سیاسی بصیرت ایک ایسی نعمت ہے جو قوموں کی تقدیر بدلنے کی ضامن بنتی ہے۔ تاہم بین الاقوامی سیاست میں وہی ممالک اہمیت حاصل کرتے ہیں جو صرف جغرافیے کے باعث نہیں بلکہ اپنے کردار، اعتماد اور سفارتی بصیرت کی بنیاد پر دنیا میں پہچانے جائیں۔ گزشتہ چند برسوں میں پاکستان نے جس انداز میں خطے کے حساس معاملات میں متوازن اور ذمہ دار کردار ادا کیا ہے اس نے عالمی طاقتوں کی توجہ ایک بار پھر پاکستان کی جانب مبذول کرا دی ہے۔ خصوصاً مشرقِ وسطیٰ کی پیچیدہ صورتحال میں پاکستان کی ثالثی اور سفارتی کوششوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔
حالیہ عالمی رپورٹس اور سفارتی حلقوں میں یہ تاثر نمایاں ہو رہا ہے کہ پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں خاموش مگر مو¿ثر کردار ادا کیا۔ اس تمام عمل میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سفارتی حکمت عملی، علاقائی فہم اور اعتماد سازی کی صلاحیت کو خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی میڈیا، خصوصاً مغربی ذرائع ابلاغ، پاکستان کے کردار کو محض ایک روایتی اتحادی کے بجائے ایک سنجیدہ ثالث کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ اس وقت غیر یقینی صورتحال سے گزر رہا ہے۔ غزہ کی جنگ، لبنان میں کشیدگی، خلیجی ممالک کی سیاسی صف بندی اور ایران امریکہ تعلقات نے پورے خطے کو ایک نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ ایسے ماحول میں اگر کوئی ملک پسِ پردہ سفارتی رابطوں کے ذریعے مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں کامیاب ہوا تو وہ پاکستان ہے۔ یہ کامیابی محض اتفاق نہیں بلکہ ایک طویل المدتی اور متوازن خارجہ پالیسی کا نتیجہ ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کے تہران دورے کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ سفارتی مبصرین کے مطابق اس دورے نے مذاکراتی عمل کو نئی سمت دی اور مجوزہ سفارتی مسودے کو قابلِ قبول شکل دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ اہم بات یہ ہے کہ پاکستان نے کسی ایک فریق کا نہیں بلکہ خطے میں امن اور استحکام کا ساتھ دیا۔ یہی متوازن رویہ پاکستان کی سفارت کاری کو دوسروں سے ممتاز بناتا ہے۔ دنیا میں ثالثی کا کردار صرف طاقت سے نہیں بلکہ اعتماد سے حاصل ہوتا ہے اور یہی وہ پہلو ہے جس نے پاکستان کو ایک بار پھر عالمی سطح پر نمایاں کیا۔ ایران اور امریکہ جیسے متضاد مفادات رکھنے والے ممالک اگر پاکستان کی تجاویز کو سنجیدگی سے لیتے ہیں تو اس کی بنیادی وجہ اسلام آباد کی سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان ہم آہنگی اور واضح قومی پالیسی ہے۔ یہی ہم آہنگی پاکستان کے مو¿قف کو مو¿ثر بناتی ہے۔
یہاں یہ امر بھی قابل غور ہے کہ پاکستان ماضی میں بھی عالمی سفارت کاری میں اہم کردار ادا کر چکا ہے۔ امریکہ اور چین کے درمیان تعلقات کی بحالی میں پاکستان نے ایک خاموش مگر تاریخی کردار ادا کیا تھا۔ آج ایک مرتبہ پھر پاکستان اسی سفارتی روایت کو آگے بڑھاتا دکھائی دے رہا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اب دنیا پاکستان کو محض ایک علاقائی کھلاڑی نہیں بلکہ ایک ذمہ دار اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے حوالے سے عالمی شخصیات کے مثبت بیانات بھی اسی اعتماد کی عکاسی کرتے ہیں۔ تاہم اصل اہمیت شخصیات سے زیادہ اس ریاستی پالیسی کی ہے جس نے پاکستان کو ایک بار پھر عالمی سفارت کاری کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ تصادم کے بجائے مذاکرات، کشیدگی کے بجائے مفاہمت اور جنگ کے بجائے امن کی بات کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مشکل ترین حالات میں بھی پاکستان کو رابطے کے ایک محفوظ اور قابلِ قبول پل کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
المختصر! حقیقت یہ ہے کہ آج کی دنیا صرف عسکری طاقت سے نہیں بلکہ سفارتی حکمت، سیاسی استحکام اور عالمی اعتماد سے چلتی ہے۔ اگر پاکستان اپنی داخلی یکجہتی، معاشی استحکام اور متوازن خارجہ پالیسی کو برقرار رکھتا ہے تو وہ مستقبل میں بھی خطے کے اہم ترین سفارتی کرداروں میں شامل رہ سکتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں امن کی کوئی بھی سنجیدہ کوشش پاکستان کے کردار کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی، اور یہی وہ حقیقت ہے جسے اب عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔