Wed, September 16, 2026

ہوئے تم مسیحا جن کے

ہوئے تم مسیحا جن کے


 جب سوشل میڈیا نہیں تھا،خبریں پرنٹ میڈیا اور ریاستی ٹی وی کی وساطت سے عوام تک پہنچتی تھیں،سرکاری ادارے اس قدر محتاط رہتے کہ کہیں ان کے شعبہ کے خلاف کوئی خبر نہ شائع ہو جائے،اس کے باوجود کبھی کبھی خبر شائع ہو جاتی کہ آپریشن کے دوران ڈاکٹر تولیہ یا قینچی مریض کے پیٹ میں بھول گیا،ظاہر ہے اُس وقت آپریشن تھیٹر ز میں اتنی جدت نہیں پائی جاتی تھی،لوڈشیڈنگ کے عذاب کا سامنا بھی تھا، عمومی طور پر آپریشن تھیٹر کے ٹیکنیشن یا جونیئر ڈاکٹر سے یہ غلطی سرزہوتی ،جب سرجن فراغت کے بعد مریض کو ٹانکے لگانے کی ذمہ داری ان پر ڈال دیتے۔ میڈیکل شعبہ میں تحقیقی عمل جاری ہے، بیماری کی تشخیص قدرے آسان ہے ،باوجود اس کے بہت سی سنگین غلطیاں سرزد ہوتی ہیں ،جس کی سزا مریضوں کو ملتی ہے ، ساری زندگی اپنے مسیحا کی لاپروائی کی قیمت انھیں ادا کرنا پڑتی ہے، حلقہ احباب میں سے ایک گویا ہوئے کہ انکی بہن گائنی کے عارضہ میں مبتلا تھیں، ایک پرائیویٹ ہسپتال میں ان کا آپریشن ہوا، لیڈی ڈاکٹر نے اس دوران ایسی غفلت کا مظاہرہ کیا، کہ وہ مریضہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بانجھ ہوگئی،جس نے اس امید سے آپریشن کرایا کہ وہ اولاد جیسی نعمت سے سرفراز ہوگی۔
 ایک دوست نے بتایا کہ گذشتہ رات انھیںپیٹ میں شدید درد ہواہے، گھر والوں کی مشاورت سے رات کے آخری پہر کسی پرائیویٹ ہسپتال جانے کافیصلہ کیا،وہاں موجود عملہ نے مریض کی ہسٹری اور ٹیسٹ لینے کے بعد کہا کہ آپ کو یہ درد پتے میں پتھری کا ہے لہذا بہتری اسی میں ہے کہ آپ فوراً آپریٹ کرا لیں ہسپتال انتظامیہ نے اس کا خرچ بھی بتادیا، جو ہزاروں روپے میں تھا، حکم صادر ہوا کچھ رقم جمع کرا دیں، مریض کی بیٹی نے حال ہی میں ہاﺅس جاب بھی مکمل کیا تھا، انھوں نے اصرار کیا کہ آپ میڈیسن ہی دیں، اگر آرام نہ آیا تو پھر آپ سے رجوع کریں گے،دور روز تک انھوں نے دوالی اور پھرایک اور ڈاکٹر سے رائے لی اور معروف کلینک سے الٹرا ساﺅنڈ اور دیگر ضروری ٹیسٹ بھی کرا لئے ان کے پتے میں کسی بھی قسم کی کوئی پتھری نہیں تھی، دوسرے ڈاکٹر کی رائے تھی کہ درد کا سبب پتہ نہیں ہے۔
اسی قسم کا واقعہ ایک دوست کی مسز کے ساتھ پیش آیا، وہ بھی درد کی حالت میں ایک نجی ہسپتال آئیں، انھیں بھی کہا گیا کہ ان کے پتہ میں پتھری ہے، درد میں آفاقہ صرف آپریشن کی صورت میں ممکن ہے،ورثا ءنے ڈاکٹر کی بات پر یقین کرتے ہوئے، آپریشن کرانے پر آمادگی ظاہر کردی، کچھ دن کے جب پین کلرز ادویات کا اثر ختم ہوا، تو پھر سے اسی طرح کا درد ہونا شروع ہوا، دوبارہ انھیں سے رابطہ کیا اور دوسرے ڈاکٹر سے بھی رائے لی انھوں نے بھی کئی ٹیسٹ کرا دیئے جس میں ”ویٹ الرجی“ کا ٹیسٹ بھی شامل تھا ،جب اسکی رپورٹ آئی ،تو وہ پازیٹو تھی، مریضہ کو گندم سے الرجی کا عارضہ تھا، مگر ڈاکٹر کی لاپروائی کی وجہ سے وہ پتے جیسے قدرتی اعضاءاورنعمت سے محروم ہوگئی، اب مریضہ کو نئی پےچیدگیوں کا سامنا تھا۔
ماہرین طب کا خیال ہے کہ پرائیویٹ سیکٹر میں کوئی ریگولرائزیشن نہیں ہے، کوئی ضابطہ کار طے نہیں ہے، اس وجہ سے طب سے متعلق افراد لاقانونیت کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت نے ریاست میں ایک ماہ کی کم عمر میں675بچے اور27 مائیں صحت کی قابل انسداد پیچیدگیوں کے باعث موت کے منہ میں جانے پر تشویش کا اظہار کیا ،پرائیوئٹ سیکٹر میں ہر ہسپتال میں سرجری کے نرخ مختلف ہیں، ڈاکٹرز کا مہنگی ادویات لکھنے ،من پسند لیبارٹری سے ٹیسٹ کرانے کی بابت سماج میں تحفظات ہیں، ایک رپورٹ میں بتایا گیا فارماسیوٹیکل کمپنیز نے ادویات بیچنے کے عوض ڈاکٹر ز کو ”فری عمرہ“ کا پیکیج بھی متعارف کرا دیا ہے۔
 طب سے متعلق افرادبازپرس سے اس لئے بھی محفوظ ہیں کہ آئین پاکستان اب بھی صحت کو بنیادی حق کے طور پر تسلیم نہیں کرتا،صحت کا ذکر آرٹیکل38 میں پالیسی اصول کے طور پر کیا ہے جبکہ عالمی سطح پرانسانی صحت کو بنیادی حق کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے، پاکستان برائے انسانی حقوق کمیشن نے انسانی صحت کو بنیادی حق کے طور پر تسلیم کرنے اور شعبہ صحت کا بجٹ میں دس فیصد مختص کرنے کا مطالبہ کیا ہے، اس وقت صحت کا بجٹ خطہ میں سب سے کم ہے، ترقی پذیر ممالک جی ڈی پی کا 6فیصد مقرر کرتے ہیں۔
سرکاری پارٹی کے ممبر صوبائی اسمبلی جن کا تعلق ٹوبہ ٹیک سنگھ سے ہے انھوں نے اسمبلی کے فلور پر سوال اٹھایا ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کو دی جانے والی ادویات سستی ہیں، مریض کوفائدہ نہیں ہوتا، باہر سے ادویات منگوانے کی ممانعت ہے، یوں مریض اور لواحقین بے بس ہیں، سیریس مریض مر رہے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ وہ پنجاب سرکار کے اس حکم نامہ سے پہلے اور بعد کے اعداد وشمار مریضوں کے منگوائیں گے اور دیکھیں گے کہ سستی ادویات سے کتنے مریض وفات پا چکے ہیں۔
دل کے عارضہ میں مبتلا مریضوں کو اگر سرجری کی ضرورت ہو تو انھیں طویل انتظار کرنا پڑتا ہے،اس میں سب سے زیادہ متاثر سماج کا پسماندہ اورکمزور طبقہ ہوتا ہے، ارض وطن میں ذہنی مسائل کا شکار افراد کی تعداد کروڑوں میں ہے، سرکار کی اس جانب کوئی توجہ نہیں ہے جبکہ ماہر نفسیات کی تعداد انتہائی کم ہے، اس مرض کی ادویات بھی بہت مہنگی ہیں۔ذہنی امراض کی بڑی وجہ مہنگائی، بے روزگاری،جہالت، ناانصافی، لا قانونیت اور سماجی اور معاشی تفاوت ہے، جس کے سد باب کی ذمہ داری سرکار پر عائد ہوتی ہے۔
سرکار کی بہتر صحت پالیسی تو یہ ہونی چاہئے کہ لوگوں کو بیمار ہونے سے بچایا جائے،لیکن جس ریاست میں پارکوں پر قبضہ کیا جاتا رہا ہو، آلودگی،گندا پانی، سیوریج کا ناقص سسٹم موجود ہو وہاں وبائی امراض کا بڑھنا کوئی بڑی بات نہیں ہے، دوسری طرف مہنگے علاج کے خوف سے عوام اتائیوں کے کلینک اور دم ،تعویذ گنڈے کو غنیمت سمجھتے ہیں وہاں صحت کو کیونکر بنیادی حق تسلیم کیا جائے گا؟ ۔
 عوام کے مسیحاﺅں کو پوراعلم ہے کہ انکی حماقتوں کی قیمت مریضوں اور ان کے لواحقین نے ادا کرنی ہے، انھیں آئینی اور قانونی طور پر سزا نہیں مل سکتی ہے، علاج کو بنیاد بنا کر مریض سے پیسہ بٹورنے کے لئے وہ اعضا بھی نکال باہر کرتے ہیں جو درست ہوتے ہیں۔ صوبہ پنجاب شعبہ طب ہی کو آوٹ سورس کررہاہے جو معمولی تحفظ مریضوں کا حاصل تھا اس بھی محروم وہ ہوگئے ڈاکٹرز کی بے روزگاری اس کے علاوہ ہے۔

ٹیگز: