Wed, September 16, 2026

علی لاریجانی کا پاکستان اور افغانستان کے درمیان اختلافات پر تشویش کا اظہار، تعاون کی پیشکش

علی لاریجانی کا پاکستان اور افغانستان کے درمیان اختلافات پر تشویش کا اظہار، تعاون کی پیشکش

اسلام آباد: ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات ایران کے لیے تشویش کا باعث ہیں، اور ان اختلافات کے حل کے لیے ایران ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان چاہے تو ایران افغانستان اور پاکستان کے درمیان مثبت کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران علی لاریجانی نے کہا کہ انہوں نے پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ اپنے ملاقات میں پاک ایران اسٹریٹجک شراکت داری پر تفصیل سے بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کو اب ایک جامع اسٹریٹجک فریم ورک تیار کرنے کی ضرورت ہے، جو ان کی باہمی ضروریات اور حالات کے مطابق ہو۔

علی لاریجانی نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان انٹیلیجنس شیئرنگ کا عمل باہمی تعاون کا ایک اہم حصہ ہے۔ اگر پاکستان چاہے تو ایران اس میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ دونوں ممالک کے مفاد میں افغانستان کے حوالے سے کوئی حل نکالا جا سکے۔

ایران پاکستان گیس پائپ لائن کے بارے میں بات کرتے ہوئے علی لاریجانی نے کہا کہ ایران نے اس منصوبے کے حوالے سے اپنی تمام ذمہ داریاں مکمل کر دی ہیں اور اگر راستے میں رکاوٹیں نہ آتیں تو آج پاکستانی عوام ایرانی گیس کا استعمال کر رہے ہوتے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس مسئلے کا حل جلد نکل آئے گا۔

لاریجانی نے پاکستان اور ایران کے تعلقات کو مثبت انداز میں سراہا اور کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ امریکا کے ساتھ اچھے تعلقات کے باوجود ایران کی حمایت کی، جسے ایران قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ غزہ میں کسی بین الاقوامی امن فورس میں پاکستان کی شمولیت کا فیصلہ پاکستان کا اختیار ہے، لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ ایسے حل دیرپا نہیں ہوتے اور یہ مزید مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔

دہشت گردی کے حوالے سے علی لاریجانی نے کہا کہ پاکستان اور ایران دونوں ہی دہشت گرد گروپوں کے لیے مشترکہ چیلنج کا سامنا کر رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ سرحد پار دہشت گردی کے خلاف مل کر کارروائیاں کریں تاکہ خطے میں امن قائم کیا جا سکے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ داعش جیسی دہشت گرد تنظیموں کو مغربی ممالک نے تخلیق کیا تھا اور مختلف دہشت گرد گروپوں کو عالمی انٹیلیجنس ایجنسیوں کی حمایت حاصل ہے۔

ٹیگز: