Wed, September 16, 2026

بلوچستان ماتھے کا جھومر

بلوچستان ماتھے کا جھومر

سرزمین بلوچستان اپنے سنگلاخ پہاڑوں، نیلگوں سمندر، بے پناہ وسائل ،باہمت،غیور اور محب وطن لوگوں کے باعث پاکستان کے ماتھے کا جھومر ہے۔ کبھی یہ خطہ محرومی، بدامنی اور پسماندگی کی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج بلوچستان ترقی، استحکام اور خوشحالی کی نئی راہوں پر گامزن ہے۔برسوں تک دشمن قوتوں نے اس خطے کے بارے میں یہ تاثر عام کیا کہ یہاں اندھیرا اور بے بسی کا راج ہے، لیکن اب حقیقت اس کے برعکس ہے ،بلوچستان بدل چکا ہے۔ یہاں امن کی فضا بحال ہو چکی ہے، تعلیم و صحت کے شعبے فروغ پا رہے ہیں، سڑکیں اور بازار آباد ہیں، اور عوام میں امید، عزم اور اعتماد کی ایک نئی روشنی جاگ اٹھی ہے۔امن ہر ترقی کی بنیاد ہوتا ہے۔ گذشتہ چند برس میں ریاستی اداروں اور عوام نے مل کر جس جرأت و ہمت سے دہشت گردی، تخریب کاری اور جرائم کے خلاف کامیاب جنگ لڑی، قربانیاں دیں،اس نے بلوچستان کو نئی زندگی بخشی ہے۔ آج کوئٹہ سے گوادر تک امن و امان کی فضا قائم ہے۔ کاروباری سرگرمیاں عروج پر ہیں، سکولوں میں علم کے چراغ روشن ہیں، اور لوگ مستقبل کے بارے میں پرامید ہیں۔ بلوچستان کے عوام اب جان چکے ہیں کہ امن اور ترقی لازم و ملزوم ہیں۔کسی بھی علاقے کی ترقی سڑکوں سے شروع ہوتی ہے، اور یہی بلوچستان میں ہو رہا ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے تحت بننے والی مکران کوسٹل ہائی وے، خضدار،بیسمہ ،پنجگور روڈ، کوئٹہ،ژوب ، تربت، بلیدہ، M8،N85 اور گوادر لنک روڈ جیسے منصوبے نہ صرف تجارتی راستوں کو جوڑ رہے ہیں بلکہ دور دراز علاقوں کو قومی معیشت کے دھارے میں لا رہے ہیں۔گوادر، جو کبھی ایک ویران ماہی گیر بستی تھی، اب ایک جدید بندرگاہی شہر بن چکا ہے۔ یہاں انفراسٹرکچر، پانی، بجلی، ہاؤسنگ اور ٹرانسپورٹ کے منصوبے مکمل ہو چکے ہیں، جبکہ نیا بین الاقوامی ایئرپورٹ اور سپیشل اکنامک زون روزگار کے نئے دروازے کھول رہے ہیں۔تعلیم وہ چراغ ہے جو اقوام کی تقدیر بدل دیتا ہے۔ بلوچستان میں گذشتہ چند برس کے دوران تعلیمی میدان میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ نئے سکول، کالج اور فنی تعلیمی ادارے قائم کیے گئے ہیں۔ اساتذہ کی بھرتی، وظائف کی فراہمی اور جدید سہولتوں کی بدولت علم کی روشنی دور دراز بستیوں تک پہنچ چکی ہے۔ بلوچستان ریذیڈنشل کالج، آواران کیڈٹ کالج، پنجگور ماڈل سکول،تربت یونیورسٹی، لسبیلہ یونیورسٹی آف ایگریکلچر اور بولان یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز جیسے ادارے نوجوان نسل کو ہنرمند اور باشعور بنا رہے ہیں۔صحت کے میدان میں بھی امید افزا تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ صوبے کے مختلف علاقوں میں بنیادی صحت مراکز(BHU)، ڈسپنسریاں اور ہسپتال فعال ہیں۔ موبائل میڈیکل یونٹس اور فری میڈیکل کیمپس عوام کو علاج معالجے کی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کر رہے ہیں۔ گوادر میں پاکستان چائنا فرینڈشپ ہسپتال، خضدار اور کیچ میں نئے ہسپتال، گائنی وارڈز اور خواتین کی صحت کے منصوبے بلوچستان کے سماجی ڈھانچے کو مضبوط بنا رہے ہیں۔بلوچستان میں پانی ہمیشہ مسئلہ رہا ہے ، مگر حالیہ برسوں میں ڈیموں، واٹر سکیموں، سولر ٹیوب ویلوں اور بارش کے پانی کے ذخائر کے منصوبوں نے یہ کمی بہت حد تک پوری کر دی ہے۔ نوشکی، خاران، آواران ، پنجگورودیگر علاقوںمیں تعمیر ہونے والے ڈیم نہ صرف زراعت بلکہ روزمرہ زندگی میں بھی خوشحالی کے ضامن بن رہے ہیں۔شمسی توانائی کے منصوبوں سے تربت، گوادر اور خضدار جیسے شہروں کے ہزاروں گھر روشن ہو چکے ہیں، جو بلوچستان کو ایک خود کفیل صوبے کی طرف لے جا رہے ہیں۔ گرین پاکستان انیشیٹیو پروگرام کے تحت بلوچستان میں شعبہ زراعت پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ اس حوالے سے جنوبی بلوچستان کے علاقہ دشت میں ایک لاکھ ایکٹر زرعی زمین پر اس پائلٹ پراجیکٹ (آزمائشی منصوبے) کا آغاز کیاگیا،پانی کی فراہمی کے لیے سولر ٹیوب ویلز لگائے گئے جس کی وجہ گندم، تربوز،پیاز اور کپاس کی ریکارڈ فصل کاشت کی گئی ۔ حکومت کی جانب سے رعایتی نرخوں پر بیج، کھاد کی دستیابی اور جدید زرعی آلات کی فراہمی نے کسانوں کو نئی زندگی دی۔جس سے سائوتھ بلوچستان کے 110سے زائد خاندانوں نے ان سہولیات سے استفادہ کیا ۔ ماشکیل، خاران اور پنجگور کے انار، کھجور، پیاز اور سبزیاں اب نہ صرف پاکستان کے دوسرے حصوں بلکہ بیرون ملک بھی برآمد ہو رہی ہیں۔اسی طرح ماہی گیری، معدنیات اور دستکاری کے شعبوں میں روزگار کے بے شمار مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ بلوچستان کی ترقی کا سب سے روشن پہلو عوام کی شمولیت ہے۔ نوجوانوں کے لیے تعلیمی سیمینارز، کھیلوں کے مقابلے، ثقافتی میلے،(حالیہ کیچ فیسٹیول) اور تربیتی پروگرام معمول بن چکے ہیں، جنہوں نے نوجوان نسل میں قومی یکجہتی، حب الوطنی اور مثبت سوچ کو پروان چڑھایا ہے۔ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کا یہ رشتہ بلوچستان کے روشن مستقبل کی ضمانت بن چکا ہے۔سرحدی علاقوں میں بارڈر ٹریڈ مارکیٹس کے قیام سے مقامی معیشت میں نئی روح پھونکی گئی ہے۔ نوشکی، تفتان، ماشکیل اور پنجگور میں یہ مارکیٹیں روزگار، تجارت اور خوشحالی کا ذریعہ بن رہی ہیں۔ ان مارکیٹوں نے نہ صرف قانونی تجارت کو فروغ دیا بلکہ غیر قانونی ذرائع سے وابستہ عناصر کو بھی مثبت معاشی سرگرمیوں کی طرف راغب کیا ہے۔بلوچستان کے نوجوان آج تعمیر و ترقی کے علمبردار ہیں۔ وہ ملک کے مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔ وہی نوجوان جنہیں کبھی گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی، آج علم، محنت اورجذبہ حب الوطنی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ دشمن قوتیں بلوچستان کی اس ترقی سے خوفزدہ ہیں،اسی لیے وہ کبھی سوشل میڈیا پر منفی پراپیگنڈا پھیلاتی ہیں، کبھی لسانی تعصبات کو ہوا دیتی ہیں،تو کبھی ان ترقیاتی منصوبوں پر حملے کرتی ہیں۔ مگر اب عوام باشعور ہو چکے ہیں۔ وہ جان چکے ہیں کہ اتحاد، تعلیم اور ترقی ہی ان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہیں۔بلوچستان کی ترقی اب محض سڑکوں یا عمارتوں کی تعمیر تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ ایک فکری، سماجی اور معاشی انقلاب کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ محرومیوں کی جگہ اب اعتماد نے لے لی ہے، مایوسی کی جگہ امید نے اور بدامنی کی جگہ امن و استحکام نے۔ ریاست اور عوام ایک پیج پر ہیں۔ یہی کسی مضبوط قوم کی اصل طاقت ہوتی ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم بلوچستان کو ماضی کے منفی بیانیے سے نکال کر پاکستان کے مستقبل، استحکام اور وقار کی علامت کے طور پر پیش کریں۔ کیونکہ بلوچستان صرف پاکستان کا ایک صوبہ نہیں، بلکہ پاکستان کی تقدیر ہے، بلوچستان، پاکستان کے ماتھے کا جھومر ہے۔

ٹیگز: