میں کیوں لکھتا ہوں … کس کے لیے لکھتا ہوں … اور کب تک ان کے بارے لکھتا رہوں گا … کیا دوسرے لکھنے والے جو کچھ لکھتے ہیں کسی غیروں کا کسی پر کبھی اثر ہوتا ہے … جھوٹ پر مبنی معاشروں میں کبھی سچ کو تسلیم کیا جاتا اور نہ سچ ان لوگوں کو ہضم ہوتا ہے … اس کے لیے ہمارے ہاں کوئی قانون نہیں … کوئی اصول نہیں، کوئی قاعدہ نہیں … کوئی ضابطہ اخلاق نہیں … کوئی کردار نہیں … کوئی ضامن نہیں، کوئی گواہ نہیں، نہ عدالت، نہ وکیل، نہ جج … پورے معاشرے میں ایک غلط قسم کا ٹرینڈ قائم ہو گیا ہے اگر دنیا قانون توڑ سکتی ہے اگر امریکہ آج سے 80 سال پہلے دنیا کے لیے بنوائے گئے قانون کو خود ہی توڑے گا تو چھوٹے ممالک پر ان کا اثر یقینی طور پر ہو گا۔ امریکہ نے اسرائیل کو ایران پر حملہ کرنے کو کہا۔ جواب میں ایران نے اپنی بھرپور طاقت کے ذریعے تل ابیب کو غزہ بنا دیا۔ وہ غزہ جو کئی ماہ سے اسرائیل کی بربریت کا شکار ہے امریکہ اور اسرائیل دونوں ایران پر حملہ آور ہوئے۔ دنیا ایران کے حق میں بول پڑی اور جس کو کمزور کہا جا رہا تھا اس نے دو طاقتوروں کو کمزور کر دیا … میرے نزدیک ٹرمپ ایک پاگل انسان ہے، کبھی کچھ، کبھی ادھر، کبھی ادھر۔ اس کے جنگی پاگل پن نے دنیا کو پریشان کر دیا ہے۔ اس کی حرکات و سکنات کو دیکھا جائے تو ایسی باتیں ایک سپر طاقت کے سربراہ کو زیب نہیں دیتیں۔ بات بات پر یوٹرن … اور یہ وہ یو ٹرن ہیں جو یوتھیوں کے سربراہ کی یاد دلا رہے ہیں۔ دیکھا جائے تو ٹرمپ اور بانی تحریک انصاف میں سوائے شکل کے حرکات و سکنات ایک جیسی ہیں۔ سوچے سمجھے بغیر بات کہہ دینا، چل گئی تو واہ واہ نہ چلی تو یو ٹرن لے لیا … انہی یوٹرن فیصلوں سے جہاں امریکی عوام پریشان ہیں تو وہاں پاکستانی عوام میں بھی تقسیم کی گئی۔ یہ کیا مذاق ہے کہ ہزاروں انسان مروانے کے بعد آپ اچانک سیز فائر کا اعلان کر دیں۔ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ ایک طرف آپ نے دنیا کے امن کو خطرے میں ڈالا تو دوسری طرف جب آپ کی سالمیت کو خطرہ محسوس ہوا تو حکم آ گیا کہ جنگ بند کر دو … اور جہاںتمہیں جنگ بند کرانی چاہیے تھی۔ وہاں تم نے بڑی بے حمیتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے زبان کو بند کر رکھا ہے۔ غزہ کب سے جل رہا ہے۔ غزہ کب سے دنیا سے مٹایا جا رہا ہے۔ غزہ کے انسانوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ حیرانی اس بات پر ہے کہ جس طرح ایران اسرائیل جنگ کو رکوانے کے لیے سفارتی محاذوں پر ایک بڑی جنگ لڑی گئی وہاں غزہ کے بارے سب کی زبانیں کیوں بند ہیں۔ غزہ کے معاملے میں کیوں سفارتی جنگ نہیں لڑی جا رہی کیوں وحشی اسرائیل کو تم شٹ اپ کال نہیں دے رہے۔ امریکیو یاد رکھو اوپر ایک خدا بیٹھا ہوا ہے۔ ڈرو اس دن سے جب تم پر بھی قیامت آنے سے پہلے قیامت ڈھائی جائے گی۔ جس طرح تم آج غزہ کو جلا رہے ہو وہ وقت جلد آنے والا ہے جب تم بھی جلو گے اور یہی دنیا جو تمہارے غزہ میں لگائے تماشے کو دیکھ رہی ہے تمہیں بھی دیکھے گی۔ تہران … غزہ … فلسطین … کشمیر … یہ سب مدتوں سے جل رہے ہیں یا جلائے جا رہے ہیں۔ اس لیے کہ امت مسلمہ متحد نہیں۔ اس کے لیڈران مفادات میں پھنس گئے ہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ ایران، اسرائیل اور امریکہ جنگ میں دنیا جاگ گئی ہے … نہیں یہ غلط ہے دنیا نہیں جاگی جن کے مفادات تھے وہ جاگے کیونکہ غزہ اور کشمیر پر کسی کے مفادات نہیں ہیں۔ کشمیر اور غزہ کے پاس اپنی لڑائی کی طاقت نہیں ہے اور دونوں نیوکلیئر پاور نہیں بننے جا رہے۔ دونوں اپنے اپنے خطوں میں دہشت گردی کا شکار ہیں، دونوں کے پاس اگر جوہری طاقت ہوتی دونوں کے حکمران فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی طرح کے ہوتے تو آج نہ غزہ تباہ ہوتا اور نہ بھارت کشمیر پر قبضہ کرنے کی جرأت کرتا … اور اوپر سے امت مسلمہ کو ایسے لیڈران ملے جن کے اندر آواز بلند کرنے کی جرأت نہ جنگ کرنے کی ہمت، نہ بہادری کے جذبے، سپر طاقت کے آگے سلام کرنے والے ان حکمرانوں سے یہی امید کی جا سکتی ہے کئی ماہ سے غزہ پر ظلم ڈھائے جا رہے ہیں وہ ان کو ختم نہیں کرا سکتے۔ مفادات کی اس جنگ میں مارے تو مسلمان جا رہے ہیں۔ ظلمت کی بھی ایک حد ہوتی ہے اور روزانہ سیکڑوں شہادتیں ہو رہی ہیں اور کوئی بدمعاش امریکہ اور اسرائیل کو نہیں روک رہا۔ یہ بیان بازی کا دور نہیں یہ میزائلوں کا دور ہے اور بدقسمتی کہ کشمیر اور غزہ والوں کے پاس میزائل نہیں ہیں وہ جنگجو ضرور ہیں مگر نہتے ہیں … بے بس ہیں … لاچار ہیں، دو دو ہاتھ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں مگر ان ہاتھوں سے طاقت چھین لی گئی ہے۔ میں نے کالم کے آغاز میں کہا ہے کہ میرے یا آپ کے لکھنے سے اب کوئی فرق نہیں پڑتا میرا کام ہے کہ میں حقائق کو اجاگر کروں … اور مجھے یہ بھی علم ہے کہ یہ میرے تک ہی لفظوں کی جنگ ہے اور جس جنگ کا میں ذکر کر رہا ہوں وہ مفادات کی جنگ ہے بلکہ ایران، اسرائیل اور امریکہ جنگ نے یہ بات ثابت کر دی کہ یہ نہ تو کوئی سرحدی تنازع، نہ مذہبی لڑائی اور نہ اصولوں پر مبنی حقائق کی کوئی جستجو۔ اور آخری بات … مظلوموں کی دھرتی … جلتی رہے گی کہ اس کی قسمت میں صرف جلنا ہے … بے گناہ خون کو بہنا ہے، وہ بہتا رہے گا، کل کشمیر جل رہا تھا آج غزہ جل رہا ہے۔ کل تل ابیب جل رہا تھا تو یہودی ایک ہو گئے۔ سیز فائر کا حکم آ گیا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ سیزفائر غزہ پر کیوں لاگو نہیں ہو رہا … یہ کہتے ہیں کہ غزہ ختم شد … نہیں غزہ الحمد للہ زندہ ہے، زندہ رہے گا۔ یہ دھرتی پھر آباد ہو گی، جلد فتح کا سورج طلوع ہونے والا ہے۔ اس سرزمین سے بھی کوئی صلاح الدین ایوبی جنم لے گا پھر کوئی شاہ فیصل نمودار ہو گا۔ یہ تمہارا امتحان تھا اب میرے رب کا امتحان شروع ہو گا۔ ان شاء اللہ تل ابیب، ایران کے ہاتھوں غزہ بنے گا اور قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ کبھی یہود و نصاری پر اعتبار نہ کرنا اور ٹرمپ نے یہ بات ثابت کر دی۔ دو مہینے کا کہہ کر اسی دن حملہ کر دیا … کاش اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو طاقتوروں کا مقابلہ کرنے کے لیے طاقتور حکمران عطا فرمائے۔