Wed, September 16, 2026

وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ، افغان طالبان رجیم عالمی سکیورٹی کے لیے خطرہ

وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ، افغان طالبان رجیم عالمی سکیورٹی کے لیے خطرہ

واشنگٹن: وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ کے واقعے میں دو نیشنل گارڈز زخمی ہو گئے جبکہ مشتبہ حملہ آور رحمان اللہ لاکانوال کو گرفتار کر لیا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملے کو دہشت گردی قرار دیا اور افغان شہریوں کی امیگریشن درخواستیں غیر معینہ مدت کے لیے روک دی گئیں۔

سی این این کے مطابق، رحمان اللہ 2021 میں آپریشن "الائیز ویلکم" کے تحت امریکہ آیا اور 2024 میں پناہ کی درخواست دی، جو اپریل 2025 میں منظور ہو گئی۔ رپورٹ کے مطابق افغان طالبان رجیم نے ملک میں سرگرم دہشت گرد گروہوں کے اراکین کو افغان پاسپورٹ جاری کیے اور انہیں محفوظ پناہ گاہیں فراہم کیں۔

یورپی یونین اور اقوام متحدہ کی رپورٹس کے مطابق طالبان کے بڑھتے ہوئے تعلقات دہشت گرد گروہوں کے ساتھ نہ صرف افغانستان بلکہ خطے کی سلامتی کے لیے بھی سنگین خطرہ ہیں۔ امریکی فوج کے افغانستان سے انخلاء کے دوران چھوڑے گئے تقریباً 7 ارب ڈالر مالیت کے ہتھیار بعض گروہوں کے ہاتھوں میں پہنچ چکے ہیں، جو عالمی دہشت گردی کے لیے محرک ہیں۔

پاکستان سمیت عالمی برادری نے بارہا طالبان کی دہشت گرد پشت پناہی پر خدشات ظاہر کیے ہیں، جبکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ڈنمارک اور روس نے طالبان کے خطرناک عزائم کے حوالے سے خبردار کیا ہے۔

ٹیگز: