Wed, September 16, 2026

بھارتی اشاروں پرافغان حکومت کی ہٹ دھرمی !

بھارتی اشاروں پرافغان حکومت کی ہٹ دھرمی !

استنبول میں ہونے والے حالیہ مذاکرات ایک بار پھر تعطل کا شکار ہو چکے ہیں اوراس بار تعطل کی بنیادی وجہ افغان طالبان کے وفد کی ہٹ دھرمی اور غیر سنجیدہ رویہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق طالبان وفد نے مذاکرات کے دوران غیر لچکدار مؤقف اپنایا اور کسی عملی پیش رفت کی بجائے الزام تراشی کی پالیسی جاری رکھی۔ نتیجتاً یہ مذاکرات اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکے اور فریقین کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج مزید گہری ہو گئی۔ اس صورتحال کے پیش نظر طالبان رجیم نے اپنے سوشل میڈیا نیٹ ورک کے ذریعے ایک منظم بیانیہ پھیلانے کی ہدایت کی ہے جس کا مقصد مذاکرات کی ناکامی کا بوجھ پاکستان پر ڈالنا ہے۔طالبان کی جانب سے جاری کیے گئے بیانیے کے اہم نکات میں یہ دعویٰ شامل ہے کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے اوراسے پاکستان کو خود حل کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق دہشت گردی کا اصل سامنا افغانستان کو ہے جو مبینہ طور پر پاکستان کی جانب سے کالعدم داعش کی صورت میں ان پر مسلط کی جا رہی ہے۔ اسی طرح یہ تاثردینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ پاکستان افغان خودمختاری کا احترام نہیں کرتا اور اس کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرتا ہے۔ یہ بیانیہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت تیار کیا گیا ہے تاکہ بین الاقوامی برادری کے سامنے پاکستان کو ایک جارح ریاست کے طور پر پیش کیا جا سکے اور طالبان حکومت کے اپنے جرائم اور کمزوریوں پر پردہ ڈالا جا سکے۔درحقیقت، طالبان رجیم کا یہ رویہ ان کی بدنیتی اور منافقانہ سوچ کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ بات اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ طالبان حکومت اپنے بھارتی سرپرستوں سے متاثر ہو کر وہی پرانی پالیسی اپنا رہی ہے جس میں دہشت گردی کا الزام دوسروں پر ڈال کر خود کو معصوم ظاہر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ بھارت نے ہمیشہ سے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے دہشت گرد تنظیموں کو مالی اور سفارتی حمایت فراہم کی، اور اب یہی روش افغان طالبان نے بھی اپنائی ہے۔ ان کا مقصد نہ صرف پاکستان پر دباؤ ڈالنا ہے بلکہ اپنی سرزمین پر سرگرم ٹی ٹی 
پی کے تحفظ کو بھی برقرار رکھنا ہے۔پاکستان کے خلاف پھیلایا جانے والا ‘‘داعش کا خطرہ’’ دراصل ایک چال ہے تاکہ دنیا کی توجہ طالبان کے اپنے گناہوں سے ہٹائی جا سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ افغان سرزمین گزشتہ کئی برسوں سے مختلف دہشت گرد گروہوں کا گڑھ بن چکی ہے، جہاں سے پاکستان کے سرحدی علاقوں میں مسلسل حملے کیے جاتے ہیں۔ طالبان حکومت نے نہ صرف ٹی ٹی پی کے ٹھکانے برداشت کیے بلکہ انہیں سیاسی اور عسکری تحفظ بھی فراہم کیا۔ اس کے برعکس پاکستان نے ہر فورم پر واضح کیا کہ وہ افغانستان کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے اور افغان عوام کی آزادی و استحکام کے لیے ہمیشہ مددگار رہا ہے۔ پاکستان وہ ملک ہے جس نے افغان پناہ گزینوں کے لیے اپنی سرزمین، وسائل اور دل دونوں کھول دیئے۔ اس کے باوجود افغان حکومت کا یہ الزام کہ پاکستان ان کی خودمختاری تسلیم نہیں کرتا، نہ صرف بے بنیاد بلکہ اخلاقی دیوالیہ پن کی علامت ہے۔یہ صورتحال ایک سنگین سفارتی بحران کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ طالبان وفد کا مذاکرات میں غیر سنجیدہ رویہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ کسی حقیقی حل میں دلچسپی نہیں رکھتے بلکہ بین الاقوامی دباؤ کو کم کرنے کے لیے محض نمائشی مذاکرات کا سہارا لے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ طالبان کی داخلی سیاست بھی ان کے سخت گیر مؤقف کی بڑی وجہ ہے، کیونکہ وہ اپنی صفوں میں موجود شدت پسند عناصر کو خوش رکھنے کے لیے پاکستان مخالف بیانیہ اپنائے ہوئے ہیں۔ دوسری جانب پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات کو مثبت انداز میں آگے بڑھانے کی کوشش کی، لیکن جب دوسری طرف نیت ہی خراب ہو تو کسی بھی ڈائیلاگ کا نتیجہ نکلنا ممکن نہیں رہتا۔یہ امر قابل غور ہے کہ پاکستان کا مؤقف ابتدا ہی سے دوٹوک اور اصولی رہا ہے۔ پاکستان بارہا کہہ چکا ہے کہ وہ افغانستان کے ساتھ برادرانہ تعلقات چاہتا ہے، مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ طالبان رجیم اپنی سرزمین کو پاکستان دشمن عناصر کے لیے پناہ گاہ نہ بننے دے۔ ٹی ٹی پی ایک دہشت گرد تنظیم ہے جس نے پاکستان میں ہزاروں بے گناہ شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کو شہید کیا۔ اگر طالبان حکومت واقعی امن کی خواہاں ہے تو اسے ان عناصر کے خلاف سخت کارروائی کرنا ہوگی۔ مگر افسوس کہ اب تک طالبان نے اس حوالے سے کوئی عملی اقدام نہیں اٹھایا بلکہ الٹا پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی ہے۔اس رویے نے نہ صرف مذاکرات کی فضا کو زہر آلود کر دیا بلکہ دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کی بنیادیں بھی ہلا دیں۔ اگر طالبان واقعی اپنی خودمختاری کے تحفظ کے خواہاں ہیں تو انہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ خودمختاری دوسروں پر الزام تراشی سے نہیں بلکہ ذمہ داری کے ساتھ اپنے وعدوں کی پاسداری سے حاصل ہوتی ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ امن و استحکام کی پالیسی اپنائی ہے اور چاہتا ہے کہ افغانستان بھی اسی جذبے کے ساتھ آگے بڑھے۔ مگر اگر طالبان حکومت نے اپنی پالیسیوں پر نظرثانی نہ کی تو خطے میں امن کے تمام امکانات دم توڑ جائیں گے۔پاکستان اب مزید کسی دھوکے یا سیاسی کھیل کا شکار نہیں بنے گا۔ اسلام آباد کی پالیسی بالکل واضح ہے کہ وہ اپنی سرحدوں کی حفاظت، عوام کے تحفظ اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہر ضروری اقدام کرے گا، چاہے افغانستان کا تعاون حاصل ہو یا نہ ہو۔ پاکستان کی ریاست، افواج اور عوام ایک پیج پر ہیں اور کسی بھی خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ طالبان حکومت کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ پاکستان اب کسی بیرونی دباؤ میں نہیں آئے گا۔ مذاکرات کا تعطل طالبان کی ہٹ دھرمی اور دوغلے پن کا نتیجہ ہے، اور اس کی مکمل ذمہ داری طالبان رجیم پر عائد ہوتی ہے۔آج جب دنیا دہشت گردی کے خاتمے کے لیے متحد ہو رہی ہے، افغانستان کا دوبارہ دہشت گرد گروہوں کے لیے پناہ گاہ بن جانا نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے خطرہ ہے۔ طالبان حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اگر اس نے اپنی سرزمین سے دہشت گرد عناصر کا خاتمہ نہ کیا تو وہ عالمی تنہائی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان اپنی پالیسی پر قائم رہے گا اور اپنے عوام کی حفاظت کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا، کیونکہ قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔ استنبول مذاکرات کا ناکام ہونا دراصل طالبان حکومت کے رویّے کا آئینہ ہے، جس میں الزام تراشی، دوغلا پن اور بدنیتی کے سوا کچھ نہیں۔ پاکستان نے اپنا کردار ادا کر دیا، اب دنیا پر ہے کہ وہ اس حقیقت کو پہچانے کہ خطے کے امن کا سب سے بڑا دشمن کون ہے۔

ٹیگز: