Wed, September 16, 2026

استنبول میں جاری پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان جاری مذاکرات کا تیسرا راؤنڈ بے نتیجہ ختم

 استنبول میں جاری پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان جاری مذاکرات کا تیسرا راؤنڈ بے نتیجہ ختم

استنبول: پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان تین روز تک جاری رہنے والے مذاکرات بے نتیجہ ختم ہو گئے ہیں، جس سے دونوں ممالک کے درمیان طویل مدتی امن کے قیام کی کوششوں کو بڑا دھچکا لگا ہے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق، ان مذاکرات میں پاکستان نے اپنے مطالبات پر سختی سے قائم رہنے کا موقف اختیار کیا۔ ان مطالبات میں دہشت گردی کی روک تھام کے لیے جامع حکمت عملی اور سیز فائر پر عمل درآمد شامل تھا۔ تاہم، افغان طالبان کے وفد نے ان مطالبات کو پوری طرح تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ افغان طالبان کے وفد کو کابل سے کنٹرول کیا جا رہا ہے، اور وہ بار بار کابل حکومت کے احکامات کے مطابق بات چیت کر رہے ہیں۔ اس کی وجہ سے مذاکرات میں رکاوٹیں آ رہی ہیں کیونکہ کابل سے کوئی حوصلہ افزا جواب نہیں آ رہا۔

پاکستان نے بار بار یہ بات واضح کی کہ ان کے مطالبات نہ صرف دونوں ممالک کے مفاد میں ہیں، بلکہ ان کا حل علاقے کے امن کے لیے ناگزیر ہے۔ میزبان ممالک، جن میں ترکی بھی شامل ہے، نے افغان طالبان کو یہی بات سمجھانے کی کوشش کی، لیکن طالبان کی طرف سے کسی بڑی لچک کا مظاہرہ نہیں کیا گیا۔

پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف نے واضح کیا کہ افغان طالبان کے پاس دو ہی راستے ہیں: امن کے ساتھ رہیں یا پھر پاکستان کے ساتھ کھلی جنگ کا سامنا کریں۔

پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان یہ مذاکرات قطر کے دارالحکومت دوحہ میں شروع ہوئے تھے، جہاں دونوں ممالک نے سیز فائر پر اتفاق کیا تھا۔ اس کے بعد استنبول میں مذاکرات کے دوسرے دور میں پہلے دور میں طے پانے والے نکات پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا، لیکن اس میں بھی کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہوئی۔

ٹیگز: