پاکستان کی معیشت اس وقت ایک نازک مگر امید افزا دور سے گزر رہی ہے۔ مالی سال 2025-26 کا بجٹ کئی حوالوں سے نہایت اہمیت کا حامل ہے، خصوصاً جب دفاعی اخراجات، ترقیاتی منصوبہ جات اور اقتصادی استحکام کے درمیان توازن قائم رکھنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ اس صورتحال میں پاک بھارت حالیہ تنازع نے خطے میں سلامتی کے خدشات کو بڑھا دیا ہے، جس کی روشنی میں پاکستان کے لیے اپنی دفاعی ضروریات کو پورا کرنا مزید اہم ہو گیا ہے۔ مالی سال 2026 کے لیے وفاقی ترقیاتی بجٹ کا تخمینہ تقریباً 1,000 ارب روپے لگایا گیا ہے،جو گزشتہ برس کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ صوبائی حکومتیں بھی ترقیاتی منصوبوں پر 2,000 ارب روپے کے قریب خرچ کرنے جا رہی ہیں۔ یہ دونوں اعداد و شمار اس بات کا ثبوت ہیں کہ حکومتیں بنیادی ڈھانچے، صحت، تعلیم، اور زراعت جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری کو ترجیح دے رہی ہیں، تاکہ طویل المدتی اقتصادی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔موجودہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت وفاق صوبائی حکومتوں کے مالی حصے میں کسی قسم کی کٹوتی نہیں کر سکتا۔ اس کے باوجود وفاقی حکومت اب بھی ان شعبہ جات میں خرچ کر رہی ہے جو آئینی طور پر صوبوں کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں، جیسے کہ صحت، تعلیم، زراعت، اور غربت کا خاتمہ۔ یہ روش وفاق کی اس پالیسی کو ظاہر کرتی ہے جو اجتماعی ترقی کو یقینی بنانے کے لیے مرکزی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دیتی ہے۔ مالی سال 2026 میں قومی بچت اور سرمایہ کاری کی شرح میں اضافے کی پیش گوئی کی جا رہی ہے۔ یہ بہت اہم ہے کیونکہ ایک مستحکم اور بڑھتی ہوئی معیشت کے لیے داخلی بچت اور سرمایہ کاری کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ جب بچت کی شرح بڑھتی ہے تو ملکی سرمایہ کاری کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بیرونی قرضوں پرانحصارکم ہوتا ہے۔
آئی ایم ایف کے مطابق ان مثبت اشاریوں کی روشنی میں پاکستان کی جی ڈی پی میں 3.6 فیصد کی شرح سے اضافہ متوقع ہے، جو کہ موجودہ مالی سال میں 2.6 فیصد تھی۔ یہ بہتری کم شرح سود، سستی توانائی، بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری اور میکرو اکنامک استحکام کے باعث ممکن ہوئی ہے۔ یہ ترقی نہ صرف معیشت کی بحالی کی علامت ہے بلکہ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور غربت میں کمی لانے میں بھی معاون ثابت ہو سکتی ہے۔
پاکستان کی جغرافیائی صورتحال اور خطے میں موجود سکیورٹی خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے دفاعی اخراجات میں اضافے کی ضرورت ہے، خاص طور پر حالیہ پاک۔بھارت کشیدگی کے تناظر میں۔ بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر اشتعال انگیز حرکات اور جدید اسلحے کے حصول کی دوڑ نے خطے میں طاقت کا توازن بگاڑنے کی کوشش کی ہے۔ ایسے میں پاکستان کو اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ دفاعی اخراجات میں اضافے کو آسانی سے مالیاتی فریم ورک میں ضم کیا جا سکتا ہے، کیونکہ سودی ادائیگیوں میں واضح کمی متوقع ہے۔ پالیسی ریٹ 22 فیصد سے کم ہو کر گیارہ فیصد پر آنے کی بدولت سودی اخراجات کا بوجھ گزشتہ مالی سال 9,800 ارب روپے سے کم ہو کر موجودہ مالی سال 8,685 ارب روپے تک آ جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ، حکومت کی جانب سے غیر ضروری محکموں کو بند کرنا اور خالی آسامیوں کو ختم کرنا بھی اخراجات میں کمی کا باعث بنے گا۔مالی سال 2026 کے لیے ٹیکس آمدن کا ہدف 14,000 ارب روپے رکھا گیا ہے، جو کہ گزشتہ برس کے 12,300 ارب روپے سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ اضافہ نہ صرف مالیاتی وسعت کا مظہر ہے بلکہ اس بات کی بھی دلیل ہے کہ حکومت ٹیکس نیٹ کو وسعت دے رہی ہے اور محصولات کے نظام کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔یہ تمام اقدامات اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ دفاعی اخراجات میں اضافے کے باوجود ترقیاتی منصوبوں یا معاشی نمو کی رفتار پر منفی اثر نہیں پڑے گا۔ بلکہ، ایک مستحکم دفاعی نظام خود ملکی سلامتی اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرتا ہے، جو کہ معاشی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔
2025 کے اوائل میں پاک بھارت تعلقات میں ایک بار پھر کشیدگی دیکھنے میں آئی۔ بھارت کی جانب سے بعض سرحدی علاقوں میں جارحانہ اقدامات، اور اس کے میڈیا میں پاکستان کے خلاف بڑھتی ہوئی زبان درازی نے خطے میں ایک بار پھر جنگ کے بادل منڈلانا شروع کر دئیے۔ پاکستان نے صبر و تحمل سے کام لیا، مگر ساتھ ہی اپنی دفاعی تیاریوں میں بھی اضافہ کیا۔ اس کے بعد آپریشن سندور کی دھجیاں اڑا دی گئیں یہی وہ پس منظر ہے جس میں دفاعی بجٹ میں اضافے کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ دفاعی اخراجات کو مکمل طور پر نظر انداز کرنا کسی بھی ملک کی سلامتی کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے، خاص طور پر ایسے ماحول میں جہاں ہمسایہ ملک جارحیت کا مظاہرہ کر رہا ہو۔ تاہم، ان اخراجات کو معیشت پر بوجھ بنائے بغیر پورا کرنا ہی اصل حکمت عملی ہے، جو کہ موجودہ حکومت نے بجا طور پر اختیار کی ہے۔
پاکستان کا مالی سال 2026 کا بجٹ ایک متوازن اور پائیدار اقتصادی حکمت عملی کی عکاسی کرے گا۔ جہاں ایک طرف ترقیاتی اخراجات، سرمایہ کاری، اور بچت میں اضافہ ہو رہا ہے، وہیں دوسری طرف دفاعی ضروریات کو بھی مناسب مالیاتی وسعت کے تحت پورا کیا جائے گا۔ پاک بھارت حالیہ تنازع نے دفاعی بجٹ میں اضافے کی اہمیت کو اجاگر کر دیا ہے، مگر یہ اطمینان بخش امر ہے کہ حکومت نے ان ضروریات کو معاشی ترقی کے تسلسل سے ہم آہنگ رکھا ہے۔ اگر یہی حکمت عملی برقرار رہی تو پاکستان نہ صرف سکیورٹی کے میدان میں خود کفیل ہو گا بلکہ اقتصادی استحکام کی جانب بھی گامزن رہے گا۔