برطانیہ: حالیہ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ جن افراد میں اچھے کولیسٹرول کی سطح زیادہ ہوتی ہے، ان میں آنکھوں کی سنگین بیماری ’گلوکوما‘ ہونے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق، خاص طور پر 55 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد میں جن کا اچھا کولیسٹرول (ہائی ڈینسٹی لیپو پروٹین یا ایچ ڈی ایل) مسلسل بلند رہتا ہے، ان میں گلوکوما کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔
طبی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق ماہرین نے 4 لاکھ سے زائد افراد کے طبی ڈیٹا کا جائزہ لیا، ان سے مختلف سوالات کیے اور ان کے بلڈ ٹیسٹ بھی کیے۔ 14 سال بعد نتائج سے یہ سامنے آیا کہ 6 ہزار سے زائد افراد میں گلوکوما کی علامات ظاہر ہو چکی تھیں۔
تحقیق میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ جن افراد میں گلوکوما نہیں تھا، ان کا خراب کولیسٹرول (لو ڈینسٹی لیپو پروٹین یا ایل ڈی ایل) زیادہ تھا، اور انہیں ہائی بلڈ پریشر اور شوگر کے مسائل بھی درپیش تھے۔ دوسری جانب، جن افراد میں گلوکوما کی علامات ظاہر ہو چکی تھیں، ان میں اچھا کولیسٹرول (ایچ ڈی ایل) زیادہ تھا۔
یہ تحقیق یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ گلوکوما کا شکار ہونے والے افراد کی عمر 55 سال یا اس سے زیادہ تھی۔ اس کے برعکس، کم عمر افراد میں اچھے کولیسٹرول کی زیادہ سطح کا گلوکوما پر کوئی منفی اثر نہیں پڑا۔
عام طور پر برے کولیسٹرول کو مختلف بیماریوں کا سبب سمجھا جاتا ہے، لیکن اس تحقیق نے اچھے کولیسٹرول کو گلوکوما سے جوڑ کر ایک نئی بصیرت فراہم کی ہے۔ اس سے قبل بھی ایک تحقیق میں اچھے کولیسٹرول کو ڈیمینشیا یعنی یادداشت کی کمی کا سبب قرار دیا جا چکا ہے۔
گلوکوما ایک سنگین بیماری ہے جس میں آپٹک نرو (آنکھوں کی وہ نالی جو دماغ تک پیغام پہنچاتی ہے) متاثر ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں بینائی متاثر ہو سکتی ہے اور مکمل اندھے پن کا خطرہ ہوتا ہے۔ یہ بیماری لاعلاج ہے اور عموماً آکسیڈنٹل پریشر (آنکھ کے اندر کا پریشر) بڑھنے سے پیدا ہوتی ہے۔