تہران : ایران نے کہا ہے کہ اگر امریکا جوہری مذاکرات کو یورینیم افزودگی بند کرنے کی شرط سے مشروط کرے گا، تو وہ ایسے مذاکرات کا حصہ نہیں بنے گا۔ ایرانی رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے مشیر علی ولایتی نے ایرانی میڈیا سے بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ افزودگی روکنے کی شرط پر ایران مذاکرات میں شریک نہیں ہوگا۔
یہ بیان اس وقت آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان دوبارہ بات چیت کی امیدیں پیدا ہو رہی تھیں، خاص طور پر حالیہ اسرائیلی حملوں اور ایران پر 12 دن تک جاری کشیدگی کے بعد۔ ایران نے اپنے جوہری پروگرام میں پرامن مقاصد کے لیے افزودگی کا حق ترک کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ ملاقات کے لیے ابھی تک تاریخ یا جگہ کا تعین نہیں ہوا۔
یاد رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان اب تک پانچ دور کی بات چیت ہو چکی ہے، لیکن کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہو سکا۔ یہ مذاکرات عمان کی ثالثی میں ہو رہے تھے، تاہم اسرائیل کے حملے اور امریکا کی حمایت کے بعد یہ بات چیت 13 جون کو معطل ہو گئی تھی۔
ایرانی ترجمان نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ ایران خلوص نیت سے بات چیت میں شامل تھا، مگر اسرائیل کی امریکی حمایت کے باعث بات چیت کا عمل متاثر ہوا۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیاں نے بھی کہا کہ ایران ہمیشہ بامقصد مذاکرات کا حامی رہا ہے اور وہ پرامن حل کی تلاش جاری رکھے گا۔ ان کے مطابق، ایران مذاکرات کی راہ اب بھی کھلی سمجھتا ہے۔