Wed, September 16, 2026

ایک پی ٹی وی کا دور بھی تھا

ایک پی ٹی وی کا دور بھی تھا

پاکستان کی ترقی اور کامیابی کے سفرکو دیکھا جائے تو پی ٹی وی کا بڑا کردار ہے۔ ماں دھرتی کے ڈراموں سے لے کر لازوال میوزک تک فنون لطیفہ سے کسان کھیلوں کے میدان تک ثقافتی ورثوں سے لے کر اداروں تک شخصیات سے لے کر ہرشعبہ پر بننے والی ڈاکومینٹریز معاشرے کے تمام طبقات پر پروگرامز اور یہ وہ دور تھا جب پی ٹی وی جہاں ایک ادارے تو دوسری طرف ایک اکیڈمی کا کردار بھی نبھا رہا تھا۔ تاریخی روایات، تاریخی منظر نامے، تاریخی ثقافتی، ادبی اور فنی پروگرام گو وقت بدلا، زمانے نے کروٹ لی تو آج بے شمار چینلز ہیں مگر پاکستان کے حوالے سے جو پی ٹی وی نے کردار ادا کیا وہ کوئی اور نہ کرسکا اس دور کے منظر نامے میں صرف اور صرف اکلوتا ٹی وی تھا اور دیکھا جائے تو پی ٹی وی تو آج بھی بھاری ہے۔ ان سیکڑوں چینلز کے مقابلے میں… آج بھی پاکستان کی جو تصویر پی ٹی وی دکھا رہا ہے وہ کوئی بھی بڑا چینل کمی پوری کرنے سے قاصر ہے۔ اگر میں یہ کہوں کہ بطور صحافی میرا دور میڈیم پی ٹی وی ہے تو بے جاء نہ ہوگا۔ 1978ء سے 1998ء تک میں نے پی ٹی وی میں بہت وقت گزارا اور پی ٹی وی کے لاتعداد ڈراموں کی ریہرسل، ڈرامہ کی ریکارڈنگ اور دوسرے پروگرامزکا چشم دید گواہ ہوں… آج کل اپنی یادوں کے حوالے سے اپنے کالموں میں ماضی کے بہت سے واقعات رپورٹ کر رہا ہوں۔ آج کے کالم میں بھی وہی حوالے وہی یادیں وہی باتیں اور واقعات ،آج ذکر ہوگا میوزک کاجس کی تاریخ صدیوں پرمحیط ہے ایک دور تھا جب پاکستان میں پاپ میوزک گانا برا تصور ہوتا۔ بے شمار گلوکار اور گلوکارائیں آئیں انہوں نے گایا بھی مگر وہ پاپ میوزک کے قریب نہ گئے پھراس پی ٹی وی نے پاپ میوزک گانے والوں کا راستہ کھولا۔ پاکستان میں پاپ موسیقی کو زندہ رکھنے اور بام عروج تک پہنچانے میں جن دو سنگرز کا سب سے زیادہ کرداررہا وہ بلا شک و شبہ نازیہ حسن اور زوہیب حسن تھے۔ حسین چہرہ، دلکش آواز اور منفرد انداز والی نازیہ حسن جس کے پاپ گیتوں سے ہمارا بچپن، لڑکپن اور جوانی بھری پڑی ہے۔ ’’کوئین آف ساؤتھ ایشین پاپ‘‘ کہلانے والی نازیہ حسن بلاشبہ پاپ میوزک کی ملکہ رہی۔ 1980ء میں فیروز خان کی فلم ’’قربانی‘‘ کے لئے ’’آپ جیسا کوئی میری زندگی میں آئے‘‘ گانے کے لئے ان کو موقع دیا۔ یہ گیت راتوں رات نازیہ کو شہرت کی بلندیوں تک لے گیااورنازیہ نے پہلے ہی گیت سے انڈیا کا سب سے بڑا فلم فیئر ایوارڈ صرف 15سال کی عمر میں حاصل کرلیا جو بذات خود ایک ریکارڈ ہے جو ابھی تک کوئی اور نہیں توڑ سکا۔نازیہ حسن کے ساتھ ان کا بھائی زوہیب حسن بھی میوزک کمپوزنگ اورگانے میں دلچسپی رکھتا تھا۔ وہ بھی اپنی بہن ہی کی طرح خوبصورت چہرے اور آواز کا مالک تھا چنانچہ اگلے ہی سال نازیہ اور زوہیب نے بدو کے ساتھ مل کر ’’ڈسکو دیوانے‘‘ ریلیز کیا۔ یہ کسی بھی پاکستانی پاپ سنگر کا پہلا البم تھا جس نے پوری دنیا میں کامیابیوں کے جھنڈے گاڑ دیئے اور اس زمانے میں انڈیا، پاکستان، مڈل ایسٹ، ویسٹ انڈیز، امریکا اور رشیا میں اس البم کی لاکھوں کاپیاں فروخت ہوئیں اور نازیہ زوہیب ایک پاپ آئیکن بن گئے۔ ’’آو نہ پیار کریں‘‘، ’’لیکن میرا دل رو رہا ہے‘‘، ’’تیرے قدموں کو چوموں گا‘‘ اور ٹائٹل سانگ ’’ڈسکو دیوانے‘‘ غرضیکہ پورے البم نے دھوم مچا دی۔ 
اگر ان ڈسکو گیتوں سے پہلے والے موسیقی کے ماحول میں جاتے ہیں تو وہاں شاید ہی ایک آدھ فلم میں ڈسکو ٹائپ گانا ہوگا۔ فلم انڈسٹری کے آغاز سے فلم انڈسٹری کی بندش تک میرا نہیں خیال کہ پاکستان موسیقی کو طویل عرصہ غزل، گیت، طربیہ گیس اور نظم کو تو فلم میں گوایا… یہ حقیقت ہے کہ ڈسکو دیوانے کی مقبولیت کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ہمارے عوام کو ایک طویل عرصہ کے بعد ایک بڑی تبدیلی نظر آئی… پھر وہ دور بھی  مارشل لائی تھا۔ اسی دور میں جہاں ادب، ثقافت پر پابندیاں عائد ہوتیں، وہاں ملک میں ضیاء الحق کی اسلامائزیشن کے بعد پی ٹی وی پر بہت سخت پابندیاں عائد کر دی گئیں۔ تین گھنٹے کی فلم سنسر ہو کر پی ٹی وی پر ایک گھنٹے کی رہ جاتی (باقی ٹائم اشتہارات دکھا کر پورا کرتے)، نیوز کاسٹرز اور ڈراموں میں دوپٹے کو لازم قرار دیا گیا (جو بہت اچھی بات تھی) ڈراموں میں بہن بھائی ، ماں بیٹا، باپ بیٹی اور میاں بیوی دکھائے جانے والے کرداروں کو بھی سکرین پر فاصلہ رکھنا ضروری تھی۔ اس ماحول میں ان ماڈرن بہن بھائیوں پر پی ٹی وی پر پابندی عائد کر دی۔ لیکن نازیہ زوہیب کا جادو سر چڑھ کر بولتا رہا۔ وہ دونوں بھارتی فلموں میں بپی لہری کے ساتھ وقتاً فوقتاً پلے بیک سنگنگ بھی کرتے رہے اور اپنے میوزک البمز کے ذریعے بھی شائقین کو لبھاتے رہے یہاں تک کہ ضیاء الحق کی وفات کے بعد شعیب منصور کے مشہور زمانہ سٹیج شو میوزک 89 سے دونوں نے پاکستان میں اپنا دھماکے دار آن سکرین کم بیک کیا اور ایک بار پھر پاپ میوزک پر چھا گئے۔
لیکن پھر کرنا خدا کا ایسا ہوا کہ نازیہ حسن کو کینسر Diagnose ہوا اور لاکھوں دلوں کی دھڑکن سال 2000ء میں صرف 35 برس کی عمر اپنے لاتعداد مداحوں کو سوگوار چھوڑ کر اس جہان فانی سے کوچ کر گئی۔ لیکن چوتھائی صدی گزرنے کے بعد بھی نازیہ حسن کی مقبولیت جوں کی توں ہے۔ اس کے گیتوں کو ابھی تک انڈین فلموں اور ٹی وی کمرشلز میں ریمکس کر کے استعمال کیا جا رہا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ کچھ لوگوں کی چھاپ اتنی گہری ہوتی ہے کہ وہ موت بھی مٹا نہیں سکتی۔ ان کی موت کے بعد زوہیب حسن بھی انتہائی دل برداشتہ ہو کر میوزک انڈسٹری سے دور ہوگیا۔
میوزک کمپوزر بدواور ان کا ساتھ بہت پرانا اور اٹوٹ رہا۔ نازیہ کے آخری سالوں میں بدو ایک میوزک البم پر کام کر رہے تھے جس کے ایک گیت ’’میڈ ان انڈیا‘‘ کو گانے کے لئے انہوں نے نازیہ حسن سے رابطہ کیا لیکن نازیہ نے یہ کہہ کر معذرت کر لی کہ یہ بطور پاکستانی مجھے اور میرے لوگوں کو ناگوار گذرے گا۔ یہ مشہور گیت بعد میں علیشاہ چنائی نے گایا۔ ان کے بعد جس گلوکار کو زیادہ شہرت ملی ان میں عالمگیر اور ایرانی گلوکار محمد علی شہکی نے پاپ میوزک میں بہت نام کمایا۔ یہ پی ٹی وی ہی تھا جس نے کلاسیکل اور پاپ میوزک کو جس قدر پرموٹ کیا اس کا کریڈٹ بھی پی ٹی وی ہی کو جاتا ہے۔ گو اب تو میوزک کے انداز ہی بدل گئے ہیں۔ ہر دوسرا گلوکار پاپ میوزک کی طرف جا رہا ہے مگر یہ وقتی شہرت تو لے لیتے ہیں مگر ہم نازیہ حسن، زوہیب، محمد علی شہکی اور عالمگیر جیسے وہ نام پیدا نہ کر سکے۔

ٹیگز: