Wed, September 16, 2026

پاکستان کا مودی کے دھمکی آمیز بیان پر شدید ردعمل، عالمی برادری سے نوٹس لینے کا مطالبہ

پاکستان کا مودی کے دھمکی آمیز بیان پر شدید ردعمل، عالمی برادری سے نوٹس لینے کا مطالبہ

اسلام آباد: پاکستان نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے حالیہ بیان کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بیان اشتعال انگیز، نفرت پھیلانے والا اور عالمی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ایک ایسے شخص کا، جو جوہری ہتھیار رکھنے والے ملک کا وزیراعظم ہو، اس انداز میں بیان دینا انتہائی غیر ذمہ دارانہ عمل ہے۔

پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنا دفاع کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ مودی کا بیان نہ صرف خطے کے امن کو نقصان پہنچا سکتا ہے بلکہ اس کا مقصد دنیا کی توجہ مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے ہٹانا ہے۔

دفتر خارجہ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارت کی اشتعال انگیز سیاست اور انتہا پسند سوچ کا نوٹس لے۔ اگر بھارت کو واقعی انتہا پسندی کی فکر ہے تو پہلے اپنے ملک میں اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے سلوک کو دیکھے۔

یاد رہے کہ نریندر مودی نے گجرات میں ایک انتخابی جلسے میں پاکستان پر دہشتگردی کے الزامات دہراتے ہوئے کہا تھا کہ "پاکستان کے عوام سوچیں کہ انہوں نے کیا حاصل کیا؟ انڈیا آج دنیا کی چوتھی بڑی معیشت ہے، اور پاکستان کہاں کھڑا ہے؟" انہوں نے مزید کہا کہ "پاکستان کے لوگوں کو آتنک (دہشتگردی) سے نجات کے لیے خود آگے آنا ہوگا، ورنہ میری گولی تو ہے۔"
پاکستان نے اس بیان کو کھلی اشتعال انگیزی اور دھمکی قرار دیتے ہوئے اسے خطے کے امن کے لیے خطرناک قرار دیا ہے۔

ٹیگز: