کراچی: میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ مصطفیٰ کمال اور وسیم اختر کو فراہم کیے گئے فنڈز کا حساب طلب کیا جا رہا ہے، جبکہ وہ گورنر سندھ کے ساتھ مل کر شہر کی بہتری کے لیے کام کرنے کے خواہاں ہیں۔
مزارِ قائد پر حاضری کے بعد میڈیا سے گفتگو میں مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ 23 مارچ پاکستان کے قیام کی علامت ہے اور اس دن ہمیں تحریکِ آزادی کے رہنماؤں کو خراجِ عقیدت پیش کرنا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ ترقیاتی منصوبے جاری ہیں اور پرانی اسکیموں کو دوبارہ فعال کر کے ان پر کام ہو رہا ہے۔ انہوں نے گورنر سندھ کو مشورہ دیا کہ بجائے بیان بازی کے، کراچی کی ترقی کے لیے مشترکہ کوششیں کی جائیں۔
مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ شہر کی بہتری کے لیے خطیر رقم مختص کی جا چکی ہے، جن میں کے فور منصوبے کے لیے 80 ارب روپے، حب کینال کے لیے 12 ارب روپے اور سالانہ ترقیاتی اسکیموں سے مزید 12 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر وزیرِ اعلیٰ اور گورنر سندھ مل کر شہر کی ترقی کے لیے اقدامات کریں تو کراچی میں ایک نئی تاریخ رقم ہو سکتی ہے۔
قومی سلامتی کے امور پر بات کرتے ہوئے مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ملک کی بقا اولین ترجیح ہے اور ریاست کو ہر صورت مضبوط رکھنا ہوگا۔ انہوں نے تحریک انصاف کی جانب سے قومی سلامتی اجلاس کے بائیکاٹ کو غیر ذمہ دارانہ فیصلہ قرار دیا اور کہا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پوری قوم کو متحد ہونا ہوگا۔