تہران/واشنگٹن: مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بھڑک اٹھے ہیں کیونکہ امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایران کے دارالحکومت تہران سمیت پانچ بڑے شہروں پر میزائلوں کی بارش کر دی ہے۔ ایرانی قیادت نے اس حملے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے واشنگٹن اور تل ابیب کو خبردار کیا ہے کہ اس مہم جوئی کا آغاز بھلے انہوں نے کیا ہو، مگر اس کا ’اختتام‘ اب ان کے اختیار میں نہیں رہا۔
ایرانی پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ نے حملوں کے فوراً بعد دو ٹوک بیان جاری کرتے ہوئے کہا"امریکا اور اسرائیل نے آگ سے کھیلنے کی کوشش کی ہے۔ ان حملوں کا اختتام اب آپ کے اختیار میں نہیں رہا، ہمارا ردعمل اتنا سخت ہوگا کہ دشمن پچھتائے گا۔"
میڈیا رپورٹس کے مطابق تہران، اصفہان، تبریز، قم اور کرج میں اسٹریٹجک مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔تہران میں صدارتی محل اور سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی رہائش گاہ کے قریب 7 میزائل گرنے کی اطلاعات ہیں۔
اسرائیلی حکام کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے صرف سرکاری عمارتوں اور فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے تاکہ اسرائیل کے خلاف خطرات کو ختم کیا جا سکے۔
ایرانی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب اور فضائیہ کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور جوابی کارروائی کا پلان فائنل کر لیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے "انتہائی سخت ردعمل" کا مطلب بڑے پیمانے پر میزائلوں اور خودکش ڈرونز کا وہ جوابی حملہ ہو سکتا ہے جو پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔