Wed, September 16, 2026

یہ کس نے ہم سے لہو کا خراج پھر مانگا؟

یہ کس نے ہم سے لہو کا خراج پھر مانگا؟

مشکوۃ میں درج حدیث ۵۴۳۷ میں حضور نبیِ کریمؐ فرماتے ہیں کہ ‘‘قیامت کی نشانیوں سے یہ ہے کہ علم اٹھا لیا جائے گا اور جہالت بڑھ جائے گی’’ اور اگر میں کہوں کہ ہماری قوم اس وقت ایک بیرونی ایجنڈے کے زیرِ اثر بھرپور جہالت کا مظاہرہ کر رہی ہے تو یہ مبالغہ نہ ہو گا۔
سوشل میڈیا پر اس سمے ایک طوفان مچا کھڑا ہے ‘‘ جو لاپتہ افراد کے حق میں بولتی تھی وہ خود لاپتہ ہے’’ مختلف فیسبک پیجز پہ اس کی رہائی کی دہائی دی جا رہی ہے، دیکھا جائے تو یہ Ripple theory کا ایک جاندار مظاہرہ ہے، ہمارے بھولے بھالے عوام کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ہمیشہ سے مغرب کو آئیڈیالائز کرتے آئے ہیں۔ مغرب میں پاپ میوزک کا عروج آیا تو ہمارے نوجوانوں نے اس پہ سر دھننا شروع کر دیئے، مغرب میں پھٹی پینٹ کا رواج آیا تو ہم نے جون جولائی کی شدید گرمیوں میں جینز جیسا کھردرا اور گرم لباس پہن کر پسینے میں شرابور تڑپنا شروع کر دیا، اب مغرب ماہ رنگ کے حق میں زمین اور آسمان کے قلابے ملا رہا ہے تو ہماری عوام بنا حقائق جانے ٹسوے بہا رہی ہے۔ آئیے آپ کے سامنے پہلے چند حقائق پہ روشنی ڈالتے ہیں اور اس کے بعد چند سوالات اٹھائیں گے۔ پورا انٹرنیشنل میڈیا اس وقت ماہ رنگ بلوچ کی فکر میں غرق ہوا جا رہا ہے، بی بی سی سے لے کر ڈی ڈی انڈیا تک ہر کوئی ماہ رنگ کی رہائی کے لیے فکر مند ہے۔ اور تو اور اقوامِ متحدہ بھی شدید متفکر ہے۔ اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کی خصوصی نمائندہ میری لا لور نے ٹویٹ کیا کہ ‘‘میں ماہ رنگ اور دیگر BYC اراکین کی گرفتاری کو لے کر بہت فکر مند ہوں’’ تو بظاہر پوری دنیا بشمول بھارت یہ تاثر دینے میں مگن ہیں کہ ان کے دلوں میں انسانی حقوق کی شدید ہمدردی ہے۔ جس بھری دنیا کی زبانوں پر غزہ کے لوگوں کے حق میں آبلے پڑ گئے وہی دنیا آج بی ایل اے کے دہشت گردوں کے حق میں خون کے آنسو بہاتی نظر آرہی ہے۔ یہ وہی بی ایل اے ہے جس نے ماضی بعید میں کبھی بسوں سے زائرین اتار کر ان کی ماؤں بہنوں کے سامنے ان کی گردنیں کاٹی اور پھر سروں سے فٹ بال کھیل کر ویڈیوز لگائیں تو کبھی شناختی کارڈ دیکھ کر پنجابی سندھی اور پٹھان کاٹ چھوڑے۔ عموماً کئی صدیوں میں کوئی تبدیلیاں نہیں آتیں اور بسا اوقات چند دنوں میں صدیوں سا تغیر و تبدل دیکھنے کو ملتا ہے وطنِ عزیز کے گزشتہ چند روز کچھ ایسی ہی نوعیت رکھتے ہیں۔ پہلے مسافروں بھری ریل کو یرغمال بنا لیا جاتا ہے۔ پھر مٹی کے دفاع کی ضامن افواج ایک بھرپور آپریشن کے نتیجے میں دہشتگردوں کو کیفرِ کردار تلک پہنچاتی ہیں۔ دہشت گردوں سے نہ صرف غیر ملکی اسلحہ برآمد ہوتا ہے بلکہ ان کے افغانستان میں اپنے ہینڈلرز سے رابطے میں رہنے کے شواہد ملتے ہیں، شناخت کے لیے لاشیں ہسپتال لائی جاتی ہیں تو بلوچ حقوق کی علمبردار خاتون انتہائی دیدہ دلیری سے میڈیا کے سامنے ریاست کو ‘‘غیر مہذب اور غیر انسانی’’ کہہ کر دہشت گردوں کی لاشوں کا ان الفاظ میں مطالبہ کرتی ہے کہ ‘‘آپ نے چاہے مسلح افراد مارے ہیں، ایک بدتہذیب اور غیر انسانی ریاست ان کے لواحقین سے آخری رسومات کا حق نہیں چھین سکتی۔ اور پھر لاشیں ہی چھین لی گئیں، جن لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے وہ عورت پہلے شہرِ اقتدار پہ چڑھ دوڑی تھی، اور انہیں ریاست کے کھاتے میں ڈال رہی تھی، پھر انہیں دہشت گردوں کی لاشوں کی وارث بن بیٹھی، جی یہ وہی خاتون ہیں جو ایک طرف جبری گمشدگیوں کا الزام ریاست پر لگاتی رہیں ، تو دوسری طرف عوام کو کالعدم تنظیموں میں بھرتی کراتی رہی۔ فلاسفر ایسٹن آلمنڈ اس عمل کو ‘‘سیاسی سماج کاری اور سیاسی بھرتی ‘‘ کا نام دیتے ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر کیوں دنیا بھر کے میڈیا اور سماجی تنظیموں کو بلوچ لبریشن آرمی کے مسلح دہشت گردوں کی باری انسانی حقوق یاد آگئے اور فلسطین میں ہوتی بربریت پہ سانپ سونگھ گیا؟ یہ وہی بی بی سی ہے جو اسرائیل کے حق میں ببانگِ دہل بولتا رہا، بی بی سی نے گزشتہ برس دو سو سے زائد آرٹیکل اسرائیل کے حق میں چھاپے۔ آج اس کی انسانی حقوق کی رگ پھڑک اٹھی؟ ۔
نیوم چومسکی اسی ذہن سازی کے لیے manufacturing consent کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں کہ کیسے میڈیا ریاستوں کے پراپیگنڈے کو پھیلانے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ دیکھا جائے تو یہ انفارمیشن وار ہے۔
آئیے ذہن کی سلیٹ صاف کیجیے، حقائق کچھ اس طرح سے ہیں کہ بھارتی میڈیا سن بانوے سے یہودی ایجنڈے پہ بول رہا ہے، ( رووپرٹ مرڈاک کی نئوز کارپوریشن فاکس نے 1992 میں سٹار انڈیا کے 63.6 % شیئر خریدے اور اگلے ہی سال بقیہ 36.4% خرید چھوڑے) بی ایل اے کی فنڈنگ اور ٹریننگ بھارت سے ہو رہی ہے، ماہ رنگ بی ایل اے کے کبھی خلاف بولی نہ کبھی ریاست کے حق میں، بی بی سی ماہ رنگ کو سوپر وومن کے طور پر دکھا رہا ہے اور فلسطین پر چپ ہے، پھر بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کو ہماری ایک سیاسی جماعت بھی آگئی اور سوشل میڈیا پر اس کے اندھے بہرے پیروکار ماہ رنگ کے رہائی کے لئے ہلکان ہوئے جا رہے ہیں۔ اب فیصلہ آپ نے خود کرنا ہے کہ اگر بات انسانی حقوق کی ہے تو فلسطین پہ چپ سادھنے والے بی ایل اے کے لیے کیوں تڑپ رہے ہیں؟ سچ تو یہ ہے کہ یہ ایک گریٹ گیم کا حصہ ہے۔ ایک طرف بلوچستان کی خوشحالی اور ترقی کے لیے سی پیک ناگزیر ہے، پاکستان اور چین کی دوستی مثالی ہے۔ دوسری طرف بھارت اور امریکہ کی روزِ اول سے چین سے نہیں بن پائی، اور اسرائیل اور امریکہ کا بھائی چارہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، پھر بھارت اور مرڈاک کا گٹھ جوڑ میں اوپر بیان کر چکی ہوں، تو ایک بہت بڑی سازش کے تحت امریکہ بھارت اور اسرائیل اس وقت پوری شدت سے پاکستان اور بلوچستان کو نقصان پہنچانے میں مگن ہیں، جو کہ یقیناً ناکام ہوں گے، افواجِ پاکستان کے پاس ایسی مہارت اور تربیت ہے کہ وہ تینتیس کے تینتیس جانوروں کی کھالیں ادھیڑ کے رکھ سکتے ہیں تو ہر مصیبت کا سامنا کر سکتے ہیں، یہاں سب سے بڑا چیلنج ہمارے اپنے عوام کی معصومیت ہے، جس کا بہت چالاکی سے فائدہ اٹھا کر ان کی ذہن سازی کی جا رہی ہے، ایک سبزی کے ٹھیلے والے کو بی ایل اے کی کرتوتوں کا بھلے کچھ علم نہ ہو مگر خود ساختہ قوم کی بیٹی کا غم ضرور کھا رہا ہو گا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ ہم بنا تصدیق کے جب جب ایک پوسٹ لگاتے ہیں وہ سیکڑوں افراد کے دلوں میں گھر تو کر جائے گی لیکن وہ سیکڑوں سچ اور جھوٹ کی تفریق نہیں کریں گے۔ تو کم از کم تعلیم یافتہ طبقے کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور بیرونی طاقتوں کا آلہ کار بننے سے گریز کرنا چاہیے۔ وگرنہ آپ کی ان بیوقوفیوں کا فائدہ اٹھا کر دشمن پھر چال چلے گا، پھر بی ایل اے بے گناہ گردنیں کاٹے گا، پھر دفاعی افواج اپنے لہو کا خراج دیں گی، 
یہ کس نے ہم سے لہو کا خراج پھر مانگا 
ابھی تو سوئے تھے مقتل کو سرخرو کر کے

ٹیگز: