کم ظرف دشمن نے رات کے اندھیرے میں چھپ کر بزدلانہ حملہ کیا تو پاکستان کی غیور افواج نے سنتِ نبویؐ پہ عمل کرتے ہوئے بعد از نمازِ فجر فلک شگاف نعرہ تکبیر بلند کر کے جوابی کارروائی کی۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کے عوام گواہ ہیں کہ ہماری افواج ہمیشہ تکبیر بلند کر کے حملہ کرتے ہیں، اور وطن کی محبت ایمان کا جز ہے کے فلسفے پہ دفاعِ وطن میں سینوں پہ گولیاں کھاتے ہیں، خشک لبوں سے زبان سے آخری ادا ہونے والے الفاظ ہمیشہ لا الہ الا اللہ ہوتے ہیں۔ اب زرہ تخیل کی پتنگ کی ڈوریوں کو ان انگنت واقعات کی طرف لے چلیں کہ جب بے گناہوں پہ توہینِ مذہب کا الزام لگا اور بنا تحقیق کے انہیں جذباتی عوام نے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ پھر پلکوں کو جنبش دیں اور حافظے میں قید وہ مناظر دہرائیں جب پاک بھارت جنگ میں ایک شہری باوردی سپاہی کے کندھے سے کندھا ملائے ڈرون کو نشانہ بنا رہا تھا یا جب عوام فوج کی گاڑیوں پہ گل پاشی کر رہی تھی۔ بعض نامساعد حالات اور چند شر پسند عناصر کی سازشوں کے باعث افواج اور عوام میں ماضی بعید میں پائے جانے والے اختلافات پاک بھارت جنگ کے دوران جس طرح یک لخت ختم ہوئے اس کی تاریخ شاہد ہے۔
اب سوچیں ایک شخص کلمے کی حرمت پہ جان دینے والوں کے بارے میں کہے کہ انہوں نے مساجد میں کتے باندھ رکھے ہیں تو کسی بھی ذی شعور کے ذہن میں پہلا خیال کیا آئے گا؟ ایک بے بنیاد، من گھڑت الزام جس کے لفظ لفظ سے سازش کا زہر ٹپک رہا ہے۔ ایک حافظِ قرآن جرنیل کے زیرِ تربیت اور زیرِ نگرانی جوانوں پہ اس قدر سنگین، گھٹیا، شر انگیز اور شدت پسند بیان داغنے کے پیچھے آخر کون سے مذموم عزائم ہو سکتے ہیں؟ یقینا یہ فتنہ الخوارج کے نجس ایجنڈے کی بنیاد پر عوام کے دل میں افواج کے لیے اشتعال نفرت اور غصہ بھرنے کو رچائی جانے والی ایک گھناؤنی سازش ہے۔ کیا یہ بیان مساجد دینی مدارس اور امام بارگاہوں کے تقدس کے لیے جان کے نذرانے پیش کرنے والے سپاہیوں کی توہین اور تذلیل نہیں؟ اور جس فوج نے اہلِ ایمان اور پاکستانی عوام کے لیے نوے ہزار جانوں کی قربانیاں دیں کیا ان کے جذبات اس بیان سے مجروح نہیں ہوئے ہوں گے؟ اور سب سے اہم سوال تو یہ ہے کہ جب آج کی دنیا میں ہر شخص کے ہاتھ میں کیمرہ والا موبائل ہے تو جب آپ کو مسجد میں بندھا کتا نظر آیا، آپ نے اس کی ویڈیو کیوں ریکارڈ نہیں کی؟ کیونکہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے محترم۔۔۔ جب بندہ بندہ ٹک ٹاکر اور یوٹیوبر بنا پھر رہا ہے تو یہ بات آج تلک میڈیا میں کیسے نہیں آئی؟ ہماری شہادت کے جذبے سے سرشار افواج کا ایمان آپ کی بوسیدہ تعفن زدہ گندی سیاست کے لیے نہیں ہے۔ پاکستان کی مساجد، مدارس اور مقدس مقامات کی سب سے زیادہ حفاظت خود پاک فوج، ایف سی اور پولیس نے کی ہے۔ صرف 2010 سے 2024 تک 400 سے زائد مساجد اور مدارس پر دہشت گرد حملوں میں سیکڑوں نمازی شہید ہوئے، اور انہی حملوں کے بعد سکیورٹی اداروں نے مسجدوں کے باہر چوکیاں قائم کیں اور عوام کو تحفظ فراہم کیا پاک فوج نے سوات، وزیرستان، خیبر اور شمالی علاقہ جات میں 90000 سے زائد شہدا اور زخمیوں کی قربانی دے کر مساجد، گھروں، سکولوں اور قبائلی عوام کو دہشت گردی سے بچایا۔ جو آپ آج آزادی سے تقریریں کر رہے ہیں، وہ اسی امن کا نتیجہ ہے جسے لانے کے لیے تکبیر بلند کر کے افواج نے لہو کا نذرانہ پیش کیا اس کم ظرف مکار لا علم کے لیے اطلاع ہے کہ فوج کی یونٹیں نمازِ جمعہ، تراویح اور عیدین کیلئے مساجد میں خود امام، موذن اور خطیب فراہم کرتی ہیں۔ ارے وہ تو جنگ کے دوران بھی مٹی سے تیمم کر کے نماز لازمی ادا کرتے ہیں۔ آپ اور کتے ایک ہیں جیسی باتیں عوام میں ریاست سے نفرت، فوج کے خلاف غصہ ابھارنے اور دشمنوں کا بیانیہ دہرانے کے مترادف ہیں۔ ایسے بیانات TTP، داعش اور بھارت کے میڈیا کو مواد دینے کے علاوہ کچھ نہیں کرتے۔ تو کیا پھر ہم یہ سمجھنے میں حق بجانب نہیں کہ آپ کام ہی کسی اور کے ایجنڈے پہ کرتے ہیں؟ ہماری بھارت سے جنگ ہوئی آپ بھارت ساتھ ہو لیے، ہماری افغانستان سے جنگ ہوئی آپ افغانیوں ساتھ ہو لیے۔ جس رفتار سے آپ افواج کے خلاف جا رہے ہیں کل کو ظہور ہوا اور ہماری افواج دجال کے خلاف لڑیں تو آپ تو دجال ساتھ کھڑے ہوں گے۔ پھر آپریشنز کو ناکام کہتے سمے آپ کا دل نہیں کانپا؟ آپریشن راہِ راست (سوات) کی کامیابی کے باعث نہ صرف 2.5 ملین آئی ڈی پیز واپس گئے بلکہ وہاں سیاحتی اور تعلیمی سرگرمیاں بحال ہوئیں۔ ضربِ عضب میں 3500 دہشت گرد مارے گئے، جس کے نتیجے میں 90% شدت پسند نیٹ ورک ختم ہوا۔ پھر ردالفساد میں 120,000 سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے گئے، 700 ٹن اسلحہ برآمد ہوا اور شہروں میں خودکش حملے 90% تک کم ہوئے۔
آج بھی عزم استحکام حکمت عملی کے تحت، روزانہ کی بنیاد پر 200 سے زائد IBOs کیے جا رہے ہیں اور ہزاروں دہشت گرد جہنم واصل کیے جا چکے ہیں اور روزانہ کی بنیادوں پر کیے جا رہے ہیں۔ اللہ کے فضل و کرم سے اس وقت تک اس ناسور کے خلاف جنگ جاری رہے گی جب تک آخری حرامزادے کو موت کے گھاٹ نہ اتار لیا جائے۔ اگر ملٹری آپریشن نہ ہوتے تو خیبر پختونخوا میں دہشت گردوں کا راج ہوتا اور پشاور، سوات، مستونگ اور کرم ایجنسی وغیرہ میں حکومت نہیں، طالبان کے امیر بیٹھے ہوتے۔ بچیاں سکول نہ جاتیں، عدالت نہیں، شرعی کوڑوں کی سزائیں چل رہی ہوتیں۔
پھر آپ کا سارا زہر اگلنے کے بعد یہ کہنا کہ ہم نے پھر بھی بڑے دل کا مظاہرہ کیا، فوج بھی ہماری ہے کس قدر بے ڈھنگا جواز ہے۔ فوج کی ملکیت یا احسان نہیں ہوتا، فوج آئین کی محافظ ہے اور پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی محافظ ہے۔ فوج پاکستان کی ہے پاکستان کے عوام کی ہے، کسی پارٹی کی، نہ کسی وزیراعلی کی۔
سیاست کیلئے اختلاف کریں مگر شہدا کے خون، مساجد کی حرمت اور ریاست کے اداروں کی قربانیوں کا مذاق نہ بنائیں۔ ایسے بیانات دشمن کے بیانیے کی خدمت ہیں، عوام کی نہیں۔۔۔!! اور عوام سے دست بستہ گزارش ہے کہ خدارا اب تو ہوش کے ناخن لیں اور اپنا حقیقی دشمن پہچانیں۔۔۔ ایک باولا شخص ان جوانوں کے بارے میں بکواس کر رہا ہے جو اس شعر کی عملی تصویر ہیں کہ:
یہ کس نے ہم سے لہو کا خراج پھر مانگا
ابھی تو سوئے تھے مقتل کو سرخرو کر کے