Wed, September 16, 2026

ویل ڈن نواز شریف

ویل ڈن نواز شریف


یہ اُس زمانے کی بات ہے جب ضیائی مارشل لاءپوری وحشت کے ساتھ پاکستان کے طول وعرض میں اپنے تاتاری مشن پر تھا ۔ہمارے سکول کا زمانہ تھا اورافغانستان میں ابھی روسی فوجیں نہیں آئی تھیں۔ پاکستان بھر میں صرف ایک موضوع تھا جو اُن ہوٹلوں پر سب سے زیادہ زیر بحث رہتا تھا جہاں لکھا ہوتا کہ ”یہاں سیاسی گفتگومنع ہے“ یہ جملہ بھی عمر ایوب کے دادا مسٹر ایوب خان کی دین ہے اور آج بھی لاہور کے کئی ہوٹلوں پر لکھا مل جاتا ہے ۔”بھٹو کا کیا بنے گا؟“اس ایک جملے نے پوری قوم کو اپنے حصار میں لے رکھا تھا ۔بھٹو کے دوست اورمخالف سب اسی ایک موضوع کے گرد گھوم رہے تھے ۔ لوگ شادی بیاہ سے بھی گفتگو شروع کرتے تو بات بھٹو اور ضیاءالحق پر ختم ہوتی ۔جن لوگو ں نے لاہور بورڈ سے 1979ءمیںمیٹرک کا امتحان آرٹس میں پاس کیا ہے وہ جانتے ہیں کہ اُس دن جنرل سائنس کا آخری پیپر تھا جب ذوالفقار علی بھٹو کے قتل کا ضمیمہ لاہور کی سڑکوں پر بک رہا تھا ۔افغانستان کی جنگ بھٹو کو نگل گئی کیونکہ افغانستان میں روسی فوجیں 27دسمبر 1979ءکو اگلے دس سال کیلئے پہنچی تھیں ۔افغان وار عالمی سرمایہ داری کا ایجنڈا تھا جس کا پہلا بڑا مقصد روس کے ٹکرے کرنا تھا جس میں وہ کامیاب بھی ہوئے اور ہنری کسنجر مرحوم نے ازاں بعد اُس کا اعتراف بھی کیا ۔پاکستان میں ایک طبقہ پیدا ہو گیا جس کا بیانیہ تھا کہ بھٹو کے نام لیوا بھی ختم جائیں گے لیکن انہیں کیا معلوم تھا کہ پھل تو فطرت برے درخت کا بھی پیدا ہونے سے نہیں روکتی چہ جائیکہ اچھے درخت کا پھل پیدا ہونا بند ہوجائے ۔ یہ تاریخی سچ ہے کہ سیاست میں وراثت نہیں اہلیت ہوتی ہے جو اہل ہو وہ خو د ہی وارث بن جاتا ہے ۔بھٹو کے بعد محترمہ بے نظیربھٹو نے یہ بات ثابت کردی حالانکہ بھٹو کی دوسری اولاد بھی موجود تھی ۔ایوب خان ¾ جنرل غلام عمر ¾ جنرل امتیاز ورائچ ¾جنرل ضیاءالحق اوردوسرے ایکس سروس مین کے بچے عشق ِ عمران میں غرقاب آج بھی اُس شجرِ عسکری کو کاٹنے کے درپہ ہیں جس کے سائے اور پھل نے انہیں پالا پوسااور اِس سماج میں شناخت دی ورنہ اُن کی صلاحیتیں تو عام سیاسی ورکر سے ہرگز زیادہ نہیں ہیں۔بڑے شجروں کا بھی یہی حال ہے مثلا اگر ولیداقبال جناب علامہ اقبال کا پوتا نہ ہوتا تو اُس کا سینٹر بننے کا خواب قومی اسمبلی کا ممبر بننے کی طرح بار بار ٹوٹتا رہتا ¾ بہرحال اس سے یہ بات تو ثابت ہوتی ہے کہ ریاست سے وفاداری کیلئے ریاستی خرچے پر پلنا ضروری نہیں ہوتا ۔نواز شریف کے نام سے میری پہلی واقفیت میرے مرحوم کزن ایم ۔ٹی بٹ (محمد طارق بٹ) کی وساطت سے ہوئی جو اسی کی دہائی کے آغاز میں دن رات میاں نواز شریف کے ساتھ ہوا کرتا تھا اوراُس نے گوالمنڈ ی میںمیاں محمد نواز شریف کی مسلم لیگ کے سو سے زیادہ دفاتر کھُلوائے ۔ایم ٹی بٹ کٹر کشمیر اور کشمیری پرست تھا۔ یہی واحد وجہ اُسے میاں محمد نواز شریف کے قریب لے گئی ۔
میاں محمد نواز شریف کی سیاست صوبائی وزیر خزانہ سے لے کر اسدگیلانی کے خلاف این اے 95لاہور اور وہاں سے ہوتی ہوئی ڈاکٹر یاسمین راشد تک آج بھی میرے فنگر ٹپس پر ہے ۔میاں محمد شہباز شریف کا پنجاب کارپٹ کے آفس سے شروع ہونےوالا سفر 1فرید کورٹ روڈ سے ہوتا ہوا جس طرح اقتدار میں پہنچا میری آنکھوں کے سامنے ہے ۔انواراے شیح ¾ڈاکٹر مخدومی ¾ غیورقریشی ¾ سہیل بٹ راڈو والا ¾ طارق پانڈہ مقتول ¾ مقصود عرف سعودہ کونسلرمقتول ¾منڈی ڈھاباں سنگھ کا چھبہ ڈوگر ¾ماموں حمید بٹ کے بیٹے اور انگنت سیاسی ورکر جن میں ماجد ظہور ¾ ندیم موٹا مرحوم جو ازاں بعد نائب تحصیلدار بھرتی ہو گیا۔ لاتعداد چہرے ہیں جویاد آتے ہیں تو ایک مکمل ماضی کتابی شکل میں میرے سامنے کھل جاتا ہے ۔ 1985ءسے لے کر میاں نواز شریف کے آخری الیکشن تک میاں نواز شریف کے حلقہ انتخاب میںایک امیدوار بھی ایسا نہیںآیاجو انتخابی حلقے میں میاں نواز شریف سے زیادہ مقبول ہو ۔رہی بات ڈاکٹر یاسمین راشد کی تو وہ صرف اُسی پروپیگنڈا کا حصہ ہیں جس نے پاکستان بھر میں راج کیا ہے ۔2013ءسے لے کر 2018ءکے انتخابات تک تو ڈاکٹر یاسمین راشدکے انتخابات کا میں کمپین انچارج رہا ہوں کیونکہ پی ٹی آئی کے انٹر اپارٹی الیکشن میں داتا گنج بخش ٹاﺅن جس میں یہ انتخابی حلقہ ہے ¾ کا میں منتخب صدر تھا سو محترمہ ڈاکٹر صاحبہ کو انتخاب لڑانا میری ذمہ داری تھی ¾ الیکشن کے بعد بانی چیئرمین کو بھیجی جانے والی رپورٹ میں ہر بار ہارنے کی وجوہات کا ذکر موجود ہے جس میں ایک وجہ میاں نواز شریف کے ساتھ اس حلقہ کے عوام کی جڑت ہمیشہ سرِ فہرست رہی ۔
ضمنی انتخابات میں نون لیگ کے کلین سوئپ کرنے کے بعد میاں محمد نواز شریف نے منتخب اراکین سے ملاقات میں عمران نیازی کو اقتدار میں لانے والوں کی سزا کامطالبہ کرکے ایک بار پھر مجھے تو متاثر کیا ہے لیکن کیا میاں محمد نواز شریف ”ووٹ کو عزت دو“ کے بیانیے کی طرح اس سے انحراف تو نہیں کریں گے؟ باجوہ ¾ فیض حمید اور عمران نیازی کی تثلیث نے جس طرح پاکستان کے اداروں اور اپنے مخالفین کو مصلوب کرنے کی سازش کی ہے وہ اب ڈھکی چھپی بات نہیں اورمیں نے تو دو سال پہلے ہی لکھ دیا تھا کہ باجوہ اور فیض حمید کو سزا دیئے بغیر عمران نیازی کی سزا جسٹیفائی نہیں ہو گی بلکہ شاید اسے عمران نیازی کے ساتھ ظلم اور زیادتی سمجھا جائے گا ۔سیاسی قائدین کو ایک تواتر اور تسلسل کے ساتھ پھانسیاں ¾ قیدیں ¾ جلا وطنیاں اور جلسہ گاہوں میں شہادتوں نے عوام کے ذہن میں یہ سوال تو پیدا کر دیا ہے کہ ہر بار سویلین ہی کیوں ؟نواز شریف کو حوصلے کے ساتھ آگے بڑھ کر اپنی قائدانہ صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے موجودہ حالات میں اپنا سیاسی فریضہ ادا کرنا چاہیے ۔اس ملک میں جاری بے چینی کے ایک لہر جو آج بھی عوام میں موجوہ ہے وہ صرف اور صرف عمران نیازی کے معاونوں ¾مددگاروں اورسہولت کاروں کی سزا کا مطالبہ کررہا ہے ۔ہم دنیا بھر کا ریسرچ ورک پڑھتے ہیں لیکن 9 مئی کرنے کیلئے جو معلومات درکار تھیں وہ کسی سویلین کے پاس تو ہرگز نہیں ہو سکتیں ۔ریاستِ پاکستان بچوں کا کھیل نہیں کہ یہ ہزاروں نہیں لاکھوں شہیدوں کی قربانیوں کا لازوال نتیجہ ہے ۔ امید تو یہ ہے کہ دسمبر میں استثنا کے اثرات آنا شروع ہو جائیں گے کہ چیف آف ڈیفنس فورسز کی طرف عوام دیکھ رہے ہیں اور عوام دیکھتے ہیں یا مایوس ہوتے ہیں اورمایوسی کا فائدہ اٹھانے والے لگڑ بھگے فصیل شہر سے پرے تاک لگائے بیٹھے ہیں ۔ میاںمحمد نواز شریف اگر اِن حالات میں آگے بڑھتے ہیں تو منفی پراپیگنڈا کے خاتمے کے ساتھ ساتھ حقیقی قومی رہنمائی کی ذمہ داری بھی پوری ہو سکتی ہے جس کی اشد ضرورت ہے ۔کم آن میاں صاحب۔

ٹیگز: