Wed, September 16, 2026

سیدنور … پہلے عشق سے صائمہ تک کی داستان

سیدنور … پہلے عشق سے صائمہ تک کی داستان

زندگی میں بہت کم ایسے لوگ ملتے ہیں جن کے بغیر کبھی کبھی زندگی بڑی ادھوری لگتی ہے۔ میل ملاپ اس قدر بڑھ جاتا ہے کہ کبھی ملاقات نہ ہوتو یوں لگا جیسے کوئی اہم چیز گم ہو گئی ہے۔ سید نور عرف عام میں شاہ جی اور ان کی پہلی بیگم رخسانہ نور کے ساتھ میرا تعلق 1980ء میں اس وقت جڑا جب روزنامہ نوائے وقت کے سنڈے میگزین میں بطور فیچر رائٹر اور میں سپورٹس اور شوبز کی رپورٹنگ کرتا تھا۔ یہ دونوںچہرے خوبصورت تو تھے ہی مگر وہ دور بھی بہت حسین اور جوان تھا۔ رخسانہ نور (مرحومہ) جہاں بہت سنجیدہ تو وہاںہر محفل کو سجانے کا ان کو جو ملکہ حاصل تھا وہ بہت کم خوش قسمت لوگوں کا مقدر بنا۔ میرا پہلا تعارف اور ملاقات جو شاہ جی سے ہوئی اور رخسانہ نور کے گھر واقع اقبال ٹائون میں تھی پھروقت کے ساتھ یہ تعلق گھریلو ماحول میں بدل گیا۔ گزرے وقت کے بے شمار واقعات کس کا ذکر کروں اور کس کا نہ کروں۔ گزشتہ دنوں ایک ٹی وی انٹرویو میںشاہ جی نے اپنے عشق اور محبت کے بارے میں بتایا کہ دوران تعلیم پہلی محبت ٹیوشن ٹیچر سے ہوئی تھی اسی وجہ سے وقت سے پہلے پڑھنے چلا جاتا تھا اور پھر دیر تک ان کے گھر بیٹھا رہتا۔ اس دوران میں نے ایک دن ان کے ساتھ اظہار عشق کر ڈالا جس پر ٹیچر نے انہیں فلمیں کم دیکھنے اور پڑھائی پر توجہ دینے کی نصیحت کی۔ بس پھر وہاں بات نہ بنی۔ اپنی پہلی بیوی رخسانہ نور کے ساتھ شادی کا ذکر کرتے ہوئے ان کا چہرہ بہت رنجیدہ تھا۔ ان کے ساتھ جب وہ میرا انٹرویو لینے آئیں تو مجھے اچھی لگیں ۔ ان دنوں وہ صحافت میں ایک نام بنا چکی تھیں۔ دوران انٹرویو ہم نے بہت باتیں کیں اور پھر ٹیلی فون پر ہم دونوں کا اظہار محبت ہو ااور وہ محبت مجھے شادی تک لے گئی۔ رخسانہ کے ساتھ انڈر سٹینڈنگ میں دووجوہات تھیںایک تو وہ میرے بچوں کی ماں اور دوسرا ہم دونوں رائٹر تھے اور ایک دوسرے کے معاملات کو خوب سمجھتے۔ اپنی دوسری شادی کے بارے بتایاجو انہوں نے اداکارہ صائمہ کے ساتھ کی اوراس کو تقریباً پانچ سال تک رخسانہ نور سے چھپائے رکھا ۔ اخبارات نے ہم دونوں یعنی میرے اور صائمہ کے بارے میں سب خبریں دینا شروع کیں اور یہ راز اخباری خبر کے ذریعہ رخسانہ نور تک پہنچا تو بات بہت دورتک جا چکی تھی۔ رخسانہ نور کا غصہ اپنی جگہ میرے بچوں نے بہت احتجاج کیا۔ یہی نہیں وہ تو میرے ساتھ بدتمیزی پر بھی اتر آئے۔ رخسانہ نور ان کو ڈانٹتی اور سمجھاتی کہ آپ بچے ہم دونوں کے درمیان نہ آئیں شاہ جی آپ کے والد ہیں میرے ساتھ انہوں نے کوئی برا سلوک نہیں کیا جبکہ یہاں تک کہا کہ اگر آپ نے صائمہ سے شادی کر بھی لی ہے تو پھر اس کو بیوی کا حق دیں پھر رخسانہ نور کا انتقال ہوا تو صائمہ نے میرے بچوں کو ماں کی طرح سنبھالا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اب جو بچے ایک وقت میں ناراض تھے وہ ہم دونوں سے بہت پیار کرتے ہیں۔ شاہ جی نے صائمہ کے ساتھ اپنی شادی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی صائمہ کے ساتھ پہلی ملاقات فلم گھونگٹ کے سیٹ پر ہوئی۔ 
 یہاں یہ بات بتاتا چلوں کہ شاہ جی سے اب بہت لو ہو گیا ہے۔وہ کئی بار میرے ٹی وی چینل نیو نیوز اور لاہور رنگ میں جب بھی آئے تو ایک پیار کی جھپی ضرور ڈال کر جاتے ہیں۔ خدا ان کو خوش رکھے اپنے تازہ ترین انٹرویو میں شاہ جی نے جہاں اپنے پہلے عشق، پہلی محبت، پہلی شادی جو ان کی رخسانہ نور کے ساتھ ہوئی میں بہت سے واقعات کا چشم دید گواہ تو نہیں ہوں مگرمجھے دونوں کی زندگی کے بارے بہت کچھ معلوم ہے جو شاہ جی کے قریبی دوستوں کو پتہ ہے۔ شاہ جی نے جو کچھ کہا میرے نزدیک انہوں نے حقائق کے بہت قریب جا کر اپنی زندگی کی کچھ حقیقتوں کو سامنے لاتے ہوئے سچ اور اعتراف کے درمیان سے راستہ نکالتے ہوئے کہیں ڈنڈی نہیں ماری۔ طویل دوستی کے ناتے شاہ کی باتوں کو آج کالم میں اس لئے لے کر آ رہا ہوں کہ ان دونوںرخسانہ نور (مرحومہ) اور شاہ جی کے درمیان اسد شہزاد بھی تھا اور میری بھی گواہی تحریری شکل میں آ جائے۔ 
شاہ جی نے اپنی دوسری بیوی سے محبت کے اظہار کے حوالے سے بتایا کہ میں نے اپنی محبت کے دوران اس کے ساتھ شادی کرنے کا جو عہد کیا اس کو نبھایا۔ آج شاہ جی اور صائمہ کی شادی کو بائیس سال ہو گئے اور دونوں آج بھی روز اول کی طرح محبت نبھا رہے ہیں اور اس سے زیادہ دلچسپ بات کیا ہو سکتی ہے کہ ان دونوں کے درمیان آج اتنی انڈر سٹینڈنگ ہے کہ ایک بار بھی نہیں جھگڑے جن دنوں اخبارات میںان دونوں کی شادی کے بارے بڑے چرچے تھے حتیٰ کہ نکاح تک کی تصاویر بھی شائع ہوئیں اور شاہ جی نے صائمہ کے گھر والوں کی موجودگی میں رضامندی ظاہر کی اور رخسانہ نور جب تک حیات رہیں انہوں نے ان دونوں کے ساتھ بڑا تعاون کیا جبکہ رخسانہ نے دوسروں کو یہ پیغام دیا کہ وہ میاں کو دوسری شادی کی اجازت دے دیا کریں۔ رخسانہ نور اور صائمہ کا پہلا آمنا سامنا اس وقت ہوا جب صائمہ سید نور کے گھر فلم کی شوٹنگ کے دوران علامہ اقبال ٹائون میں تھیںواقعہ کچھ یوں ہوا۔ شوٹنگ کے دوران رخسانہ گھر پر نہیں تھیں وہ جب کام سے گھر واپس آئیں تو ان کو معلوم ہوا تو صائمہ کی موجودگی کی اطلاع پر چونک گئیں اورسیدھی کچن میں گئیں اور صائمہ کے لئے چائے تیار کی، ملازموں سے کہا کہ انہیں چائے دے دو اور خود صائمہ کو ملے بغیر اپنے کمرے میں چلی گئیں۔
صائمہ ساتھ ہیں رخسانہ نور دونوں سے بہت دور شہر خموشاں میں دونوں کیلئے دعاگوہوں ۔ 
اور آخری بات…
کہانی میری روداد جہاں معلوم ہوتی ہے
جو سنتا ہے اسی کی داستاں معلوم ہوتی ہے 

ٹیگز: