مسلم امہ آج جس دوراہے پر کھڑی ہے اس کی بزدلی اور غلط فیصلہ یقینا ایک بڑی تباہی پر منتج ہو گا۔ ایسے میں بالآخر بلی تھیلے سے باہر آ گئی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنا امن منصوبہ طشت ازبام کر دیا ہے۔ لیکن کیا یہ واقعی امن کی جانب ایک مخلصانہ کوشش ہے؟ حقائق کا عمیق تجزیہ یہ آشکار کرتا ہے کہ یہ درحقیقت مسلم علاقوں پر قبضے، گریٹر اسرائیل کے منحوس منصوبے کو یقینی بنانے اور اسرائیل کو پاکستان سمیت دنیا بھر سے تسلیم کرانے کا منصوبہ ہے۔ اس سے اسرائیل اور نیتن یاہو کے مجرمانہ اور انسانیت سوز کردار کو قانونی تحفظ مل جائے گا۔ تاریخ اس منصوبے کے حمایتی حکمرانوں کے سیاہ کردار کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔ یہ امر روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ کسی ریاست کا وجود تب تک ممکن نہیں جب تک اس کی حفاظت کے لیے اسکی اپنی فوج اور پورا نظام حکومت نہ ہو۔ ٹرمپ کے منصوبہ کی فلسطینی ریاست کیسی ریاست ہو گی جسے افواج رکھنے کی اجازت نہ ہو گی بلکہ ٹرمپ فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ ہونگے اور برطانوی وزیراعظم اس کا حصہ۔ یعنی یہاں کسی اور کی کوئی اوقات نہ ہو گی بلکہ امریکہ اور برطانیہ کی شکل میں سارے معاملات اسرائیل کے پاس ہی رہینگے۔ یاد دھانی کے لیے برطانیہ وہی ملک ہے جس نے زائونسٹ یہودیوں کے ساتھ مل کر اسرائیل کی شکل میں ایک ناسور تشکیل دیا جس سے مسلم امہ کا خون آج بھی رس رہا ہے۔ یعنی مکمل قبضے کے بعد اسکا حال بھی وہی ہو گا جو ماضی میں فلسطینی اتھارٹی کا ہوا ایسے میں 65 ہزار سے زائد فلسطینیوں کے قاتل نیتن یاہو اور اس کے انسانیت سوز مظالم کو لیگل کور بھی مل جائے گا۔ امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جو امن منصوبہ فلسطین اور غزہ کے لیے پیش کیا ہے، وہ بظاہر ’’امن‘‘ کے نام پر مگر حقیقت میں فلسطین پر مکمل قبضے کی دستاویز ہے۔ اس منصوبے کے ذریعے اسرائیل کو مزید طاقتور اور فلسطینی عوام کو مزید غلام بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس منصوبے کے تحت ایک ایسا ادارہ بنایا جائے گا جس کا سربراہ ٹرمپ یا امریکی نمائندہ ہو گا۔ اس کا مطلب ہے کہ فلسطین کے مستقبل پر براہِ راست امریکہ کا قبضہ ہو گا۔ اگر سربراہ ہی امریکی ہے تو پھر یہ ’’امن منصوبہ‘‘ نہیں بلکہ امریکی آقا کی غلامی کا نیا نظام ہے۔ منصوبے کے مطابق حماس کے مجاہدین کو ہتھیار ڈالنا ہوں گے۔ یہ دراصل فلسطینی مزاحمت کو ’’دہشت گردی‘‘ قرار دینا ہے، حالانکہ یہ بین الاقوامی قانون کے مطابق جائز آزادی کی جدو جہد ہے۔ اگر حماس ہتھیار ڈال دے گی تو اسرائیل ان کے خلاف مزید آسانی سے کارروائی کرے گا، گرفتاریاں کرے گا، قتل کرے گا اور انہیں صفحہ ہستی سے مٹا دے گا۔ یہ شق دراصل فلسطینیوں کی جائز قربانیوں کو دہشت گردی کہنا ہے۔ اس کے ذریعے اسرائیل کے ظلم کو ’’قانونی‘‘ اور فلسطین کی مزاحمت کو ’’جرم‘‘ ثابت کیا جا رہا ہے۔ یہ نہ صرف ناقابلِ قبول بلکہ شہداء اور مجاہدین کی قربانیوں کی توہین بھی ہے۔
اس منصوبے کے نتیجے میں اسرائیل کو مزید زمین ملے گی اور فلسطینی ریاست مزید سکڑ جائے گی۔ یروشلم کو اسرائیل کا ’’غیر منقسم دارالحکومت‘‘ قرار دینا اس منصوبے کا سب سے بڑا ظلم ہے شام کے قبضہ کیے گئے علاقے گولان ہائٹس پر بھی امریکہ نے اسرائیل کا قبضہ تسلیم کر لیا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ کچھ اسلامی ممالک کے حکمرانوں نے اس منصوبے کی حمایت کی ہے۔ یہ رویہ دراصل امریکی غلامی اور اسرائیل نوازی کا ثبوت ہے۔ یہ حکمران اپنی کرسی بچانے کے لیے امتِ مسلمہ کا سودا کر رہے ہیں۔ یہ فلسطینی خون کو سستا کر کے امریکہ اور اسرائیل کی چاپلوسی کر رہے ہیں۔ یہ حماس اور دیگر مزاحمتی تنظیموں کو تنہا چھوڑ کر ظالم کے ساتھ کھڑے ہو رہے ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف شرمناک بلکہ امتِ مسلمہ کے اتحاد اور غیرت پر کاری ضرب ہے۔ فلسطین کی آزادی کی جدو جہد کو ختم کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ اسرائیل کو مزید طاقتور بنایا جا رہا ہے تاکہ وہ گریٹر اسرائیل کے اس ایجنڈے پر آگے بڑھ سکے جس کا نیتن یاہو اعلان کر چکا ہے۔ امریکہ کو براہِ راست فلسطین کا مالک و مختار بنا دیا جا رہا ہے۔ مسلم حکمران امریکی غلامی میں اپنی آخرت برباد کر رہے ہیں۔ اسلامی ممالک کے حکمرانوں کی غلامانہ پالیسیاں قابل افسوس ہیں فلسطینی مزاحمت دہشت گردی نہیں بلکہ جائز اور مقدس جدوجہد ہے۔اب کچھ باتیں پاکستان میں نظام انصاف کی۔ زیادہ دن نہیں ہوئے جب لاہور کا ایک شہری عدالت میں پیش ہوا اور استدعا کی کہ پولیس نے اے سی شالیمار کے کہنے پر اسکے اور اسکے بیٹوں کے خلاف جن کی عمریں پانچ سے نو سال تک ہیں، سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا ہے کہ معصوم بچے بھاری آتشیں اسلحے سے مسلح تھے۔ یہ واقعہ اس امر کا عکاس ہے کہ لاہور میں پولیس آج بھی کیسے بے گناہ افراد کو جعلی مقدموں میں دھر لیتی ہے۔ پولیس افسران کی کچہریاں بھی ان کے ماتحتوں کی عوام کے ساتھ ہونے والی چیرہ دستیوں کو نہیں روک سکیں۔ یہ تھانوں اور کچہریوں میں ان کے چکروں میں مزید اضافے کا ہی باعث بنی ہیں۔ البتہ پولیس افسران کھلی کچہریوں میں ہونے والے فوٹو سیشن کے باعث اعلیٰ حکام کا اپنی نام نہاد کارکردگی ضرور ثابت کرنے میں کامیاب نظر آتے ہیں ورنہ حقیقت تو یہ ہے کہ جائز مقدمہ کا اندراج بھی اس وقت لاہوریوں کے لیے فرہاد کے نہر کھودنے سے کم نہیں۔ ایسے میں انصاف کے حصول کے لیے افسران کے دفاتر کے چکر اور وہاں طویل انتظار شہریوں کے لیے یقینا سوہان روح ہے۔ پولیس ہو یا بیوروکریسی منہ زور ماتحت افسران اپنے سیاسی اثرو رسوخ کے باعث اپنے اعلیٰ افسران پر بھاری پڑ رہے ہیں۔ کئی ناجائز قبضوں میں ملوث ہیں تو کئی سماج دُشمن عناصر کے سرپرست بنے بیٹھے ہیں۔ عوام کو انصاف کی فوری فراہمی کے لیے سنجیدہ اور فوری اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو عوام میں بڑھتی ہوئی اس بے چینی کو نہیں روکا جا سکے گا۔