Wed, September 16, 2026

بندر بانٹ، سزائیں، 40 ارب کی کرپشن

بندر بانٹ، سزائیں، 40 ارب کی کرپشن

21 جولائی کو خیبر پختونخوا میں الیکشن کے دوران مفاہمت کا قابل دید اور قابل داد مظاہرہ، مخالف بے تاب، روحیں گلے ملتی نظر آئیں۔ 22 جولائی کو سزائیں، حیرت انگیز پیش رفت، سینیٹ الیکشن میں عجیب تماشا دیکھنے میںآیا، حکومت اور اپوزیشن میں 6 اور 5 نشستوں کا معاہدہ، گنڈا پور کے متعمد خاص بیرسٹر سیف اڈیالہ جیل میں خان سے دو گھنٹے ملاقات کے بعد ایک فہرست لے کر پشاور پہنچے۔ 6 ارکان کی فہرست تھی جنہیں 92 سینیٹرز نے منتخب کرنا تھا۔ علیمہ باجی گلے شکوے کرتی رہ گئیں، بہنوں کو دس منٹ کی اجازت، بیرسٹر سیف دو گھنٹے بیٹھے رہے۔ ایک خاتون سمیت 5 نظریاتی ارکان نے بھی کاغذات نامزدگی داخل کیے تھے جن میں سے 4 رات بارہ بجے ’’سیدھے راستے‘‘ پر آ گئے۔ لوگ باتیں بناتے ہیں، پچیس یا پچاس کروڑ لیے واللہ اعلم، بڑا بڑا مالدار میدان میں تھا، خرم ذیشان نے کاغذات واپس لینے سے انکار کر دیا، کھڑے کا کھڑا رہ گیا بے چارے کو ایک ووٹ نہ ملا، سارے نظریاتی منہ دیکھتے رہ گئے، اے ٹی ایم والے جیت گئے۔ مراد سعید مفرور اشتہاری مگر اس سے کیا ہوتا ہے جسے پیا چاہے وہی سہاگن ہو۔ 26 ارکان نے ووٹ دے کر کامیاب کیا۔ باغی ارکان کا گروپ موجود لیکن تاب انقلاب نہیں، دراز زلف بڑھکیں مارنے کے ماہر لیکن کمال کے فرمانبردار، سب کچھ حکم حاکم کے تحت ہوا۔ شاید اسی لیے 40 ارب کرپشن کے میگا سکینڈل کے باوجود اب تک بڑھکیں مارنے میں مصروف ہیں جس میں ایک ٹھیکیدار کے قبضہ سے اربوں کی گاڑیاں، کمرشل پلازے، جائیدادیں برآمد ہوئیں۔ انسان کے پیٹ کا بھرتا جسے کیڑے کھائیں گے۔ البتہ خان نے اسی شام نتائج ماننے سے انکار کر دیا، عاطف خان اور آصف علی کی بات درست نکلی کہ امیداروں کی فہرست خان کو دکھائی ہی نہیں گئی۔ بیرسٹر سیف نے گیم کھیلی یا خان نے اپنا بھرم قائم رکھنے کے لیے حسب عادت یو ٹرن لے لیا، تاہم نیم دروں نیم بروں سینئر صحافی ہارون رشید نے پورے سینیٹ الیکشن اور مراعات کو حرام قرار دے کر نظریں پھیرنے والوں کو کھری کھری سنائیں۔ گنڈا پور نے اوپر والوں کے حکم کی تعمیل کی۔ پارٹی پر خان کی گرفت کمزور پڑ گئی۔ مایوسی اور بے بسی کے عالم میں انہوں نے طاقتوروں کے آگے ہتھیار ڈال دئیے یعنی سرنڈر کر دیا، کون سا نظریہ کہاں کا نظریہ، خان کے اے ٹی ایم جیت گئے، سب گول مال ہے آئندہ دنوں میں بڑی اتھل پتھل ہو گی، مراد سعید نے حلف نہ اٹھایا تو خان دور کے قانون کے تحت نا اہل ہو جائیں گے۔ مگر شاید نہیں ہوں گے۔ الیکشن کے اگلے ہی روز 22 جولائی سزائوں کا دن، لاہور، میانوالی، سرگودھا کی انسداد دہشت گردی عدالتوں نے 9 مئی کیس کے 44 ملزموں کو دس دس سال قید اور 60 لاکھ جرمانے کی سزائیں سنا دیں۔ شاہ محمود قریشی سمیت 6 ملزم عدم ثبوت پر بری لیکن ملتان کے سجادہ نشین پر ابھی تک 7 مقدمات درج ہیں۔ اچھا بھلا لیڈر پیپلز پارٹی کا تربیت یافتہ کہاں پھنس گیا۔ سچ ہے بُرے دن کہہ کر نہیں آتے۔ خان نے وائس چیئرمین بنا دیا تھا لیکن خود جیل میں آتے ہی جانثاروں کو بھول گئے۔ ان میں ڈاکٹر یاسمین راشد، اچھے لوگوں سے کنارہ کشی کر کے ادھر آنے والے محمد الرشید بچھر، پرانے مسلم لیگی حامد ناصر چٹھہ کے صاحبزادے احمد چٹھہ (ایم این اے) بلال اعجاز اور دیگر لیڈر شامل ہیں۔ بہت پکڑے گئے باقی جو ہیں تیار بیٹھے ہیں، یعنی گنڈا پور، عمر ایوب، شبلی فراز سمیت بہتوں کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دئیے گئے خان کے سارے اہم اور نظریاتی کردار قید، بچے کھچے طاقتوروں کے خدمت کار، خان اچھے اور دور اندیش سیاستدان ہوتے تو 9 مئی 2023ء کو فوجی تنصیبات جلانے اور لوٹ مار میں اپنے اہم کرداروں کو نہ جھونکتے، سزائوں نے پارٹی کے پائوں تلے سے قالین کھینچ لیا ہے۔ اداس صبحیں، تپتی دوپہریں، مایوس شامیں اور خوفناک راتیں خان اور پارٹی لیڈروں کا مقدر، سزا یافتہ مجرم بنتے ہی نا اہل ہو گئے۔ ’’ایک نقطے نے انہیں محرم سے مجرم کر دیا‘‘ گھر کے رہے نہ اسمبلیوں کے، سزائوں کا 
سلسلہ ختم نہیں تیز ہو گیا ہے 14 اگست تک مکمل ہو گا، جنرل (ر) فیض حمید کے خلاف کورٹ مارشل کا فیصلہ بھی جلد آنے کا امکان تاہم اس میں دو تین ماہ لگ سکتے ہیں۔ اس دوران خان پر بجلی نہ گری تو ژالہ باری ضرور ہو گی یعنی 9 مئی کیس کے ماسٹر مائنڈ ہونے کے مقدمہ میں سخت سزا کے مستحق ٹھہریں گے۔ حالیہ اور جلد آنے والے فیصلوں کے بعد پی ٹی آئی کے کم و بیش 19 ارکان قومی اسمبلی اور 40 دیگر لیڈر نا اہل ہوں گے، اسمبلیاں خالی جیلوں کے ہائوس فل، اللہ کسی کو برے دن نہ دکھائے لیکن بندہ خود اپنے اوپر ظلم کرتا ہے۔ تحریک کہاں گئی؟ صاحبزادگان تو امریکا یاترا میں ناکامی کے بعد لندن واپس چلے گئے۔ ماما نے پاکستان آنے سے منع کر دیا علیمہ باجی نے وکلاء قیادت کو ناکام قرار دے کر جیل کے باہر بھوک ہڑتال کرنے کا اعلان کر دیا۔ 5 اگست کو باہر نکلنے والے خوفزدہ، سراسمیہ، جیل کے اندر والے مایوس اور باہر والوں پر برہم، پارٹی دن بہ دن زوال کی طرف گامزن، سزائوں کا ریلہ سنبھلنے نہیں دے گا مگر اچھے خاصے سیانے بیانے قبول صورت تجزیہ کار ابھی تک خان کی مقبولیت کے گن گا کر شاید اپنی ریٹنگ بڑھا رہے ہیں، ان ہی تجزیوں پر سینہ پھلا کر پی ٹی آئی کے شاہد خٹک نے ایک اینکر کو طعنہ دیا ہے کہ ’’میڈیا نے دو سال قبل دعویٰ کیا تھا کہ پارٹی ختم شد مگر الحمدللہ پارٹی آج بھی نہ صرف زندہ ہے بلکہ خان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔ کوئی ٹاک شو میرے خان کے بغیر نہیں ہوتا۔ طعنہ نہیں حقیقت ہے کہ دن رات کے چوبیس گھنٹوں کے دوران ابتدا اور خبروں کی انتہا خان اور ان کے جانثاروں کے تبصروں سے ہوتی ہے۔ خبروں کے ساتھ خان کی نئی پرانی تصویریں دکھائی جاتی ہیں۔ حکومت کو اپنے بکھیڑوں اور ارکان پارلیمنٹ کو تنخواہوں اور مراعات کے علاوہ ایک ارب 16 کروڑ کے سفری ووچر وصول کرنے سے فرصت نہیں، تاہم ہمارے صحافی بھائیوں ادھر بھی ادھر بھی ٹائپ کے تجزیہ کاروں اور اپنے پروگراموں میں پی ٹی آئی کے کوٹے کا بھی خیال رکھنے والے اینکر پرسنز کو سوچنا چاہیے کہ کیا وہ روز اول سے اپنے ان اقدامات سے خان کی مقبولیت میں اضافہ اور مقدمات کی سزائوں کو عوام کے ذہنوں میں مشکوک نہیں بنا رہے۔ جیل میں بیٹھے خان کو دھیلا خرچ کیے بغیر 75 ٹی وی چینلوں سے پبلسٹی مل رہی ہے۔ خبریں اور ٹاک شوز ذہنوں میں تبدیلی کا باعث بن رہے ہیں۔ ’’کچھ علاج اس کا بھی اے چارہ گر ہے کہ نہیں۔‘‘

ٹیگز: