زرِ مبادلہ کے ہولناک بحران سے نمٹنے کے لیے سول اور ملٹری لیڈرشپ نے جو جنگ لڑی، اس کی داد نہ دینا زیادتی ہو گی۔ او پی ایف کے چیئرمین سید قمر رضا شاہ اور ایم ڈی محمد افضال بھٹی نے بھی دن رات محنت کی۔ بحران ٹل گیا ، ملک دیوالیہ ہونے سے بچ گیا۔ مگر ابھی خطرات موجود ہیں۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چائنہ اپنی رقم واپس لیتے ہیں تو ہم کہاں کھڑے ہوں گے؟ یاد رکھیں! دنیا میں ہر قوم اپنا بوجھ خود اٹھاتی ہے۔ زمانے بدل گئے، دوست اور دشمن کی بھی نئی حد بندی ہو گئی، مگر ہماری نفسیات جوں کی توں۔ پاکستانی معیشت نے مشکل دور عبور کر لیا۔ لیکن مہنگائی نے عوام کا جینا دوبھر کر رکھا۔ کاروبار رک گئے۔ غیر یقینی کا راج عروج پر۔ ان حالات میں اوورسیز پاکستانیوں نے وطن کے لیے قربانی دی۔ قوم کو یاد ہو گا۔ بانی پی ٹی آئی نے کہا: رقم نہ بھیجو۔ مگریہ آواز عوامی جذبے اور وطن سے محبت کو نہیں روک سکی۔اوورسیز پاکستانیوں نے ثابت کیا کہ وطن سے محبت کسی سیاست کی محتاج نہیں۔ ان کی وفاداری نے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر بلند کیے اور ملکی معیشت کی بنیاد مضبوط کی۔ تاریخ کے چوراہے پہ لمبی تان کر سوئی ہوئی قوم اور خود غرض سیاستدان کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔
اوورسیز پاکستانیوں نے ثابت کر دیا کہ وطن سے محبت کسی سیاسی مفاد کی محتاج نہیں۔ انہوں نے اپنے پیارے ملک کے لیے رقوم بھیجنا جاری رکھا، یہی قربانی آج پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو مارچ 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر لے گئی ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق مجموعی زرمبادلہ ذخائر 21 اعشاریہ 1 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں، جس میں سے سٹیٹ بینک کے پاس 15 اعشاریہ 9 ارب ڈالر ریکارڈ موجودہیں۔ یہ صرف مالی استحکام کی علامت نہیں، بلکہ اوورسیز پاکستانیوں کی قربانی اور ملک کے کاروباری اعتماد کی عملی عکاسی ہے۔ ماضی کی طرح یہ اضافہ کسی وقتی انتظام یا بیرونی قرضوں کے بل بوتے پر نہیں ہوا، بلکہ ملکی پیداوار میں بہتری، برآمدات میں اضافہ، غیر ملکی سرمایہ کاری اور اوورسیز پاکستانیوں کی مالی مدد کا نتیجہ ہے۔
پاکستان نے حالیہ برسوں میں کئی معاشی مشکلات کا سامنا کیا۔ فروری 2023 میں ملک کی درآمدی صلاحیت دو ہفتوں سے بھی کم رہ گئی تھی، جس سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئیں اور عوام کے معیار زندگی پر دباؤ پڑا۔ مگر آج حالات بدل چکے، مجموعی ذخائر اب ملکی درآمدات کے ڈھائی ماہ کے برابر ہیں، جو مالیاتی اور اقتصادی استحکام کی واضح علامت ہے۔ معاشی ماہرین بھی تسلیم کرتے ہیں کہ یہ ذخائر ایک وقتی انتظام یا قرضوں کا نتیجہ نہیں ہیں، بلکہ یہ اقتصادی بحالی، مالیاتی نظم و ضبط اور ملکی پیداوار میں بہتری کا مظہر ہیں۔ بیرونی قرضہ بمقابلہ جی ڈی پی تناسب میں کمی، جو 31 فیصد سے کم ہو کر 26 فیصد تک پہنچ چکی ہے، یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ پاکستان مالیاتی خودمختاری کے راستے پر گامزن ہے۔ جس میں سب سے بڑا کردار اوورسیز پاکستانیوں کا ہے۔
جب پی ٹی آئی نے کہا کہ پاکستان کو رقوم نہ بھیجیں، تب بھی انہوں نے اپنے وطن کی مدد جاری رکھی۔ یہی وفاداری اور قربانی آج مالیاتی استحکام کی بنیاد ہے۔ اوورسیز پاکستانیوں نے ثابت کیا کہ وطن سے محبت کسی سیاسی مفاد کی محتاج نہیں۔ ان کی یہ حمایت نہ صرف زرمبادلہ میں اضافے کا سبب بنی بلکہ ملکی معیشت میں اعتماد، برآمدات اور سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانے میں بھی مددگار ثابت ہوئی۔ موجودہ زرمبادلہ ذخائر کی مضبوطی عوام کی زندگی پر بھی اثر ڈالتی ہے۔ جب ذخائر مستحکم ہوں، حکومت اپنی درآمدی ضروریات، توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری اور دیگر اہم منصوبوں کے لیے فنڈز فراہم کر سکتی ہے۔ اس سے مارکیٹ میں استحکام آتا ہے، صارفین کی خریداری کی طاقت بڑھتی ہے اور مہنگائی میں غیر ضروری اتار چڑھاؤ کم ہوتا ہے۔ مضبوط ذخائر روپے کی قدر کو مستحکم رکھنے اور مہنگائی میں اضافے کو روکنے میں مدد دیتے ہیں، جو عام آدمی کی زندگی میں واضح فرق پیدا کرتا ہے۔ مالیاتی اصلاحات اور اوورسیز پاکستانیوں کی قربانی نے یہ بھی یقینی بنایا ہے کہ پاکستان بیرونی قرضوں پر کم انحصار کرے۔ مقامی پیداوار میں اضافہ، برآمدات کی ترقی اور مالیاتی نظم و ضبط نے ملک کو اپنی ضروریات خود پورا کرنے کے قابل بنایا ہے۔
اوورسیز پاکستانیوں کی قربانی اور وفاداری اس طویل اور کٹھن سفر کی اصل قوت ہے۔ یہ حقیقت اب کسی دلیل کی محتاج نہیں کہ قومیں نعروں سے نہیں بلکہ اجتماعی شعور، مسلسل محنت اور قربانی سے آگے بڑھتی ہیں۔ ملکی ترقی اور معیشت کی مضبوطی کسی ایک طبقے، حکومت یا ادارے کی مرہونِ منت نہیں ہوتی بلکہ یہ اس وقت ممکن ہوتی ہے جب پوری قوم ایک سمت میں سوچتی اور عمل کرتی ہے۔ جب ہر پاکستانی، چاہے وہ وطن کی مٹی پر پسینہ بہا رہا ہو یا دیارِ غیر میں اپنی محنت کا پھل وطن کو بھیج رہا ہو، اپنے حصے کا فرض ادا کرتا ہے تو وہ صرف مالی استحکام میں اضافہ نہیں کرتا بلکہ قومی خودمختاری اور معاشی آزادی کی بنیاد بھی مضبوط کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ذاتی مفادات، سیاسی ضد اور انا کے خول سے باہر نکلیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن قوموں نے باہمی اختلافات کو قومی مفاد پر قربان کیا، وہی آگے بڑھیں اور سرخرو ہوئیں۔
اوورسیز پاکستانیوں کی مثال ہمارے سامنے ہے، جنہوں نے سیاسی شور و غوغا، منفی بیانیوں اور وقتی مایوسی کے باوجود وطن سے اپنا رشتہ کمزور نہیں ہونے دیا۔ ان کی قربانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ وطن سے محبت کسی جماعت، کسی لیڈر یا کسی وقتی سیاست کی محتاج نہیں ہوتی، بلکہ یہ ایک دائمی عہد ہوتا ہے جو مشکل وقت میں اور زیادہ مضبوط ہو جاتا ہے۔ آج پاکستان کے پاس صرف مضبوط زرمبادلہ ذخائر ہی نہیں بلکہ ایک نادر موقع بھی ہے کہ وہ خود انحصاری، معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کی بنیاد رکھے۔ اگر یہ موقع اجتماعی بصیرت، قومی یکجہتی اور باہمی اعتماد کے ساتھ استعمال کیا گیا، تو پاکستان عالمی معیشت میں باوقار مقام حاصل کرے گا اور ہر پاکستانی اس ترقی کے ثمرات میں مستفید ہو گا۔