Wed, September 16, 2026

کشمیر کو آزاد رہنے دو!

کشمیر کو آزاد رہنے دو!

بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح نے فرمایا تھا کہ ”کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے “ اب انسان نے اگر زندہ رہنا ہے تو اپنی شہ رگ کی رکھوالی کرنا لازمی ہوجاتا ہے۔ اگر کوئی آپ کی شہ رگ پر ہاتھ ڈالے گا تو تکلیف کے ساتھ ساتھ موت کا سفر شروع ہوجائے گا۔ پاکستان اپنی شہ رگ کےلئے جنگیں کرتا آیا ہے۔ لڑائیاں لڑتے آیا ہے اور پھر اس بات سے کب فرق پڑتا ہے کہ انسان کی شہ رگ پر ہاتھ کون ڈال رہا ہے کیونکہ ہاتھ کسی دشمن کا ہویا دوست کا نقصان یکساں ہونا یقینی ہے۔ اسی سالہ تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان دشمن کی طرف سے اس شہ رگ کی طرف اٹھنے والی ہر آنکھ نکالتا آیا ہے اور ہر ہاتھ قلم کرتا آیا ہے توپھر شہ رگ کی حفاظت کےلئے دشمن کا ہاتھ اگر کاٹنا ضروری ہے تو کیا کسی اپنے کو اجازت دی جاسکتی ہے کہ وہ اس شہ رگ پر ہاتھ ڈال کر ہمار اسانس بند کردے؟یہی میرا مقدمہ ہے اوریہی میرا سوال ۔
تقسیم ہند کے وقت کشمیر آدھا آزاد ہو ا اسی لیے ہم اس کو تقسیم ہند کے نامکمل ایجنڈے کے طورپر یا دکرتے ہیں ۔اب اگر کسی کی جذباتی یا مفاداتی وابستگی اس وقت کشمیر کے اندر انتشار کی تحریک چلانے والوں کے ساتھ ہے تو میری جذباتی وابستگی کشمیر کے اس مشن کے ساتھ ہے جس کی وجہ سے پاکستان نے ہندوستا ن کے ساتھ چار بڑی اور لاتعداد محدود جنگیں لڑی ہیں ۔میری جذباتی وابستگی برہان وانی کے مشن کے ساتھ ہے جس نے اوائل عمری میں ہی شہادت دے کر کشمیر کے مشن کو نئی زندگی دی ہے۔میری جذباتی وابستگی مقبوضہ کشمیر کی اس ماں کے ساتھ ہے جس کے خاوند کوصرف ا س لیے پولیس مقابلے میں ماردیا گیا کہ وہ ہندوستان کی اطاعت پر رضامند نہیں تھا۔میری جذباتی وابستگی کشمیر کی اس بہن بیٹی کے ساتھ ہے جس کو ہندوستانی فوج نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا ۔میری جذباتی وابستگی اس بچے کے ساتھ بھی ہے جس کویتیم کردیا گیا۔ اس خاتون کے ساتھ بھی ہے جس کا سہاگ اجاڑ کر اس کو بیوہ بنادیا گیا اور پھر میری جذباتی وابستگی اس نوجو ان کے ساتھ بھی ہے جس کو بھارتی فوج کے میجر گوگی جیسے گماشتے اپنی جیپ کے آگے باندھ کر گلیوں میں گشت کرتے ہیں تا کہ کوئی کشمیری فوج کو پتھر مارے تو وہ پتھر اس جوان کو زخمی کرے ۔
مقبوضہ کشمیر میں ڈھائے جانے والے مظالم کی فہرست اتنی طویل ہے کہ لکھنے کے لیے صفحات کم پڑجائیں گے ۔ایک طرف وہ مقبوضہ کشمیر ہے یہاں دن 
رات خواتین کی عصمت دری کی جاتی ہیں ۔خوف کے سائے ہیں اور دوسری طرف وہ کشمیر ہے جو آزاد ہے ۔پرسکون ہے ۔پرامن ہے ۔گولی لاٹھی کے بغیر لوگ زندگی گزارتے ہیں ۔پاکستان کے عوام اپنے خون پسینے کی کمائی سے اپنے کشمیری بہن بھائیوں کی آسانی کے لیے ہر چیز سستی فراہم کرتے ہیں کیونکہ ان کی معیشت کے مواقع ایسے نہیں ہیں کہ خود انحصاری ہوسکے۔ پاکستان اسی سال سے کشمیر کو سینے سے لگاکر اپنے ساتھ ساتھ ان کو بھی لے کر چل رہا ہے۔صرف اس بات سے اندازہ لگائیں کہ کشمیر کی کل سرکاری آمدنی (ٹیکس وغیرہ) صرف ساٹھ ارب روپے سالانہ ہے جبکہ اس کی ضرورت تین سو ارب ہے ۔پاکستان کے عوام اپنے ٹیکس سے کشمیری بھائیوں کو ہر سال دوسو چالیس ارب روپے دیتے ہیں لیکن کبھی کسی نے یہ سب کچھ جتلایا نہیں کیونکہ ہم حقیقی معنوں میں کشمیر کو اپنی شہ رگ سمجھتے ہیں ۔ان دوسو چالیس ارب روپے سے کشمیر میں وہ آٹا پچاس روپے کلو فراہم کیا جاتا ہے جو مجھے یہاں ایک سو دس روپے میں ملتا ہے۔بجلی کا یونٹ تین روپے کا فراہم کیا جاتا ہے جو یہاں میں اور آپ پچاس روپے کا خریدنے پر مجبور ہیں ۔ سستی بجلی اور سستی روٹی تو مجھے بھی چاہئے لیکن کیا میں اس کے لیے بندوق اٹھاسکتا ہوں؟ کیا میں اس کے لیے لوگوں کو جمع کرکے انتشار پھیلا سکتا ہوں ؟ یا مجھے ایسا کرنا چاہئے؟ میری حب الوطنی مجھے ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیتی تو پھر کشمیرمیں کسی کو ایسا کرنے کی اجازت کیوں کر دی جاسکتی ہے؟
کشمیر کے اندر انتشار کو شروع ہوئے اب دو ماہ ہونے کو آگئے ہیں ۔میں اس دوران یہ نتیجہ اخذ کرنے میں حق بجانب ہوں کہ یہ احتجاج حقوق کے لیے تو بالکل بھی نہیں ہے ۔کیونکہ حقوق کے لیے ہوتا تو مجھ سے دس گنازیادہ حقوق اور آسانیاں کشمیری بھائیوں کو پہلے ہی حاصل ہیں ۔مزید دینے کے لیے حکومت پاکستان باقاعدہ تحریری معاہدہ کیے بیٹھی ہے ۔جو آئینی ترامیم کا تقاضا کرتے ہیں ان معاملات کے حل کے لیے حکومت وقت کی درخواست کرچکی لیکن انتشاری کمیٹی کسی بھی صورت نچلا بیٹھنا ہی نہیں چاہتی ۔حکومتی کمیٹی نے عوامی ایکشن والوں کو تین آپشن دیے جو بہترین اور قابل عمل ہوسکتے تھے لیکن اس کمیٹی کی طرف سے یکسر انکار کیا گیا ۔مذاکراتی کمیٹی نے کہا کہ آپ اپنے کشمیر کی سیاسی پارٹیوں کے ساتھ بیٹھ جائیں ان کو قائل کرلیں مہاجرنشستوں کے خاتمے پر اگر تمام سیاسی پارٹیاں متفق ہوجاتی ہیں تو پاکستان کو اعتراض نہیں ہوگا۔ اس مقصد کے لیے وزیراعظم آزاد کشمیر نے آل پارٹیز کانفرنس بلوائی لیکن احتجاجیوں نے اس کا بائیکاٹ کردیا۔دوسری پیشکش یہ کی گئی کہ مہاجر نشستوں کا مقدمہ آزاد کشمیر کی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے آپ اپنے وکیل کھڑے کریں ۔مقدمے میں فریق بن جائیں اور اپنے کشمیر میں سپریم کورٹ کو قائل کرلیں لیکن اس سماعت اور مقدمے کا بھی بائیکاٹ کیا گیا ۔تیسری پیشکش کرکے قلم ہی توڑ دیا گیا کہ آپ کشمیر کے عوام میں مقبولیت کا دعویٰ کرتے ہیں ۔آپ کہتے ہیں کہ اسمبلیوں اور حکومت میں بیٹھے لوگ عوام کے نمائندے نہیں ہیں اصل نمائندے ہم ہیں تو کشمیر کے عام انتخابات آیا چاہتے ہیں آپ اپنا گروپ بناکر ان انتخابات میں حصہ لیں ۔مہاجرین کی بارہ نشستیں چھوڑ کر باقی ساری نشستیں جیت کر اسمبلی میں دو تہائی اکثریت حاصل کرلیں ۔اپنا وزیراعظم لے آئیں اور پھر اسی اسمبلی سے اپنا آئین بد ل ڈالیں ۔ جو نشست رکھنی ہے رکھ لیں جو نشست ختم کرنی ہے ختم کرلیں ۔ جس کی مراعات ختم کرنی ہے کرلیں ۔ جس کی جو تنخوا ہ مقررکرنی ہے کرلیں آپ کی سرکار آپ کا اختیار۔۔ لیکن یہ کمیٹی اس سے بھی بھاگ گئی ۔کہا نہیں موجودہ سرکار بیک جنبش قلم آئین قانون وغیرہ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے بس سب کچھ بدل ڈالے ۔کیا یہ تین تجاویز بھی نہ ماننے والے کسی کے حق کی جنگ لڑرہے ہیں ؟
اگر حقوق کی لڑائی ہوتی تو الیکشن لڑ کر وزیراعظم بن جانے سے بہتر اور کیا راستہ ہوسکتا تھا ؟ لیکن یہ لڑائی آزاد کشمیر کو مقبوضہ کشمیر بنانے کی ہے ۔یہ وہی ایجنڈ اہے جو مودی نے یک طرفہ اپنے آئین میں ترمیم کرکے مقبوضہ کشمیر پردوبارہ کاغذی قبضہ کرنے کی کوشش کی ہے ۔کیا آپ نے سوچا ہے کہ جو کام مووی نے کیا وہ پاکستان کیوں نہیں کرتا؟ کیا ہم یہ کام نہیں کرسکتے کہ آزاد کشمیر کو پاکستان کاپانچواں صوبہ ڈکلیئر کرکے اس کی آئینی حیثیت بدل دیں ؟ہم بھی کرسکتے ہیں لیکن پھر مقبوضہ کشمیر سے آزادی کی اٹھنے والی آوازو ں پر ہم اپنا حق کھودیں گے۔ہم مقبوضہ کشمیر کو ہندوستان کا حصہ ماننے پر مجبور ہوجائیں گے ۔ ہم اپنے ہاتھوں سے اپنی شہ رگ کاٹ دیں گے ۔ کیا کوئی اپنی شہ رگ کاٹ کر زندہ رہ سکتا ہے؟یہی میرا مقدمہ ہے اور یہی میرا سوال۔۔

ٹیگز: