اسرائیلی میڈیا کے مطابق غزہ میں جنگ بند ہونے جا رہی ہے۔ ایران، اسرائیل جنگ کے دوران امریکی ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی نیتن یاھو کے درمیان ٹیلی فونک رابطوں میں جہاں ایران کے ساتھ معاملات طے کرنے پر اتفاق ہوا، وہیں غزہ میں جنگ بندی کے معاملات بھی زیر بحث آئے اور پھر حتمی طور پر جنگ بندی کا فیصلہ کیا گیا۔ ان فیصلوں پر عملدرآمد کرنے کے لئے یو اے ای اور مصر کے ساتھ بات چیت ہو گئی ہے۔ دونوں رہنماﺅں کے درمیان اتفاق ہو چکا ہے کہ اگلے دو ہفتوں کے دوران غزہ میں جنگ بند ہو جائے گی۔ حماس کی قیادت جلاوطن کر دی جائے گی۔ ٹائمز آف اسرائیل نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب اور شام اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کریں گے۔ اسرائیل دو ریاستی حل کی حمایت کرے گا۔ تمام قیدی رہا کر دیئے جائیں گے۔ پتہ نہیں یہ سب کچھ کس حد تک درست ہیں لیکن بیان کرنے والا اخبار ٹائمز آف اسرائیل ہے یہ ایک مو¿قر اخبار ہے۔ اسرائیل کی پالیسی بتانے اور بنانے میں اس کا اہم کردار مانا جاتا ہے۔
آیئے فرض کر لیتے ہیں کہ بیان کردہ باتیں درست ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس پر عملدرآمد کرنے سے عرب اسرائیل کے درمیان تعلقات بہتر ہو جائیں گے، کیا خطے میں امن آ جائے گا؟ کیا صہیونی قیادت حقیقتاً معاملات کو درست کرنا اور خطے میں امن قائم کرنا چاہتی ہے اور سب سے اہم بات کیا فلسطین کی ریاست قائم ہو جائے گی۔ آیئے ان سوالات کے ممکنہ جواب تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس قضیے کے اصل فریق فلسطینی ہیں، دو ریاستی حل بھی انہی کے لئے ہے۔ زیر نظر منصوبے میں وہ کہیں دکھائی نہیں دیتے ہیں۔ فلسطینی عوام نے، اپنے وطن کی جدوجہد کرنے والوں نے اپنے ووٹ کے ذریعے جس قیادت کو منتخب کیا تھا وہ کہاں ہے، ان کی رائے کہاں ہے۔ ذرا گزشتہ صدی کے اختتام پر نظر ڈالیں۔ 1979ءمیں سوویت افواج کی افغانستان پر لشکرکشی ایک اہم ترین واقعہ ہے پھر 1989ءمیں اشتراکی افواج کا افغانستان سے انخلاءاور 1991ءمیں اشتراکی ریاست کا 15ٹکڑوں میں تحلیل ہو جاتا تاریخ عالم کا اہم واقعہ ہے۔ سوویت یونین کو جب یہاں شکست نظر آنے لگی تو اس نے افغانستان سے واپسی کا باوقار راستہ تلاش کرنے کی کاوشیں شروع کیں۔ بات چیت شروع ہوئی۔ امریکہ، سوویت یونین اور پاکستان کے نمائندوں کے درمیان جنیوا معاہدہ طے پایا جس کے تحت سوویت یونین یہاں سے نکل گیا لیکن کیا خطے میں امن قائم ہوا؟ افغانستان میں پائیدار حکومت قائم ہو سکی؟ جی نہیں۔ جنیوا معاہدے کے بطن سے افغانستان میں خانہ جنگی شروع ہوئی۔ پہلے سوویت پٹھو حکمران نجیب اللہ کے خلاف آپریشن جلال آباد ہوا، ناکام ہوا۔ پاکستان میں اوجھڑی کیمپ ہوا۔ جونیجو حکومت کا خاتمہ ہوا۔ سانحہ بہاولپور ہوا۔ افغانستان خانہ جنگی کا شکار ہوا اس لئے کہ قضیہ افغانستان کے ایک اصلی فریق جہادی قیادت کو ان معاملات سے الگ رکھا گیا تھا۔ یہاں بھی کچھ ایسا ہی کیا جا رہا ہے۔ فلسطینیوں کی نمائندہ قیادت کو تو جلا وطن کرنے کی تجویز ہے پھر دو ریاستی حل کیا کرے گا۔ عرب حکمران، شیوخ تو ظلم و جبر کے ذریعے اپنے اپنے عوام پر مسلط ہیں۔ عرب سپرنگ کی ایک جھلک ہی کافی تھی کہ شیوخ کے تخت و تاج لرزا براندام ہو گئے تھے۔ عوام کی تھوڑی سی بیداری ہی انہیں خس و خاشاک کی طرح بہا لے جانے کے لئے کافی ہے۔ اسرائیل اپنے قیام سے لے کر ھنوز، (ایران کے ساتھ بارہ روزہ جنگ سے پہلے تک) عربوں پر عذاب نازل کرتا رہا ہے وہ ہر جنگ میں اپنا جغرافیہ، طے شدہ پلان کے مطابق پھیلاتا رہا ہے۔ گریٹر اسرائیل کے نقشے میں رنگ بھرتا رہا ہے، عربوں کو مار مار کر اس نے دنبہ نہیں بکری بنا دیا ہے۔ عرب حکمران، اسے یعنی ریاست اسرائیل کو ایک جائز ریاست مان چکے ہیں لیکن عوامی غیض و غضب کے خوف سے تسلیم کرنے کا اعلان نہیں کر رہے ہیں۔ ایران کے ساتھ بارہ روزہ جنگ میں اسرائیل کے ساتھ جو کچھ ہوا۔ ایرانیوں نے جس طرح اسرائیل کے اندر گھس کر اس کی درگت بنائی اس سے اسرائیل کے ناقابل رسائی اور ناقابل تسخیر ہونے کا تاثر پاش پاش ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ کو جنگ میں شامل ہونا پڑا۔ بمباری کے باوجود، ایران نے جس استقامت کا مظاہرہ کیا وہ اسرائیل و امریکہ ہی نہیں پوری دنیا کے لئے حیران کن ہے۔ عرب بھی حیرت سے دیکھتے رہے کہ طویل عرصے سے عالمی پابندیوں کے شکار ایران نے کس طرح اسرائیل کا بھرکس نکالا۔ تاک تاک کر نشانے لگائے۔ یہودی/ صہیونی ریاست کے تارپور بکھیرنے کی جسارت کی۔ امریکہ نے بیچ میں آ کر جنگ بندی کرائی، اس لئے نہیں کہ وہ امن چاہتا تھا بلکہ اس لئے کہ کہیں ایرانی، صہیونیوں کو لے کر ہی نہ بیٹھ جائیں وگرنہ اسرائیل 2سال سے اپنی ہمسائیگی میں، غزہ میں بسنے والے فلسطینیوں پر آتش و آہن کا جہنم برپا کئے ہوئے ہے، بچے مارے جا رہے ہیں۔ ہسپتالوں پر بمباری ہو رہی ہے، مہاجر خیموں پر نشانے لگائے جا رہے ہیں۔ امریکہ، برطانیہ و دیگر عیسائی ممالک کے جہاز بھر بھر کر گولہ بارود اسرائیل کو دے رہے ہیں اور وہ بڑی ڈھٹائی کے ساتھ وہ غزہ کے فلسطینیوں پر برسا رہا ہے۔ اسرائیل اپنے تئیں فلسطینیوں کی مقاومت کی قوت ختم کر چکا ہے۔ حماس کے تاروپود بکھیر چکا ہے اور اب بچی کھچی قیادت کو جلاوطن کرکے وہ یہاں مصر و یو اے ای کی حکومت قائم کرکے اپنے آپ کو محفوظ بنانے کی پالیسی پر عمل پیرا نظر آ رہا ہے۔ یہ سارے
انتظامات گریٹر اسرائیل کے قیام اور عالمی صہیونی حکومت کے غلبے کے لئے کئے جا رہے ہیں۔ حماس اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتی۔ فلسطینیوں کی اکثریت اسرائیل کو ناجائز اور حرامی پیدائش قرار دیتی ہے۔ ریاست اسرائیل و فلسطینیوں کی سرزمین پر قائم کی گئی ہے۔ طاقت کے بل بوتے پر، جبر کے ذریعے قائم کردہ ریاست کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اہل حرم کی غالب اکثریت اسرائیل کو مجرم ریاست مانتی ہے۔ احادیث و دیگر صحائف کی پیش گوئیاں بھی اسرائیل کے خاتمے اور اسلام کے غلبے کی نوید سناتی ہیں۔ فلسطینی اپنے حق کے لئے لڑ رہے ہیں، وہ لڑتے رہیں گے۔ حماس نے اسرائیل کے اندر گھس کر اس پر وار کرکے ناصرف اپنے عزم صمیم کا اظہار کیا ہے بلکہ اسرائیل کے ناقابل رسائی ہونے کے تاثر کو بھی زائل کیا ہے۔ ایران نے 12روزہ جنگ کے دوران اس تاثر پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔ اسرائیل ناجائز ریاست ہے، اسے سفارتی انداز میں نہیں بلکہ قوت کے ذریعے، بارود کے ذریعے ہی بھسم کیا جائے گا۔ حماس نے اس کی ابتدا کر دی ہے۔ ایران نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا ہے، اب صرف وقت کی بات ہے۔ حق غالب آئے گا اور باطل مٹ جائے گا۔