چاچارشید پریشان حال چوپال میں داخل ہوئے۔ان کے چہرے پر پریشانی صاف ظاہر تھی۔ نتھو اور پھتو نے کہا۔۔ چاچا جی خیر تو ہے۔۔۔چاچا رشید کچھ نہیں بولے۔۔۔نتھو نے ان کو پانی کا گلاس دیا۔۔ چاچا رشید پانی پینے کے بعد دوبارہ خاموش ہوگئے۔۔۔چپ سائیں کی چوپال میں آمد ہوئی۔۔۔چھوٹے بڑے سب ادب واحترام سے کھڑے ہوگئے۔۔۔ چپ سائیں نے سب کو بیٹھنے کا اشارہ کیا۔۔۔ تھوڑی دیر بعد نتھو اور پھتو نے کہا ۔۔۔سائیں جی۔۔ آج چا چا رشید نجانے کیوں پریشان ہیں اور کوئی وجہ بھی نہیں بیان کررہے۔ ۔۔ اس پر چپ سائیں نے کہا بھائی جی۔۔۔ معاملہ کیا ہے؟۔۔۔ چاچارشید نے چپ کا قفل کھولا اور کہا۔۔۔ سائیں جی اور چوپال کے دوستو ۔۔میرے چچا کے بیٹے کاچھوٹا بیٹا جو لگ بھگ پانچ سات برس کا ہوگا۔۔۔ وہ گھر سے باہر کھیلنے کے لیے نکلا۔۔ کافی دیر ہوئی تو، واپسی ندارد ۔۔۔تو گھر والوں کو فکر لاحق ہوئی۔۔۔ سب نے قریبی دوستوں سے دریافت کرنا شروع کیا۔۔۔ لیکن کوئی خبر نہ ملی۔۔ مجھے وہ اچانک ایک جگہ کسی انجان کے ساتھ نظر آیا۔۔ میں توفورااس کی طرف بڑھا۔۔ اس کی طرف بڑھتا دیکھ کر انجان شخص نجانے رش میں کہا ں چلا گیا۔۔۔ لیکن میں نے نیم بے ہوش بچے کو پانی پلایا، قرب میں لوگوں کو اپنی پہچان کرائی اور بچے کے بارے میں بتایا۔۔۔ اسی اثنا میں بچے کے گھر میں فون کردیا۔۔ وہ سب بھاگتے بھاگتے آگئے۔۔ دوستو!۔۔ ایک ہمار ازمانہ تھا۔۔ جب ساری ساری رات گھر کے باہر محلے میں کھیلتے اور کوئی فکر نہ ہوتی۔۔۔ سب محفوظ ہوتے۔۔ اب تو گھر کے باہر غیر محفوظ اور گھر میں ہی محفوظ ہیں۔۔ سائیں جی! بات یہاں پر ہی ختم نہیں ہورہی۔۔۔ میں کل پرسوں ٹی وی پر خبر سن رہا تھا۔۔ کراچی میں ایک باپ آہ وبقا کررہا تھا۔۔ اس کا اکلوتا بیٹا جو کم سن تھا۔۔ وہ گھر سے باہر کھیلنے نکلا۔۔ اور پھر کچھ روز بعد اس کی لاش ہی ملی ۔۔کسی بد بخت نے اس کو بدفعلی کے بعد۔۔سر پر پتھر مار کر ماردیا۔۔۔ افسوس صد افسوس۔ ۔ ہمارے معاشرے میں لوگ ذہنی بیمار ہوتے جارہے ہیں ، پہلے تو نشے کی لت تھی اور اب نجانے کس کس لت میں لوگ مبتلا ہوتے جارہے ہیں؟۔۔۔اس پر چپ سائیں بولے۔۔۔ حق ہو!۔۔دوستو! بھائی رشید نے بڑی اچھی بات کی اور مجھے اب ان کی فکر کا اندازہ ہوگیا ہے۔
دوستو!گھر ہمیشہ سے انسان کے لیے ایک پناہ گاہ، ایک سکون کا گوشہ، اور تحفظ کی علامت رہا ہے۔ زمانوں سے انسان نے اپنے گھر کو نہ صرف رہائش کے لیے، بلکہ ہر قسم کی بیرونی خرابیوں سے بچاؤ کا ذریعہ بنایا لیکن افسوس کہ آج کے دور میں ''گھر کے گیٹ سے باہر کی دنیا'' رفتہ رفتہ ایک ایسی جگہ بنتی جا رہی ہے، جہاں عدم تحفظ، بے یقینی، خوف، اور انتشار کی کیفیت چھائی ہوئی ہے۔ماضی قریب تک، محلے کے لوگ ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے، راستے میں ملنے والے اجنبیوں پر بھی اعتبار کیا جا سکتا تھا اور بچے بے خوف گلیوں میں کھیلتے تھے۔ مگر اب نہ وہ محلے رہے، نہ وہ رشتے۔ اجنبیوں سے فاصلہ رکھنا ہی عقلمندی سمجھی جاتی ہے، اور ماں باپ اپنے بچوں کو اکیلا باہر بھیجنے سے ڈرتے ہیں۔
صاحبو!اخبارات روزانہ قتل، چوری، اغوا، دھوکہ دہی، اور جنسی ہراسانی کی خبریں لیے ہوتے ہیں۔ جب انسان کے پیٹ میں بھوک ہو اور دل میں ناامیدی، تو وہ اخلاقی قدروں سے زیادہ اپنے فائدے کو ترجیح دیتا ہے۔ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب جرائم پنپتے ہیں، اور معاشرہ تباہی کی طرف بڑھنے لگتا ہے۔پہلے جہاں چھوٹے شہروں اور دیہاتوں میں لوگ دروازے کھلے رکھ کر سوتے تھے، آج وہاں بھی تالے، کیمرے، اور چوکیدار ضروری ہو چکے ہیں، دلوں میں خوف اور خدشات جنم لے رہے ہیں اور لوگ اخلاقی اقدار سے دور ہوتے جارہے ہیں۔
خواتین اور بچے وہ طبقے ہیں جو اس عدم تحفظ کا سب سے زیادہ شکار ہیں۔ آئے دن بچوں کے اغوا، جنسی تشدد، اور خواتین پر حملوں کی خبریں ہمارے دل دہلا دیتی ہیں۔ اس کا اثر صرف جسمانی نہیں، ذہنی اور نفسیاتی بھی ہوتا ہے۔ بچپن کی معصومیت، خواتین کا اعتماد، سب کچھ اس ''غیر محفوظ دنیا'' کی بھینٹ چڑھ رہا ہے۔صاحبو!یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اب صرف جسمانی دنیا ہی نہیں، ڈیجیٹل دنیا بھی غیر محفوظ ہو چکی ہے۔ انٹرنیٹ، سوشل میڈیا، اور موبائل ایپس جہاں سہولتیں فراہم کرتی ہیں، وہیں پرائیویسی کی خلاف ورزی، آن لائن دھوکہ دہی، بلیک میلنگ، اور سائبر بُلنگ جیسے مسائل نے ایک نئی طرح کی بے چینی پیدا کر دی ہے۔اس سنگین صورت حال کا حل صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں سے وابستہ نہیں، بلکہ ہمیں بطور فرد، بطور معاشرہ، اور بطور قوم اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا۔اخلاقی تربیت کا آغاز گھروں سے ہو۔تعلیم اور شعور کو عام کیا جائے، خاص کر بچوں اور نوجوانوں میں۔محلے داری اور سوشل سپورٹ نیٹ ورکس کو دوبارہ زندہ کیا جائے۔قانونی نظام کو مضبوط کیا جائے تاکہ مجرم سزا سے نہ بچ سکیں۔ڈیجیٹل تعلیم کے ذریعے بچوں اور والدین کو آن لائن دنیا کے خطرات سے آگاہ کیا جائے۔
صاحبو!جب ایک ماں اپنے بچے کو سکول بھیجتے ہوئے پریشان ہو، جب ایک باپ شام کو گھر لوٹنے تک بے چینی سے فون دیکھتا رہے، جب ایک نوجوان لڑکی راستے میں ہر دوسرے قدم پر نظریں جھکانے پر مجبور ہو تو سمجھ لیجیے کہ ''گھر کے گیٹ سے باہر کی دنیا، اب محفوظ نہیں ہے۔ــ"ہمیں صرف حالات کا ماتم کرنے کے بجائے، ان کے خلاف آواز بلند کرنی ہوگی۔ ایک بہتر، محفوظ، اور پرامن دنیا تب ہی ممکن ہے جب ہر فرد، ہر ادارہ، اور ہر طبقہ اپنی ذمے داری کو سمجھے اور نبھائے، باہر کی دنیا کو محفوظ بنانے کی ذمہ داری صرف حکومت کی نہیں، ہم سب کی ہے ۔
دوستو! قابل غوربات یہ ہے کہ جب گھر کے دروازے بند ہوں اور دل میں یہ خوف ہو کہ باہر کی دنیا میں نہ جانے کیا خطرہ منتظر ہے، تو یہ کسی بھی معاشرے کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ ہمیں ایک ایسی دنیا کی ضرورت ہے جہاں گیٹ کے باہر صرف سڑک نہ ہو، بلکہ اعتماد، امن، اور سکون کی فضا ہو جہاں بچے ہنستے کھیلتے ہوں، خواتین بااعتماد ہوں، اور مرد ایک دوسرے پر بھروسہ کر سکیں۔کیونکہ اگر باہر کی دنیا محفوظ نہیں ہوگی، تو گھر کا سکون بھی ایک فریب کے سوا کچھ نہیں۔۔۔۔باقی رہے نام اللہ کا۔