Wed, September 16, 2026

ہم بدمعاشوں سے نہیں ڈرتے

ہم بدمعاشوں سے نہیں ڈرتے

دنیا کا کوئی شخص، خاندان، قبیلہ، ملک یا براعظم بلکہ ساری کائنات مل کر بھی اس کائنات کو نہیں چلا سکتی۔ صرف اس کا خالق اور مالک ہی چلا سکتا ہے اور چلا رہا ہے۔ نہیں معلوم، کوئی نہیں جانتا کہ اگلے لمحے کیا کمائی کرنے والا ہے یا کیا نقصان اٹھانے والا اور کل کیا ہو گا، کوئی نہیں جانتا۔ دنیا میں کسے رہنا ہے پتوں، پودوں، بوٹوں، انسانوں، پہاڑوں تک کے ساتھ جانوروں اور دیگر مخلوقات کے ساتھ مخلوقات کیسے رہیں گی، سب بتا دیا گیا۔ بتا دیا گیا کہ دنیا کی حکمرانی کس کو دی جائے گی، بتا دیا گیا کہ آخرت کیا ہے، بتا دیا گیا کہ خسارے میں کون ہے اور ہاں تکبر کا خاص طور پر بتا دیا گیا کہ یہ کبریائی کی چادر صرف کبریا کو ذیبا ہے۔ انسان، ملک یا کوئی بھی دوسرا اوڑھے گا تو بھسم ہو جائے گا۔ چند دہائیاں یا صدی تو کوئی معنی نہیں رکھتے، 10 سال میں تو کوئی کار ڈرائیو کرنا نہیں سیکھ سکتا، ہم حکمرانی کے انداز پر تجزیے شروع کر دیتے ہیں۔ قدرت اپنی کائنات اپنی مرضی اور میزان سے چلاتی ہے کسی سپر پاور، کسی مذہبی مسلک اجارہ داری کے تابع نہیں چل سکتی۔ جہاں انصاف نہ ہو وہ تو سیدھی رب کے قہر کو دعوت ہے۔ بات طویل ہو گئی میں نے ہمیشہ ظالم کو آتے ہوئے بھی، چشم تصور میں ڈوبتے سورج کی لاش میں دیکھا ہے اور قدرت نے دکھایا کیونکہ الہامی کتابیں اور تاریخ بھی ایسے ہی نشب و فراز سے بھری پڑی ہے۔ آج لوگ تجزیے کر رہے ہیں ایران کھڑا ہو گیا، ایران کی مجلس عاملہ، ایران کا نظام مگر علی خامنائی کی شہادت کے صرف دو ماہ پہلے ہی ایران اور ایرانی اُن کی حکومت کے خاتمے کے لیے سڑکوں پر تھے۔ مگر یاد رکھیے امریکہ نہیں ٹرمپ جو سراپا رعونت بن چکا تھا، نیتن یاہو کا نام لکھوں تو لگتا ہے میرا قلم نجس ہو گیا سراپا فرعون بن چکا تھا۔ مگر نہیں فرعون، نمرود تو استعارہ ہیں دراصل یہ ان کو مات دے چکے۔ ٹرمپ ایک پاپولسٹ سیاست دان، ایک غیر سیاسی سیاستدان، ایسا منہ زور گھوڑا جو اپنے ہی زور سے گر گیا، ایسا پہلوان جو اپنے وزن اور زور کے پہاڑ سے ہی قلابازیاں کھاتا ہوا دکھائی دیا۔ آج کی دنیا ایک مربوط دنیا ہے اکیلا تو کبھی کوئی زیادہ دیر نہیں نہ چل سکا۔ سوائے ایک انصاف کے نظام کے، پنجابی محاورہ ہے ”چھڈ بُرے دی یاری“ بُرے کی دوستی اور محبت کو چھوڑ دے۔ نیتن یاہو جس میں یہودیت تو درکنار پورے وجود میں کسی ایک مسام میں بھی انسانیت کا شائبہ تک نہیں، ٹرمپ جیسے کھلنڈرے نے اس کا رنگ لے لیا۔ پہلے یو این او کو غیر متعلق کیا، پیس بورڈ بنا کر غزہ میں خود ہی فیصلے کر ڈالے۔ دنیا نے شور مچایا یہ کوئی اقوام متحدہ کے ادارے کے متوازی ادارہ تو نہیں بنا لیا۔ پاکستان کا اس بورڈ میں رہنا بھی درست تھا کیونکہ اس پیس بورڈ نے اپنی موت آپ مر جانا تھا اور خواہ مخواہ اس وقت غزہ کے مسلمانوں کو اس مست ہاتھی اور نیتن یاہو کی من مرضی اور ظالموں کے سپرد کرنا دست قاتل بننے کا مترادف تھا، بورڈ میں رہ کر نگرانی کی جا سکتی تھی۔
وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا
چائنہ بغیر کسی ملک کے اندر داخل ہوئے اُس کی انڈسٹری پر حاوی ہو گیا ہندوو¿ں کے رام کی مورتیاں اور ہمارے جائے نماز، ٹوپیاں، تسبیاں تک چائنا نے بنائیں۔ عام آدمی کی بنیادی ضرورتوں سے عسکری اور حربی ساز و سامان، میڈیکل سائنس غرض کہ ہر شعبے میں آکسیجن کی طرح شامل ہو گیا جبکہ جہاں آکسیجن نہیں وہاں چائنہ پہنچ گیا۔ دنیا کا ہر برانڈ چین میں بننا شروع ہو گیا۔ آتے ہیں موضوع کی طرف، بھارت نے حماقت کی اور پہلگام کا ڈرامہ کر کے پاکستان پر حملہ کر دیا مگر قدرت نے ہر کام کے لیے وقت اور شخصیت مقرر کر رکھی ہے، فیلڈ مارشل سپہ سالار حافظ قرآن کی کبھی باڈی لینگوئج، الفاظ، چہرے کے تاثرات دیکھیں۔ جس دن بھارت نے جارحیت کر کے ہمارے تین درجن کے قریب شہری شہید کیے تھے، اُسی دن سپہ سالار نے جب شہید بچے کے بھائی کو گلے لگایا، میں نے یقین کر لیا کہ ساری دنیا بھی آ جائے، سپہ سالار بھارت کو جواب ضرور دے گا پھر 4/5 گھنٹے میں بھارت کو مٹی کر کے رکھ دیا اور تکبر نہیں کیا، کہا کہ اللہ کی مدد آئی اور ہم نے آتے ہوئے دیکھی۔ 6/7 رافیل گرے، فرانس کا اسلحہ بھی گر گیا اور امریکہ سے بھی دنیا نے منہ موڑ لیا، چائنہ چائنہ ہو گئی۔ بالآخر 3 ستمبر 2025 کو بیجنگ میں چائنہ پریڈ میں عسکری ساز و سامان کی نمائش کی، دنیا نے یہ جنگی سامان پہلی بار دیکھا اور دنگ رہ گئی۔ دنیا کے طاقتور ممالک کے سربراہان اس میں شامل ہوئے۔ چین کے صدر شی جن پنگ کا بیان جاری ہوا ”ہم بدمعاشوں سے نہیں ڈرتے“۔ اُسی دن اور بیان پر توجہ رکھیں۔
ایران کبھی غلام نہیں رہا مگر قادسیہ میں فتح تو ہوا تھا، فاتحین نے اسلام کا نظام دیا جو ظالمانہ نطام کو برباد کر گیا، اسلامی ملک میں شامل ہوا۔ لہٰذا فاتح ہونے کے جو اصول اور قانون ہیں جس قوم میں آ جائیں اللہ اس کو حکمرانی ضرور دیتا ہے، وہ کوئی بھی ہو۔ شام، لبنان، یمن سب کے سب ایران کے سامنے ساتھی ہونے کے باوجود ایران کے سامنے ڈھیر ہوئے، مگر پھر جب 25 ہزار یتیم بچے غزہ کے اور 80 ہزار انسان جن میں مریض بھی شامل ہیں، اُن کی آہوں کا اللہ کی طرف سے جواب آیا۔ جس طرح کشمیر کے مردے کشمیری بھارت کے قبضہ میں گھروں میں دفن کرتے رہے اور پھر 9/10 مئی کی رات بھارت بھوٹان بھی نہ رہا۔ اس طرح ٹرمپ کی اداکاری، نیتن یاہو کی مکاری نے قطر کو ٹچ کیا، سعودیہ نے پاکستان سے معاہدہ کر لیا۔ قطر بھی متعدد یادداشتیں دستخط کر چکا۔ دراصل امریکہ، اسرائیل ایران جنگ نہ بھی ہوتی تو امریکہ کے عالمی کردار پر امریکی ہی نظر ثانی کر رہے تھے۔ یاد کریں چین کا وہ بیان کہ ”ہم بدمعاشوں سے نہیں ڈرتے“ اور شرفا اُس کے ساتھ تھے اور ہیں۔ ایران اگر سفارتی محاذ پر دانش دکھا گیا تو نئی تاریخ رقم ہو گی اور اگر مسلکی رو میں بہہ گیا تو سیاہ تاریخ رقم ہو گی۔ امید ہے جو ساتھ دے رہے ہیں اُن کا مسلک امریکہ و اسرائیل کے خونیں اور بھارت کے مکار جبکہ افغانستان کے دہشت گرد پنجوں سے دنیا کے انسانوں کو محفوظ رکھنا ہے۔ طاقت کے نئے مراکز بن چکے، یاد رہے دنیا جیسی آج ہے ویسی نہیں رہے گی۔

ٹیگز: