Wed, September 16, 2026

اگلی باری کس کی؟ لشکر کشی، مجبور محبت

اگلی باری کس کی؟ لشکر کشی، مجبور محبت

نئی لڑائیاں شروع ہوگئیں، پرانی لڑائیوں میں شدت آگئی ایک مذہبی پلس سیاسی پارٹی کالعدم قرار، سافٹ سٹیٹ دیکھتے ہی دیکھتے ہارڈ سٹیٹ بن گئی، کالعدم قرار دینے کی وجہ؟ مرید کے میں گھمسان کارن پڑا۔ پولیس نے اپنے جاں بحق ایس ایچ او اور اہلکاروں اور زخمیوں کے نام بتا دئیے، لشکر جرار کے نام پتے غائب اپنے لوگ تھے۔ تعزیت، عیادت ہی کر لی جاتی، مبینہ طور پر 6 ہزار سے زائد گرفتار ہوئے، جوش میں ہوش سے کام نہیں لیا گیا، پارٹی کے قائد اور ان کے بھائی میدان کار زار سے مرید کے کی گلیوں میں غائب ہوگئے ایک ویڈیو میں انہیں موٹر سائیکل پر آزاد کشمیر میں جاتے دیکھا گیا مگر وہاں لے جانے والا تنہا لوٹا، پولیس نے علاقہ چھان مارا، کھوجیوں نے تھک ہار کر خبر سنائی جن کے پاس ہیں وہ جلد گھر نہیں لوٹنے دیں گے، مسلم لیگ ن سے ناتا توڑ کر گھر بیٹھے حضرت جلیل شرقپوری نے شہادت کی خبر سنا دی، اس قسم کی جعلی خبروں سے ہی فساد پھیلتا ہے کاش حضرت صاحب قرآنی حکم کے مطابق تحقیق کر لیتے، تحریک لبیک پاکستان انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت کالعدم قرار، آرٹیکل 17کے تحت پابندی کا فیصلہ کیا جاتا تو 15دن کے اندر سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کرنا ضروری تھا، انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت اس کی ضرورت نہیں، دنگا فساد کا فائدہ؟ مال ضبط، 38 سو سہولت کاروں کی پکڑ دھکڑ، 95 بینک اکائونٹس منجمد، املاک سیل، مساجد محکمہ اوقاف کی تحویل میں گئیں، بچ جانے والے اپنی عقیدت چھپائے لاہور کی سموگ زدہ سڑکوں پر سردیوں کی شاموں میں اداس پھر رہے ہیں ’’اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں‘‘ وفاقی حکومت نے پنجاب حکومت کی سمری پر وفاقی کابینہ کی منظور کے بعد پابندی لگائی، وزارت داخلہ نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا، چیپٹر کلوز، کسی بزر جمہر نے کہا، کل اور کسی نام سے آ جائیں گے یہ لوگ ’’جواب ملا‘‘ ہارڈ سٹیٹ میں شاید ایسا ممکن نہ ہو، 2021ء میں بھی پابندی لگی تھی 6 ماہ بعد معافی تلافی ہو گئی مگر اب کے سرگرانی اور ہے، انہوں نے ٹھانی اور ہے۔
اب کس کی باری ہے؟ لوگ چپکے چپکے پی ٹی آئی کا نام لے رہے ہیں، اقتدار اور سیاست کے بے رحمانہ کھیل، واقعی سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا، ہر گزرتا دن حکومت کے لیے نئے مسائل کھڑے کر رہا ہے، عوام کو مہنگائی مار گئی، غضب خدا کا 75 روپے کلو والا ٹماٹر 630 روپے کلو یعنی ایک ٹماٹر 75 روپے میں دستیاب، آٹا، گھی، چینی سمیت تمام اشیائے صرف کی قیمتوں میں اضافہ، ملکی غیر ملکی قرضے بڑھ گئے مزید لینا ہوں گے۔ اللہ بھلا کرے وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے حساب کتاب لگا کر بجلی قدرے سستی کی اب وزیراعظم نے صنعتی اور کمرشل اداروں کیلئے مزید کمی کا اعلان کیا اور امید ظاہر کی کہ ان شاء اللہ پاکستان عظیم ملک بنے گا، وزیراعظم کی زبان مبارک غربت کی لیکر سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد 45 فیصد ہو گئی ہے لیکن ہمارے ٹی وی اینکروں، تجزیہ کاروں اور ویلا گرز کے نزدیک مہنگائی مسئلہ نہیں، ملک کا سب سے بڑا مسئلہ مائی ڈیئر خان اور ان سے جڑے سو مسائل ہیں، یقین نہیں آیا تو 24 گھنٹوں کے دوران کسی بھی وقت ٹی وی آن کیجئے اینکر پرسن اور پرسنیاں ایک ہی مسئلہ پر پریشان دکھائی دیں گے، بحت مباحثوں، ویلاگز کا ایک ہی موضوع خان کی رہائی، وکلاء کی دہائی مخالفین کی پٹائی، ٹاک شوز کا ایک ہی فارمولہ، چار افراد ایک کا تعلق ن لیگ، دوسرا پی پی، تیسرا پی ٹی آئی اور چوتھا اینکر پرسن یا سوال کرتی خاتون، کبھی کبھار شامت کا مارا کوئی ماہر قانون جس کی کوئی نہیں سنتا سب اپنی اپنی ہانک کر وفاداریاں کھری کرتے ہیں جس پروگرام میں ذات کے بھٹی اور رانے لڑ پڑیں، اس کی ریٹنگ بڑھ جاتی ہے حاصل حصول صفر بٹا صفر۔ فرد واحد کے لیے پولیس صحافی کیمرہ مین اور مکے لاتیں کھا کر بھی بے مزہ نہ ہونے والے بے چارے رپورٹر 24 گھنٹے اڈیالہ جیل کے باہر مستعد، خان کی مقبولیت بڑھانے اور بڑھکے مارنے والوں کی مشہوری کے حربے، قبولیت سے انکار کے باوجود ’’پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے‘‘ خان دو سال سے جیل میں ’’محفوظ زندگی‘‘ گزار رہے ہیں، ان کے یا ان کی اہلیہ کے پاؤں میں کیڑا کاٹنے کی جسارت کرے تو عالمی خبر بن جاتی ہے خان کے خلاف مزید مقدمات کی سماعت آخری مراحل میں ہے مزید سزائیں ہو سکتی ہیں۔ نجم سیٹھی کے مطابق 2035ء تک خان کی رہائی ناممکن، سپریم کورٹ سے بھی ریلیف کی زیادہ امید نہیں، اگر یہی بنیادی مسئلہ ہے تو باقی مسائل کا اللہ حافظ، قادر مطلق ہے وہی حل کرے گا۔ بنیادی مسئلہ نہیں تو دیگر عوامی مسائل پر توجہ دی جانی چاہیے۔ آنے والے دنوں میں جس پارٹی کی باری کا شور ہے اس کے کارنامے ملاحظہ فرمائیں۔ خان کے سارے کارڈ ختم ہو گئے چند وکلاء کے سوا سارے کردار مایوس ہو چکے، خان خود بھی آنے والے دنوں سے پریشان اسی پریشانی میں نا تجربہ کار لیکن اپنے عشق میں مبتلا سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ منتخب کرنے کی ہدایت کر بیٹھے جن کے بچگانہ کارنامے منظر عام پر آنے لگے ہیں۔ سیانے ابھی سے انہیں بچہ سقہ کے نام سے پکارنے لگے، منتخب ہوئے ہفتہ ہونے کو آیا اب تک کابینہ نہیں بنا سکے، خان سے ملاقات ہو گی تو کابینہ بنے گی، ملاقات کیلئے اسلام آباد آئے تھے دہگل ناکے پر روک لیے گئے۔ کیمروں کو اردگرد پا کر دھمکی دی۔ اب عوام کے ساتھ آئوں گا، 24 یا 26 نومبر کی تاریخ دہرائی جائے گی؟ ایسا ہوا تو پی ٹی آئی کی باری بھی نوشتہ دیوار ہے۔ تاہم رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ 27 اکتوبر (آج) سہیل آفریدی کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرا دی جائیگی، ان کا کہنا تھا کہ اب تک ملاقات کی اجازت نہ دینے کا مقصد انہیں آسمان سے زمین پر لانا تھا۔
مجبور محبت کی عجب کہانی، پیپلز پارٹی وفاقی حکومت میں بڑی اتحادی جماعت دو سال پہلے بلکہ اس سے 18 ماہ قبل نگراں حکومت میں بھی شامل رہی۔ بلاول بھٹو نگراں دور ہی میں عالمی سطح پر متعارف ہوئے اچھی شہرت اور بہترین کارکردگی کے حامل قرار پائے، حکومت میں شمولیت برضا و رغبت ہوئی یا کسی نے سر پکڑ کر قبول ہے کہلوایا نکاح ہو گیا، شادی کو دو سال سے زیادہ عرصہ گزر گیا، جہیز میں دو صوبوں کی حکومتیں، صدارت، چیئرمین سینیٹ، ڈپٹی سپیکر، دو صوبوں کی گورنر شپ ملی مزید بہت کچھ لینے سے انکار، دو سال بعد تعلقات میں بگاڑ، وجہ پہلے نہری تنازع پنجاب میں تقرریوں کے اختیارات نہ ملنے کی شکایت اور اب آزاد کشمیر کی حکومت لینے کا مطالبہ کیا گیا ذرا انتظار کر لیجئے جولائی میں انتخابات ہونے والے ہیں، مگر مطالبہ تو مطالبہ ہے صدر محترم کراچی چلے گئے۔ محترمہ فریال تالپور اسلام آباد آ گئیں، میکے سسرال آنا جانا لگا رہتا ہے مگر ناراضی بُری بات، اللہ رشتہ جوڑے رکھے، یہی ملکی مفاد میں ہے رنجشیں دور ہوتی ہیں دل میں خان کی طرح نفرت اور بغض جگہ بنا لے تو گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر کے بقول مجبور محبت یا بھیانک خواب کا تاثر ابھرتا ہے قوی امکان اتحاد قائم رہے گا اور ٹوٹنے پر نظریں جمائے اسد قیصر کے خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوں گے۔

ٹیگز: