اسلام آباد: مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اپنی احتجاجی کال سے عوام کو سڑکوں پر لانے میں ناکام رہے گی۔ ان کے بقول، پارٹی اس وقت انتشار اور غیر واضح مذاکراتی حکمتِ عملی کا شکار ہے۔
ایک بیان میں عرفان صدیقی نے کہا کہ حکومت شاید عمران خان کو کچھ رعایتیں دے سکتی ہے، لیکن عمران خان خود کسی کو کچھ دینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی قیادت کو پہلے یہ طے کرنا چاہیے کہ مذاکرات کس سے اور کس معاملے پر کرنے ہیں، کیونکہ ماضی میں بھی وہ سنجیدہ بات چیت سے پیچھے ہٹتے رہے ہیں۔
سینیٹر نے کہا کہ اگر اپوزیشن تحریکِ عدم اعتماد لانا چاہتی ہے تو میدان میں آ جائے، لیکن اس کا نقصان خود پی ٹی آئی کو ہوگا کیونکہ ان کے متعدد ارکان وفادار نہیں رہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی صفوں میں کوئی علوی یا قاسم سوری موجود نہیں جو پارٹی موقف سے ہٹ کر قدم اٹھائے۔
عرفان صدیقی نے ایک سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اگر بھارت کی طرف سے کوئی جارحیت ہوئی تو پاکستان بھرپور جواب دے گا۔ ان کے بقول، "اگر مودی گولی چلائے گا تو ہم گولہ کھلائیں گے۔"
یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے نئی احتجاجی تحریک کا اعلان کر دیا ہے، جس کی قیادت وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کریں گے۔