محمد نواز شریف نے نعرہ مستانہ بالآخر بلند کر ہی دیا کہ عمران خان کو لانے والوں کا بھی احتساب ہونا چاہئے۔ بات تو درست ہے اصولی طور پر بھی اور منطقی انداز میں سوچنے کا نتیجہ بھی ایسا ہی ہو سکتا ہے۔ عمران خان ایک سکیورٹی تھریٹ بن چکے ہیں۔ انہوں نے گالی گلوچ، مارکٹائی کے کلچر کو فروغ دے کر نوجوان نسل کو جس راہ پر لگایا ہے۔ وہ تباہی و بربادی کی طرف لے جانے والی ہے۔ سیاست میں انہوں نے عدم رواداری کو رواج دے کر ہمارے بچے کھچے اور لٹے پٹے معاشرے کی بچی کھچی روایات کا بھی جنازہ نکال دیا ہے۔ یہ عمران خان کی شعلہ بیانیوں کا نتیجہ تھا کہ ریاست پر حملہ کیا گیا۔ 29 مئی کے افسوسناک واقعات ہوئے، ملک افتراق و انتشار کی طرف دھکیلا گیا۔ یہ تو فوجی قیادت کی دور اندیشی اور بالغ نظری تھی کہ انہوں نے ری ایکٹ نہیں کیا اور فسادی و انتشاری قیادت کے خون خرابے کے منصوبے خاک میں مل گئے۔ بہرحال عمران خان اور ہمنوا مکافات عمل کا شکار ہو کر سزا بھگت رہے ہیں۔ فوج جنرل فیض حمید کے ساتھ بھی اپنے قوانین کے مطابق نمٹ رہی ہے، جہاں تک نواز شریف کے بیان کا تعلق ہے کہ عمران خان کو لانے والوں کا بھی احتساب ہونا چاہئے۔ اصولی طور پر درست ہے کیونکہ پراجیکٹ عمران خان کسی ایک بندے کا منصوبہ نہیں تھا ہاں کسی ایک بندے کا خیال ہو سکتا ہے لیکن اسے بہت سوں نے مل جل کر مکمل کیا تھا، اس لیے ”لانے والوں کا احتساب“ سیدھا سادہ کام نہیں ہو گا اس میں بہت سے لوگ مجرم قرار پا سکتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا حالات جاریہ میں ایسا ہونا ممکن ہے تو اس کا جواب ہے نہیں۔ پاکستان اس وقت داخلی و خارجی طور پر مشکلات کا شکار ہے۔ حالت جنگ ہے، اندرون ملک سیاسی انتشار پایا جاتا ہے۔ انتشاری ٹولہ فکری و عملی انتشار پھیلانے میں مصروف ہے۔ فتنہ الخوارج نے بھی اندرون ملک دہشت گردی پھیلا رکھی، مسلح افواج ان کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹ رہی ہیں۔ قربانیوں کی بھی ایک شاندار داستان رقم کی جا رہی ہے لیکن انتشاری ٹولہ فکری ابہام پیدا کرتا رہتا ہے۔ اندرون ملک فکری ہم آہنگی نہیں پائی جاتی، معاملات ویسے نہیں جیسے ہونے چاہئیں۔ بیرونی سطح پر طالبان، کابلی طالبان پاکستان کے خلاف عملاً سرگرم ہیں۔ انہوں نے پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کے ساتھ باقاعدہ معاملات طے کر لیے ہیں، ویسے تو کسی بھی ملک کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے قومی و ملکی مفادات کے حصول کے لئے کسی دوسرے ملک کے ساتھ معاہدے کرے لیکن افغان، بھارت معاہدے پاکستان کو نقصان پہنچانے کے نقطہ نظر سے کیے جا رہے ہیں۔ دہشت گرد گروہوں کو پناہ دی جا رہی ہے، کہنے کو تو یہ بھی ان کا حق ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر جس کو چاہیں مہمان بنائیں لیکن اگر مہمان اُٹھ کر دوسرے ملک پر حملہ آور ہو تو اسے روکنا بھی میزبان کا فرض ہے جو طالبان حکومت ادا نہیں کر رہی۔ پاکستان اندرونی و بیرونی طور پر مشکلات کا شکار ہے۔ عسکری سطح پر شاندار کامیابیاں ہمارے حصے میں آئی ہیں، بھارت شکست کھا چکا ہے۔ فکری و عملی دونوں محاذوں پر اسے ذلت کا سامنا ہے۔ رافیل کی ہزیمت کا ڈھنڈورا ابھی جاری تھا کہ تیجس کی بربادی دنیا کے سامنے آ گئی۔ ہمارا دشمن جو ہم پر حملے کی تیاری کر رہا تھا، اسے اپنے آپ سے ہی ہزیمت کا سامنا کرنا پڑ گیا۔ یہ اللہ کی کرم نوازی بھی ہے کہ پاکستان نے دفاعی اعتبار سے دشمن بھارت پر ہی نہیں بلکہ دنیا پر اپنی دھاک بٹھا دی ہے۔ اس حوالے سے قوم مکمل طور پر یکسو اور مطمئن دکھائی دے رہی ہے۔ دوسری طرف ہماری سیاسی کمزوری کے اثرات ہماری معیشت پر نظر آ رہے ہیں۔ حکومت کی سفارتی محاذ پر شاندار کامیابیوں کے باوجود قومی معیشت پر بہتری کے اثرات نظر نہیں آ رہے۔ فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ کی عدم موجودگی نے معاشی پھیلاو¿ کی راہیں مسدود کر رکھی ہیں۔ توانائی کی بلند قیمت کے باعث پیداواری مصارف بلند ہیں جس کے سبب درآمدی اشیا کی لوکل مارکیٹ میں بہتات ہے۔ اندرون ملک چھوٹی موٹی صنعتیں بند ہو رہی ہیں، بیروزگاری پھیل رہی ہے۔ معاشی پھیلاو¿ نہ ہونے کے سبب ٹیکس وصولیاں نہیں ہو رہیں، جس کے باعث حکومت پہلے سے ہی پسے ہوئے عوام پر مزید ٹیکس لگا کر اہداف پورے کرنے میں مصروف ہے۔ ٹریفک چالانوں کی شرح میں اضافہ، ٹول ٹیکس کی شرح میں اضافہ، عوامی سہولیات کی قیمتوں میں اضافہ غرض ہر شے اور ہر خدمت پر بلا تفریق و بلاتمیز ٹیکس لگائے جا رہے ہیں جس سے نہ صرف عوام کی قوت خرید گھٹتی چلی جا رہی ہے بلکہ غربت میں بھی اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ بحیثیت مجموعی ملک میں مایوسی و ناامیدی کا چلن عام ہو رہا ہے۔ نوجوان اپنے حال سے مایوس اور مستقبل سے ناامید ہیں، جسے موقع مل رہا ہے وہ یہاں سے نکلنے کو ترجیح دے رہا ہے۔ معاملات بحیثیت مجموعی تسلی بخش نہیں بلکہ تشویشناک ہیں، ایسے میں ”لانے والوں کا احتساب“ کسی طور بھی دانشمندانہ فیصلہ نہیں ہو گا۔ ویسے لانے والوں کے احتساب کے حوالے سے بھی ہمارے ہاں یکسوئی یا فکری ہم آہنگی نہیں پائی جاتی ہے۔ نواز شریف نے اپنے دور میں جنرل مشرف کا احتساب کرنے کی کوشش کی تھی لیکن وہ پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکا۔ ان کی بات جزوی طور پر درست ہے کہ عمران خان کو لانے والوں کا احتساب ہونا چاہئے۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ پھر انہیں لانے والوں کا بھی احتساب ہونا چاہئے۔ دراصل احتساب کا یہ سلسلہ تو میجر جنرل سکندر مرزا تک دراز ہونا چاہئے جس نے سیاست میں ریاست کی مداخلت کی بنیاد رکھی۔ یہاں ریاست سے مراد فوج ہے اس سے پہلے ملک غلام محمد کو بھی اسی کٹہرے میں کھڑا کیا جانا چاہئے جس نے سیاست میں ریاست کی مداخلت کی بنیاد رکھی یہاں ریاست سے مراد افسر شاہی/ بیوروکریسی ہے۔ جنرل ایوب خان،
جنرل یحییٰ خان، جنرل ضیاءالحق اور جنرل مشرف یہ سب اس احتساب کی زد میں آ سکتے ہیں، جس کا مطالبہ نواز شریف کر رہے ہیں۔ یہی جرنیل تھے جنہوں نے سیاسی حکومتوں کا تختہ الٹا اور اقتدار پر قبضہ کیا۔ سیاست میں ریاست داخل کی عوامی خواہشات کے برعکس حکمرانی کی لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ان تمام فوجی حکمرانوں کو سیاستدانوں نے ہی سہارا دیا، ویلکم کیا۔ ان کی حکمرانی کو کامیاب یا ناکام بنایا۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ مشرف کے ہاتھوں نواز شریف حکومت کے خاتمے کو بے نظیر بھٹو اور نوابزادہ نصر اللہ خان نے ویلکم کیا تھا، اس سے پہلے جنرل ضیاءالحق کے ہاتھوں بھٹو حکومت خاتمے پر بی این اے نے حلوے کی دیگیں نہیں بانٹی تھیں۔ اب فوج نے بطور ادارہ سیاست میں مداخلت سے پرہیز کا عہد کیا ہے۔ یہ عہد جنرل باجوہ کی قیادت میں فوج نے بطور ادارہ کیا تھا، جس پر فوج کی موجودہ قیادت بھی کاربند ہے اس لئے میرے خیال میں لانے والوں کے احتساب کا باب تو بند ہی سمجھنا چاہئے۔ یہ وقت کی آواز بھی ہے اور حالات کا تقاضا بھی۔ ہمیں کوئی ایسا دروازہ نہیں کھولنا چاہئے جو مزید کسی انتشار کا باعث بنے۔