یہ کائنات تعلق اور تعلق در تعلق کی عجب داستانِ دل ربا ہے۔ محبت محب اور محبوب کے تعلق کی کہانی ہے۔ ازدواجیت میاں اور بیوی کے تعلق کا فسانہ حیات ہے۔ دوستی دوست (دو +ست) یعنی دو سچوں کے تعلق کی داستان ہے۔ عبادت عابد اور معبود کے تعلق کی بات ہے … اور معرفت عارف اور ذاتِ لم یزل کے تعلق کی داستانِ لازوال ہے۔ درحقیقت یہ کوئی ایک تعلق ہے … ہمہ گیر اور ہمہ حال تعلق … جس کی داستان ہر جا مختلف ادوار اور مختلف ادوار میں دہرائی جا رہی ہے … بس کردار بدلتے رہتے ہیں، کہانی وہی رہتی ہے … ازل سے ابد تک کوئی ایک داستانِ تعلق ہے جو مسلسل دہرائی جا رہی ہے … اسے ڈی کوڈ کرنے کی ضرورت ہے … تحمل اور تدبر سے اس پر غور و فکر درکار ہے۔
انسانوں کی دنیا تعلقات کی دنیا ہے۔ ایک بامعنی زندگی میں تعلق کی حیثیت وہی ہے جو جسم میں روح کی ہوتی ہے۔ روح نکل جائے تو جسم بے جان، تعلق قطع ہو جائے تو معنویت سے لے کر روحانیت تک سب بے مرام! دراصل قطع تعلقی بھی ایک درجے کی خود کشی ہے … جذبات کے ہاتھوں تعلق کا قتل اور پھر سزا کے طور پر عمر بھر کی قیدِ تنہائی!
معاشرہ ہو، محلہ ہو، خاندان ہو یا پھر کوئی ایک چھت کا گھرانہ … اس میں رونق اور چہل پہل ایک مستحکم تعلق سے ہے۔ تعلق اپنی ہیئت اصلیہ میں ذی جان ہوتا ہے … تعلقات کسی جاندار کی طرح پیدا ہوتے ہیں، پلتے بڑھتے ہیں، صحتمند اور بیمار بھی ہوتے ہیں اور بسا اوقات دم گھٹنے سے مر بھی جاتے ہیں … اور یہ دم عزت کا دم ہوتا ہے۔ تعلقات روزانہ کی بنیاد پر توجہ مانگتے ہیں۔ تعلق بیمار پڑ جائے تو اس کی نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ بیمار بھی تیمار دار کا طلب گار ہوتا ہے۔ جس طرح ایک پودے کو پروان چڑھنے کے لیے ہوا، مٹی اور پانی کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح نہالِ تعلق بھی اپنی پرورش کے لیے آزادی، تواضع اور توجہ کا محتاج ہوتا ہے۔ تعلقات کی دنیا میں آزادی ہوا کی مانند ہے اور عجز و تواضع کسی زرخیز مٹی کی مانند … اور یہاں توجہ کو وہی حیثت حاصل ہے، جو پانی کو ہوتی ہے … ’’اور ہم نے ہر چیز کو پانی سے زندگی عطا کی ہے‘‘۔
ہم اپنے گھریلو پودوں کی بہتر نگہداشت کے لیے ان کے گرد غیر ضروری جھاڑیوں کی کانٹ چھانٹ کرتے رہتے ہیں … مبادا یہ جھاڑ جھنکار، زہریلے پودے ہمارے نونہالوں کے حصے کا پانی اور غذایت ہڑپ کر جائیں۔ بعینہ اپنے قیمتی تعلقات کی نگہداشت کے لیے بھی کچھ غیر ضروری تعلقات کی بیخ کنی کرنا ضروری ہوتا … مبادا یہ ہمارے اصل تعلق کا وقت اور توجہ کھا پی کے ڈکار مار لیں اور شکریہ بھی ادا نہ کریں۔ تعلقات کی دنیا میں ترجیحات مقرر کرنا بے حد ضروری ہے۔ اگر معاشی و مالی تعلقات ہمارا سارے کا سارا وقت کھا جائیں تو معاشرتی تعلقات مرجھانے لگتے ہیں … اگر معاشرتی تعلقات ہمارے ازدواجی تعلقات میں حائل ہونے لگیں تو قرینِ دانش یہی ہو گا کہ گھر اور گھر والوں کو ترجیح دی جائے … اگر ہم معاشرے میں نیکی کا کام بھی کر رہے ہیں تو یہ نہ بھولنا چاہیے کہ اول خویش بعد درویش۔
تعلقات میں توقعات قائم بھی ہوتے ہیں اور شکستہ بھی۔ وہ تعلق جسے توقع کے قائم ہونے کی بنیاد پر اٹھایا جاتا ہے، وہ بہت جلد کمزور پڑ جاتا ہے، کیونکہ توقع کبھی نہ کبھی ٹوٹ جاتی ہے۔ ہر شخص ہر کسی کی توقع پر پورا نہیں اترتا۔ اس لیے مناسب یہ ہے کہ ہم اپنے تعلقات پر رحم کریں اور انہیں اپنی توقعات کے رحم و کرم پر نہ چھوڑیں۔ جب طے کر لیا کہ تعلق قائم رکھنا ہے تو اس میں توقعات کی قربانی دینے کے لیے ہمیں ہمہ وقت تیار رہنا چاہیے۔ بعض اوقات غیر مناسب اور غیر متناسب توقعات کسی آکاس بیل کی طرح ہمارے نخلِ تعلق کو جکڑ لیتی ہے اور پھلتا پھولتا سرسبز تعلق پیلا پڑ جاتا ہے … سوکھ کر جاتا ہے۔
ہر تعلق اپنی مناسب پرورش کے لیے ایک مخصوص ماحول طلب کرتا ہے … آم اور خربوزہ کاغان اور ناران میں جڑ نہیں پکڑتا، سیب اور انگور ملتان کی لُو کی لپٹ میں جھلس جاتے ہیں۔ کسی تعلق کی نوخیز کونپل کو پروان چڑھانے کے لیے از حد ضروری ہے کہ اسے مناسب ماحول مہیا کیا جائے۔ ہر تعلق اپنی جگہ بے مثال ہوتا ہے، بشرطیکہ اپنے ماحول میں رہے۔ ماں بیٹے کا تعلق اپنی جگہ مقدس ہے، میاں بیوی کا اپنی جگہ مسلم۔ گھر ایک سلطنت کی طرح ہوتا ہے … جس طرح ایک تخت پر دو بادشاہ نہیں بیٹھ سکتے ہیں، اسی طرح ایک سلطنت میں بیک وقت دو ملکائیں راج نہیں کر سکتیں۔ … کسی ایک کو اپنے اختیارات سے دست بردار ہونا ہوتا ہے۔ ذی دانش لوگ اپنا مقام پہچانتے ہیں … اپنی اپنی جگہ رہتے ہیں، دوسروں کی جگہ لینے کی کوشش نہیں کرتے … وہ اپنے اختیارات کی حدود کو پہچانتے ہیں اور اس کا حاصل یہ کہ جیو اور جینے دو کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے ایک وِن وِن سچویشن قائم کرتے ہیں۔ خاندانی تعلقات کے میدان میں اس طرح دوڑنا چاہیے کہ ہر کھلاڑی بیک وقت جیت سکے۔ ایسے خاندان سدا بہار ہوتے ہیں … ایک دوسرے سے ناروا توقعات قائم کرتے ہیں نہ توقعات کے پورا نہ ہونے پر تعلقات منقطع کرتے ہیں۔ تعلقات میں توازن قائم رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ان سے غیر ضروری توقعات منسلک نہ کی جائیں۔ اپنی توقعات پر قابو پا لیا جائے تو تعلقات کی دنیا میں اس کا نتیجہ ہمیشہ خوش گوار نکلتا ہے۔ اگر چھوٹے اپنے بڑوں کا ادب کریں اور بڑے اپنے چھوٹوں سے شفقت کا رویہ رکھیں تو ماحول کبھی ناخوشگوار نہیں ہوتا۔ سبحان اللہ! … کیا خوب ہے قولِ کریم، رسولِ کریمؐ کا ’’جو بڑوں کا ادب نہ کرے اور چھوٹوں سے شفقت نہ کرے، وہ ہم میں سے نہیں ہے‘‘۔ اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس خطاب میں باہمی تعلقات کو کمزور کرنے والے معاملے (یعنی ادب کی جگہ گستاخی اور شفقت کی جگہ درشت روی) پر براہِ راست عتاب کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ طلاق جو قطع تعلقی کی ایک نہایت بھونڈی شکل ہے … اس کا جائز ہونا تو روا رکھا گیا ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ اسے ناپسندیدہ بھی کہہ دیا گیا ہے۔ ازدواجی تعلق کا منقطع ہونا سب سے زیادہ تکلیف دہ بات ہے۔ یہ تعلق محبت سے کہیں زیادہ عزت کا تقاضا کرتا ہے۔ فریقین اگر باہمی عزت و احترام سے محروم ہیں تو اس مقدس تعلق سے محروم ہونا چنداں دور نہیں ہوتا۔
کچھ تعلقات تو ایسے ہیں جن کا قطع کرنا قطعی حرام قرار دے دیا گیا ہے۔ رحم کے تعلق (بھائی بہنوں کے تعلقات) کا منقطع کرنا قطعی حرام ہے۔ وہ مقدس راتیں جن میں ہر خاص و عام کے لیے بخشش فراواں ہے، بتایا گیا ہے کہ مغفرت کا پروانہ لانے والی ان راتوں میں بھی والدین کا گستاخ، ٹخنوں کے نیچے کپڑا لٹکانے والا (یعنی متکبر) اور رحم کے رشتوں کو قطع کرنے والا مغفرت سے محروم ٹھہرتا ہے۔ دراصل تعلق منقطع کرنے والا اک گونہ تکبر کا شکار بھی ہوتا ہے۔ انا کے مقابلے بالعموم تعلق کے انقطاع پر منتج ہوتے ہیں۔ یک طرفہ انا دو طرفہ تعلق خراب کرتی ہے … اور یکطرفہ معافی دوطرفہ تعلق بحال کر دیتی ہے۔ اپنے روز مرہ کلام کو گلے، شکوے اور شکایت سے دور رکھا جائے تو تعلق کے گلستاں پر خزاں مسلط نہیں ہوتی۔