Wed, September 16, 2026

چین کی نئی ایجاد، صرف ذہنی اشاروں سے روبوٹ چلانا ممکن

چین کی نئی ایجاد، صرف ذہنی اشاروں سے روبوٹ چلانا ممکن

بیجنگ: چین نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ایک اور نمایاں کامیابی حاصل کرتے ہوئے ایسی جدید ٹیکنالوجی پیش کی ہے، جس کی مدد سے انسان کسی قسم کی سرجری یا دماغ میں چِپ لگوائے بغیر صرف اپنے ذہنی اشاروں سے روبوٹ کو ہدایات دے سکتا ہے۔

یہ منفرد نظام شنگھائی میں منعقد ہونے والی ورلڈ اے آئی کانفرنس 2026 کے دوران چینی ٹیکنالوجی کمپنی برین کو نے متعارف کرایا۔ کمپنی کے مطابق اس ٹیکنالوجی میں صارف کو صرف ایک ہلکا وزن والا ہیڈ سیٹ پہننا ہوتا ہے، جو دماغ سے خارج ہونے والے برقی سگنلز کو ریکارڈ کرتا ہے۔ بعد ازاں مصنوعی ذہانت ان سگنلز کی تشریح کرکے صارف کے ارادے کو سمجھتی ہے اور روبوٹ کو مطلوبہ عمل انجام دینے کا حکم دیتی ہے۔

اس ٹیکنالوجی کے عملی مظاہرے میں ایک روبوٹک بازو نے محض صارف کے ذہنی تصور کی بنیاد پر کپ اٹھا لیا، جس نے شرکا کی توجہ حاصل کر لی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہی نظام مستقبل میں روبوٹک بازوؤں کے علاوہ انسانی شکل والے روبوٹس اور روبوٹک کتوں کو بھی کنٹرول کرنے کے قابل ہوگا۔

برین کو کے مطابق اس نظام کو استعمال کرنے کے لیے کسی خاص مہارت کی ضرورت نہیں، بلکہ پہلی بار استعمال کرنے والا شخص بھی تقریباً دس منٹ کی مختصر تربیت کے بعد روبوٹ کو اپنے خیالات کے ذریعے چلانا سیکھ سکتا ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی اور ایلون مسک کی کمپنی نیورالنک کے نظام میں بنیادی فرق یہ ہے کہ نیورالنک میں دماغ کے اندر چِپ لگانے کے لیے سرجری کی جاتی ہے، جبکہ برین کو کا نظام مکمل طور پر بیرونی ہیڈ سیٹ کے ذریعے کام کرتا ہے اور اس میں کسی آپریشن کی ضرورت پیش نہیں آتی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ ٹیکنالوجی آئندہ برسوں میں کامیاب اور قابلِ اعتماد ثابت ہوئی تو جسمانی معذوری کا شکار افراد مصنوعی اعضا، روبوٹک بازو اور وہیل چیئرز کو صرف اپنے ذہنی اشاروں سے استعمال کر سکیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ صنعت، تحقیق اور روبوٹکس کے مختلف شعبوں میں بھی انسان اور مشین کے درمیان رابطے کو مزید تیز، آسان اور مؤثر بنایا جا سکے گا۔

واضح رہے کہ برین کو کا قیام 2015 میں عمل میں آیا تھا اور اسے چین کی ابھرتی ہوئی جدید ٹیکنالوجی کمپنیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اگرچہ کمپنی نے اسے دنیا کا پہلا مربوط "برین ٹو روبوٹ" نظام قرار دیا ہے، تاہم اس دعوے کی ابھی تک آزاد سائنسی ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔ ماہرین کے مطابق اس ٹیکنالوجی کی حقیقی کارکردگی اور وسیع پیمانے پر اس کے استعمال کا اندازہ مزید تحقیق اور آزاد تجربات کے بعد ہی لگایا جا سکے گا۔

ٹیگز: