امریکی عسکری طاقت کا عظیم الشان مظہر طیارہ بردار یو ایس ایس ابراہام لنکن آج کل مشرق وسطیٰ میں پہنچا ہوا ہے۔ بنیادی طور پر اس کا گھر سین ڈیاگو ،کیلیفورنیا ہے۔ ایران کے خلاف امریکی اعلان جنگ کے بعد یہ خلیج عمان کے راستے گزرتا ہوا خلیج فارس پر پہنچا ہے۔ یہ جنگی جہاز 20جولائی 2002ءمیں سمندر میں اتارا گیا تھا یعنی اسے جنگ کے سمندر میں اتارا گیا۔ یہ دو ایٹمی ری ایکٹروں کی مدد سے چلتا ہے، اسے 20 سال تک بغیر ری فیولنگ کے چلایا جا سکتا ہے۔ اس طیارہ بردار جنگی بحری بیڑے نے 290 دن تک بغیر کسی وقفے کے حالت جنگ میں تیار رہنے کا ریکارڈ قائم کیا ہے، اس میں مجموعی طورپر 5680 افراد کی تعیناتی کی گنجائش ہے، جس میں 3200 جہاز کا عملہ اور 2480 ہوائی عملے کے افراد شامل ہوتے ہیں۔ اس میں 90 ائیرکرافٹ ماڈل ہیلی کاپٹر ہوتے ہیں، حملہ کرنے اور بمباری کرنے والے جنگی طیارے اس کے علاوہ ہیں۔ میزائل لانچر اور گنیں بھی اس میں شامل ہیں۔ ابراہام لنکن اپنے مستقر سے نکل کر خلیج فارس پہنچا ہوا ہے۔ یہ حملہ آور مشین ہے جو ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کو دی جانے والی دھمکیوں کو عملی شکل دینے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ مشین ایرانی میزائلوں اور گن بوٹس کے ممکنہ حملوں سے بچتے ہوئے، ان کے نشانے پر آئے بغیر، ان کی پہنچ سے دور رہ کر ایرانی اہداف کو ٹھیک ٹھیک نشانہ لگانے اور انہیں تباہ کرنے کی مکمل صلاحیت سے لیس ہے۔ امریکہ بظاہر ایران کو سبق سکھانے، وہاں رجیم تبدیل کرنے اور من پسند کی حکمرانی قائم کرنے کا عزم صمیم لئے ہوئے خلیج فارس تک آن پہنچا ہے، ویسے بھی مشرق وسطیٰ/خلیج میں امریکی اثر و رسوخ ناقابل تسخیر بھی لگتا ہے۔ امریکی عسکری قوت ہوا، فضا، سمندر اور زمین پر پھیلی ہوئی ہے، درجنوں نہیں سیکڑوں عسکری مستقر یہاں موجود ہیں۔ امریکہ جو کرنا چاہتا ہے پہلے بھی کرتا رہا ہے اور اب بھی کر گزرنے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن ایران کے ساتھ ٹکرانے کے بعد، اسے سبق سکھانے کے بعد، ایران جو کچھ کرے گا اسے کنٹرو کرنا اور اس جنگ کے اثرات سے نمٹنا شاید امریکہ کے لئے ممکن نہیں ہو گا۔ تیل کی عالمی تجارت اسی خطے سے ہوتی ہے۔ آبنائے ہرمز ایران کی پہنچ میں ہے اور جنگ کے نتیجے میں یہ بلاک ہو جائے گی۔ ایران ایسا کرنے کی نہ صرف مکمل صلاحیت رکھتا ہے بلکہ اس کی تیاری بھی کر چکا ہے۔ خلیج سے جو تیل دنیا کو برآمد کیا جاتا ہے، اس کا 60 فیصد اور اس سے زیادہ اسی آبنائے سے گزر کر جاتا ہے، اس طرح ہم اندازہ کر سکتے ہیں کہ جنگ کی صورت میں تیل کی عالمی تجارت پر کیسے اثرات مرتب ہوں گے اور اس سے عالمی معیشت بھونچال کا شکار ہو جائے گی۔
امریکہ ایک کمزور ہوتی عالمی طاقت ہے، عالمی طاقت کا توازن دن بہ دن چین کی طرف جا رہا ہے۔ چینی معیشت بلاشبہ عالمی معیشت میں غلبہ حاصل کرتی چلی جا رہی ہے۔ چینی معیشت کا پھیلاﺅ یعنی سالانہ افزائش کی شرح مثالی ہے اور ماہرین کے مطابق چین 2035ءتک عالمی معاشی میدان میں فاتح قرار پائے گا۔ ویسے چین حرب و ضرب کے میدان میں بھی آگے بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ چین نے ابھی تک اپنے آپ کو کسی جنگ میں ملوث نہیں کیا ہے، اس لئے چین کی حربی و ضربی طاقت کا کھلا اظہار دنیا کے سامنے نہیںآسکا ہے لیکن پاک بھارت حالیہ جنگ میں چینی حربی و ضربی ٹیکنالوجی کا اظہار ہوا ہے، جس سے دنیا انگشت بدندان ہے کہ پاکستان نے جے ایف تھنڈر کے ساتھ دنیا کی عظیم فضائی قوت رافیل کا دھڑن تختہ کر دیا تھا۔ چین پانچویں نسل کی ٹیکنالوجی سے آگے بڑھ کر چھٹی نسل کی ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے صنعتی اور فنی میدان میں آگے بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ تاریخ اقوام کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ عرج ہو یا زوال یہ ہمہ گیر ہوتا ہے جب قومیں ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہوتی ہیں تو ہر شعبہ ہائے زندگی میں بڑھوتی ہو رہی ہوتی ہے۔ کھیلوں کا میدان ہو یا معیشت کا سفر، دفاع ہو یا معاشرت، ہر شعبہ ہائے زندگی آگے بڑھ رہا ہوتا ہے، اس طرح ترقی ہمہ گیر ہوتی ہے۔ چین اس کی حالیہ مثال ہے۔ زوال بھی اسی طرح ہمہ گیر ہوتا ہے، اس کی جزوی مثال پاکستان ہے۔ دفاع کے علاوہ ہم ہمہ گیر زوال کا شکار ہیں۔ ہمارا ہر شعبہ ہائے زندگی پستی کی طرف گامزن ہے۔ امریکہ زوال پذیر ہے اور وہ بھی ہمہ گیر ہے۔ امریکہ عالمی سطح پر اخلاقی جواز کھو چکا ہے۔ غزہ، اسرائیل جنگ کے دوران امریکی سفارتکاری دیکھ لیں، اس میں کسی سفارتی قانون کی پابندی نظر نہیں آئے گی۔ جنگ بندی کے بعد امریکی صدر کے بیانات دیکھ لیں، کلیتاً غیر انسانی ہیں۔معاشی برتری قائم رکھنے کے لئے ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی/جنگ ہر قسم کے اخلاقی جواز سے خالی نظر آتی ہے۔ امریکہ نے 20 سال تک افغانستان میں جو کچھ کیا وہ کسی طور بھی درست نہیں کہا جا سکتا ہے۔ پاناما سے لے کر وینزویلا تک امریکی جارحیت قطعاً غیر اخلاقی اور اپنی طاقت کا برہنہ اظہار نظر آتی ہے۔ امریکہ اس طرح دنیا پر اپنی برتری جتانا چاہتا ہے، اسے معلوم ہے کہ وہ عالمی طاقت کے منصب سے ہٹ رہا ہے، وہ واحد عالمی طاقت نہیں ہے۔ چین ایک نئی اور توانا عالمی طاقت کے طور پر ابھر چکی ہے، اس کی معاشی قوت ہی نہیں بلکہ حربی و ضربی طاقت کھلی ہوئی نہیں ہیں، جس طرح مغرب کی ہیں۔ چین بغیر شورو شرابے کے بغیر دھونس دھاندلی کے، طے شدہ طویل منصوبہ بندی کے مطابق آگے بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ مغرب کی فنی و تکنیکی برتری خواب بنتی چلی جا رہی ہے۔ صنعتی پیداوار میں وہ پورے مغرب کا ہم پلہ ہو چکا ہے۔ بھارت کو بحرہند میں چین کے مقابل لانے کی
امریکی پالیسی ہو یا تائیوان کو بڑھاوا دینے کی کاوشیں، چین نے اپنی موثر حکمت عملی سے انہیں ناکام بنا دیا ہے، جس طرح پاکستان کے ذریعے ہندوستان کو حربی و ضربی میدان میں بچھاڑ کر چین نے اپنی حربی و ضربی قوت کا شاندار اظہار کیا ہے۔ اسی طرح ایران، اسرائیل اور ایران امریکہ جنگ میں بھی چینی حربی و ضربی ٹیکنالوجی کی شمولیت کی بابت سنا گیا تھا۔ چین خاموشی سے ایران کے حربی ہاتھ مضبو کر رہا ہے۔ ایران ترنوالہ نہیں ہے۔ امریکہ چھٹے ہوئے بدمعاش کی طرح ایران کو للکار رہا ہے۔ وینزویلا پر حملہ آور ہونے کے بعد گرین لینڈ پر قبضے کی باتیں کر رہا تھا۔ یورپی یونین کے جوابی احتجاج کے بعد امریکہ پیچھے ہٹ گیا تھا۔ ایران کی تیاریاں دیکھ کر، اس کا مقابلہ کرنے کا عزم صمیم دیکھ کر اور امریکی حملے کی صورت میں اسرائیل کو نیست و نابود کرنے کے اعلان کے بعد امریکہ ایران پر حملہ کرنے سے پہلے سو بار نہیں بلکہ ہزار بار سوچے گا کہ کہیں اس کا باقی ماندہ بھرم بھی ختم نہ ہو جائے۔ اس لئے ایسا لگتا ہے کہ امریکہ ایران پر براہ راست جنگ مسلط کرنے سے گریز کرے گا۔ حملہ نہیں کرے گا لیکن یاد رہے ڈونلڈ ٹرمپ ایک ناقابل اعتبار شخصیت کے مالک ہیں۔ وہ کچھ نہ کرتے ہوئے بھی کچھ نہ کچھ ضرور کریں گے۔