نیویارک :آبنائے ہرمز کے بحران پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو اس وقت بڑی سبکی کا سامنا کرنا پڑا جب روس، چین اور فرانس نے قرارداد کے مسودے کی کھلی مخالفت کر دی۔ اس شدید اختلاف کے باعث قرارداد پر ووٹنگ منسوخ کر دی گئی ہے اور کسی نئی تاریخ کا اعلان بھی نہیں کیا گیا۔
اقوامِ متحدہ کے ہیڈ کوارٹر سے موصولہ اطلاعات کے مطابق قرارداد کا مسودہ عالمی طاقتوں کے درمیان اتفاقِ رائے پیدا کرنے میں ناکام رہا۔ روس، چین اور فرانس نے واضح کیا ہے کہ وہ موجودہ شرائط پر کسی بھی کارروائی کی حمایت نہیں کریں گے۔ سلامتی کونسل کے 10 غیر مستقل اراکین بھی مسودے پر تقسیم نظر آئے، جس نے قرارداد کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
ووٹنگ کی منسوخی کو ایران کے خلاف عالمی دباؤ بڑھانے کی امریکی کوششوں کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اس پیش رفت پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے متعلق کسی بھی زبردستی کی ووٹنگ یا بین الاقوامی مداخلت کے نتائج اچھے نہیں نکلیں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے اقدامات خطے کی صورتِ حال کو "مزید پیچیدہ اور سنگین" بنا دیں گے۔