اگر آپ ہاربھی گئے تو پوری قوم آپ کے ساتھ ہوگی۔ یہ میچ شوگر، ہائی بلڈ پریشر والے اور دل کے مریض بالکل نہ دیکھیں۔
تم جیتو یا ہارو ہمیں تم سے پیار ہے