نیویارک/اسلام آباد: اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں دو ٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش عالمی امن اور ترقی پذیر ممالک کی معیشت کے لیے ایک "سنگین خطرہ" بن چکی ہے۔ انہوں نے بحران کے حل کے لیے پاکستان کی جانب سے ’ڈائیلاگ اور ڈپلومیسی‘ کا فارمولا پیش کر دیا۔
عاصم افتخار نے اپنے خطاب میں کہا کہ آبنائے ہرمز جیسی اہم عالمی گزرگاہ کی بندش سے تیل اور دیگر اشیائے ضروریہ کی ترسیل میں شدید رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بحران کا براہِ راست اثر ان ترقی پذیر ممالک پر پڑ رہا ہے جو پہلے ہی معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔
پاکستان نے خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اپنے فعال کردار کو نمایاں کیا ہے۔ پاکستان، امریکہ اور ایران کے درمیان معاملات میں استحکام لانے اور غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے سفارتی سطح پر متحرک ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان نے چین، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر جیسے اہم برادر ممالک کے ساتھ مسلسل رابطوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے تاکہ مشترکہ کوششوں سے تنازع کو حل کیا جا سکے۔
آپشن 1: "