لالی وڈ اور بالی وڈ کی ماضی کی فلموں میں ساون کے جھولوں کا کافی ذکر ہوتا تھا ۔ اس وقت ان کا ذکر بنتا بھی تھا کہ 70کی دہائی تک تو دیہاتوں کا کیا ذکر کہ شہروں میں بھی ہر گھر میں بجلی نہیں ہوتی تھی لیکن اس وقت چونکہ موجودہ دور کی طرح تحفظ کے نقطہ نظر سے کیپسول ٹائپ گھر نہیں ہوتے تھے بلکہ کھلے صحن ، برآمدے اور روشن دان لئے بڑے ہوا دار گھر ہوا کرتے تھے اور پھر بجلی کے پنکھوں کے ابھی عادی بھی نہیں ہوئے تھے اور ایئر کنڈیشن کا تو تصور ہی نہیں تھا ۔ باغوں میں پڑے جھولے ۔ اس وقت باغ تو یقینا تھے لیکن ان میں مٹیاروں کے جھولوں کا جہاں تک تعلق ہے تو وہ بالی وڈ اور ہالی وڈ کے فلم سازوں کے مخصوص گاﺅں تھے جن میں جوان لڑکیاں بارش میں بھیگتے ہوئے گیلے کپڑوں کے ساتھ جھولے پر گانے گاتی نظر آتی تھیں ۔ ان فلموں سے متاثر بہت سے من چلوں نے باغوں میں نوکریاں تک کر لیں لیکن جس طرح آج کے دانشوروں میں دانش نہیں ملتی اسی طرح انھیں لاکھ کوشش کے باوجود بھی باغوں میں لڑکیاں جھولے جھولتی بلکہ اٹھکیلیاں کرتی نظر نہ آئیں ۔ یہ ہمارے ملک کا بہت بڑا المیہ تھا کہ جو باغ فلموں میں نظر آتے تھے اور جس طرح کی شوخ و چنچل لڑکیاں ان میں جھولے جھولتے ہوئے گانے گاتی تھیں اس وقت کی نوجوان نسل کو کوشش کے باوجود بھی نہ وہ باغ نظر آئے اور نہ ہی اس طرح کی رقص میں ماہر لڑکیاں نظر آئیں۔ ایک بات بہرحال حقیقت تھی کہ باغوں میں تو جھولے ہوتے تھے یا نہیں لیکن گھروں میں پینگیں ضرور ہوا کرتی تھی اور لڑکیاں ان پر جھولتی بھی تھیں لیکن اس وقت اتنی حیا تھی کہ اگر کوئی آس پڑوس کی لڑکی کسی دوسرے گھر میں جا کر پینگ لیتی تو اسے کوئی بری نظر سے نہیں دیکھتا تھا اور اگر اس گھر کا کوئی ضرورت سے زیادہ شوخا لڑکا بری نظروں سے دیکھتا تو اس کی چھترول ہوتے دیر نہیں لگتی تھی ۔ بات موضوع سے ہٹ کر ہے لیکن موقع کی مناسبت سے کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے کہ اس زمانے کی فلموں میں وہ جو انتہائی مہربان بہنیں ہوا کرتی تھیں کہ جو آوارہ مزاج بھائی کی فرمائش پر اپنی کسی سہیلی سے تنہائی میں بات کرا دیا کرتی تھیں تو یہ بہنیں بھی بس فلموں میں ہی ملا کرتی تھیں ورنہ تو اگر شک بھی پڑ جاتا کہ ان کے بھائی کی ان کی کسی سہیلی پر نظر ہے تو ان میں فوری طور پر نند کا جذبہ جاگ جاتا تھا اور وہ فوراََ سے پیشتر اس لڑکی سے اپنے تعلقات کو یہ کہہ کر توڑ لیتی تھی کہ آوارہ مزاج لڑکیوں سے دوستی اچھی نہیں ہوتی حالانکہ اس بیچاری لڑکی کے فرشتوںکو بھی علم نہیں ہوتا تھا کہ اصل بات کیا ہے ۔
خیر بات ہو رہی تھی ساون کے جھولوں کی تو اس وقت جب شدید گرمی میں بارش ہوتی اور ساتھ میں ٹھنڈی ہوا چلتی تو موسم واقعی خوش گوار ہو جاتا کہ گرمی میں رات کے وقت کمروں میں سونے کا رواج نہیں تھا بلکہ صحن یا چھتوں پر سویا جاتا تھا لیکن اب صورت حال اس سے بالکل مختلف ہے ۔ جب بھی کہیں بارش ہوتی ہے تو میڈیا خبر دیتا ہے کہ فلاں شہر میں بارش ہوئی اور موسم خوش گوار ہو گیا لیکن موسم نے کیا خاک خوش گوار ہونا تھا اس لئے کہ بادل ابھی چیچو کی ملیاں ہوتے ہیں لیکن 137فیڈر لاہور کے ٹرپ کر جاتے ہیں اور بارش کی پہلی بوند پر جو باقی فیڈر ہیں وہ بھی ٹرپ کر جاتے ہیں اور یقین کریں کہ فیڈر ٹرپ کرنے سے بجلی کا جانا بجلی کے جانے کی جتنی بھی اقسام ہیں اس کا شمار ان میں سے جو خطر ناک ہیں ان میں اس کا شمار ہوتا ہے ۔اگر بجلی شیڈول کی لوڈ شیڈنگ میں گئی ہے تو معلوم ہے کہ ایک گھنٹے بعد آ جانی ہے ۔ کہیں مرمت کی وجہ سے گئی ہے تو بھائی لوگ بتا دیتے ہیں اتنی دیر میں مرمت ہو جائے گی تو تسلی ہو جاتی ہے لیکن ٹرانسفارمر شریف کا اڑ جانا اور فیڈر کا ٹرپ کر جانا انتہائی خطر ناک ہوتا ہے ۔ فیڈر ٹرپ ہونے کے بعد دو چار نہیں بلکہ چار چھ گھنٹے میں بھی بجلی صاحبہ تشریف لے آئیں تو سجدہ شکر بجا لانا چاہئے لیکن عام طور پر فیڈر ٹرپ کرنے کے بعد بارہ سے اٹھارہ بیس گھنٹے بجلی آنے میں لگ جاتے ہیں اور جہاں تک میرے انتہائی محترم ٹرانسفامر شریف کی بات ہے تو اس کا ذکر خیر ہمیشہ عزت سے کیا کریں اس لئے کہ اس کے اڑ جانے کا مطلب یہ ہے کہ کم از کم دو چار دن کے لئے آپ بجلی صاحبہ سے محروم ہو جائیں گے اور یو پی ایس وغیرہ سب فارغ ہو جائیں گے اور پھر وہی حالت ہو جائے کہ کہ نہ دن کو چین اور نہ رات کو آرام ۔
تو جناب کہاں کا خوش گوار موسم یہاں تو شدید حبس میں حال سے بے حال ہو جاتے ہیں اور گھر کیپسول کی مانند اس طرح بند بنے ہوئے ہیں ہیںکہ باہر سے ہوا کا گذر اور نہ سورج کی روشی کہ انسان کو اس کی ہڈیوں کے لئے وٹا من ڈی ہی مل سکے ۔ لے دے کر ایک چھت رہ جاتی ہے لیکن گرمیوں میں سوج کی روشنی صبح ساڑھے چار سے پانچ بجے تک آنا شروع ہو جاتی ہے اور کچھ ہی دیر میں دھوپ کی حدت بھی محسوس ہونے لگتی ہے جبکہ چالیس پچاس سال پہلے گھروں کے کشادہ صحنوں میں اکثر درخت بھی ہوا کرتے تھے جن کی چھاﺅں میں موسم واقعی خوش گوار ہو جاتا تھا اور اگر درخت نہیں تو صحن کے ساتھ برامدوں میں چار پائیاں ڈال کر لوگ سو جاتے تھے لیکن اب تو بجلی ہے تو بہار ہے ورنہ تو سب بیکار ہے ۔