ایران اسرائیل جنگ بظاہر بے نتیجہ ختم ہو گئی لیکن کیا یہ جنگ واقعی بے نتیجہ ختم ہو ئی ہے؟ کیا ایران کو شکست ہوئی ؟ کیااسرائیل فتح یاب ہوا ؟ کیا امریکی مفادات پورے ہوئے ؟ کیا سرمائے کے عالمی جادوگروں کو شکست و ریخت کر سامنا کرنا پڑا ؟ کیا یہ بات درست نہیں کہ لبرل ڈیموکریسی کا بھیانک چہرہ اپنی تمام تر ہو لناکیوں کے ساتھ نسل آدم کے سامنے کھڑ ا ہو چکا ہے ؟ہمارے لبرل ڈیموکریٹس تو امریکہ اور اسرائیل کی تیزابی بارش کے قطروں سے روشن خیالی کی رحمت ڈھونڈ رہے تھے ٗ معلوم نہیں کہ انہیں ملی یا نہیں لیکن اس جنگ نے ’’ تاریخ کے اختتام اور آخری آدمی ‘‘ کا تھیسز اڑا کر رکھ دیا ہے ۔’’ تہذیبوں کا تصادم‘‘ تو کیا ہونا تھا جنگ جدید ٹیکنالوجی کی نمائش محسوس ہوئی اور دنیامیں جنگی جہازوںاورجدید آئی ٹی کے آلات کی گرتی اوربڑھتی قیمتیں بہت کچھ سمجھانے کیلئے کافی تھیں ۔ امریکہ نے ایران اور اسرائیل جنگ ایک ٹویٹ سے رکوا دی لیکن غزہ میں ایسا کیوں نہیں ہو سکا ؟ کیا غزہ کی پٹی پر نسل کشی ہی اصل نشانہ تھی ؟ معتبر خبر تو یہ بھی ہے کہ اسرائیلی جنگ سے ’’ جلا وطن ‘‘ ہونے والوں نے جب فلسطین کا رخ کیا تو نہ صرف انہیں روکا گیا بلکہ اُن پر گولیاں بھی چلائی گئیں ٗ کیا عرب غزہ سے دستبردارہو چکے ہیں؟ وہی الفتح جس پر مالی بے ضابطگیوں کے علاوہ بہت سے ایسے اخلاقی جرائم بھی ہیں جیسے اپنے دشمن ممالک سے بھی فنڈ وصول کر لینا ! 2006ء میں اسرائیل نے حماس کو برباد کیا ٗ لبنان میں اکثریت شیعہ کسانوں کی ہے اور اُن کے اتحادی مسیحی ہیں ٗ یہ بات حیران کن ضرور ہے لیکن شاید صرف ہمارے لئے جب کہ دنیا میں وطن اورمٹی کی حفاظت میں ایسے لا تعداد اتحاد دیکھنے کو ملے ہیں ۔اپنے تویہ حالات ہے کہ یونیورسٹی تک بہت سے دوست لیلیٰ خالد کو مسلمان سمجھتے رہے ہیں جبکہ وہ مسیحی تھیں ۔ لبنان میں آج بھی اسرائیلیوں کو کاکروچ کہا جاتا ہے جس سے اُن کی نفرت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے لیکن یہ نفرت ہرگزکسی بُر ے عمل کا فوری رد عمل نہیں بلکہ دہائیوں سے جاری اسرائیلی جارحیت ہے جو اُس نے اپنے گردو نواح میں ایک مسلسل عذاب کی صورت جاری رکھی ہوئی ہے ۔ حزب اللہ پر کبھی دہشتگردی کا کوئی الزام نہیں رہا یہاں تک کہ اسرائیل میں بھی انہوں نے کبھی کوئی بم دھماکہ یا دہشتگردانہ کارروائی نہیں کی لیکن اُن کے فلاحی کام بھی اسرائیل کو قابل ِ قبول نہیں تھے ۔
ایران و اسرائیل کی جنگ میں یقینی طور پر ایران اگر جنگ جیتا نہیں تو وہ اِ س جنگ میں شکست خوردہ یا بزدل ثابت نہیں ہوا بلکہ ایرانی قوم نے یک جان ہو کر اسرائیل اور امریکہ کے ’’ رجیم چنیج‘‘ کے بیانیے کو دفن کردیا ہے اور اس کیلئے ساری ایرانی قوم اپنے تمام تر اختلافات بھلا کر ایک پیج پر تھی۔ ہمارا موقف بھی یہی تھا کہ کسی ملک میں سیاسی تبدیلی وہاں کے عوام کا حق ہے نہ کہ کسی بیرونی قوت کو ٗ وہ خواہ امریکہ ہو یا اسرائیل ۔ اس جنگ نے بہرحال اسرائیل کے ناقابل ِ تسخیر ہونے کے بھرم کی ہنڈیا بیچ چوراہے پھوڑ دی ہے ۔ امریکہ کو اس جنگ بند ی کیلئے اپنے سب سے طاقت وار طیاروں سے حملہ کرنا پڑا اور اسرائیل جو امریکی ٹیکنالوجی کے بل بوتے پر دنیا کو ہراساں کر رہا تھا اُس کی ٹیکنالوجی کو اگر شکست نہیں ہوئی تو اُس کے مد مقابل چین اور روس کی ٹیکنالوجی مارکیٹ میں ضرور آ چکی ہے ۔ ٹرمپ کو اقتدار میں لانے کا امریکی عوام کا فیصلہ عمران نیازی جیسا ثابت ہو رہا ہے۔ حیران کُن طور پرٹرمپ اور نیازی میں ایک قدر مشترک ہے کہ دونوں تضادات کو نقطہء انجام کے قریب لے جا کر یو ٹرن لے لیتے ہیں اب یہ کس نے کس سے سیکھا ہے یہ معلوم کرنا پڑے گا لیکن جدید دنیا میں ٗ خطرناک ہتھیاروں کی موجودگی میں ایسے تجربات کسی فوری ’’ حادثاتی جنگ ‘‘ کا باعث بھی بن سکتے ہیں اور پھر ساحر لدھیانوی کی بات سچ ہو تی دیکھائی دیتی ہے کہ
گزشتہ جنگ میں تو پیکر جلے مگر اس بار
عجیب نہیں کہ یہ پرچھائیاں بھی جلا جائیں
جہاں تک میں سوچتا ہوں تو اپنے آرمی چیف سے ملاقات ٹرمپ نے جنگ کیلئے نہیں ’’ جنگ کے بعد ‘‘ کے حالات کیلئے کی تھی جس کے اثرات اب دیکھنے کو ملیں گے ۔ایک بات انتہائی ذمہ داری سے لکھ رہا ہوں کہ یہ جنگ ختم نہیں ہوئی ملتوی ہوئی ہے اور اس سلگتی ہوئی عالمی منڈی سے اس کی شعاعیں کسی وقت بھی لوٹ سکتی ہیں ۔ ٹرمپ نے یقینا نیا جال پھیلانے کیلئے پرانا سمیٹ لیا ہے ۔ اب اس نئی دانائی کی ’’ شکل ‘‘ کیاہو گی یہ بھی کچھ دنوں میں سامنے آ جائے گی کہ ٹرمپ کے پاس یہی ٹنیور ہے اور اِس کے بعد امریکہ کا نیا صدر آنا ہے سو اُسے ہر بات کی جلدی ہے یہی وجہ ہے کہ واقعات جلد رونما ہو رہے ہیں اور جلد ہی لپیٹ لئے جاتے ہیں ۔
ایران کی غیر پاپولر قیادت کو اس جنگ نے عوام میں طاقتور کردیا ہے اور یہی صورت ِ حال غزہ میں نسل کشی کی صورت میں اسرائیلی قیادت کی تھی لیکن اس جنگ کے نتیجہ میں بنیاد پرستوں کی بنیادیں زیادہ مضبوط ہو جائیں گی جنگ کو مٹانے اورہٹانے کیلئے دنیا کو ایک اورخوفناک جنگ کا بندوبست کرنا پڑے گا ۔ایران اور اسرائیل کھلی جنگ سے باز رہیں گے لیکن پراکسی وار عروج پکڑ لے گی ۔ ایران کو اندر سے توڑنے کی کوشش ناکام ثابت ہوئی ہے سو اب نئے عزم کے ساتھ ایران کو اندر سے کھوکھلا کرنے کی سازشیں زیادہ زور وشور سے شروع ہو جائیں گی ۔ ایران کی ایٹمی تنصیبات برباد کرنے کا امریکی بیانیہ خود اُس کے اپنے حواری ماننے کیلئے تیار نہیں اور ایران بھی اس سے انکار ی ہے سو یہ بات تو طے ہوئی کہ رجیم چینج کیلئے جس بات کو بنیاد بنایا گیا تو وہ اب بھی اپنی جگہ پر موجود ہے ۔ایسے حالات میں صلح اور جنگ دونوں مشکوک ہو چکے ہیں اور یہ وقتی سیز فا ئر جیسا محسوس ہو رہا ہے ۔ البتہ پاکستان کے حوالے سے بہت سے تبدیلیاں منظر ِ عام پر آنے کو مچل رہی ہیں دیکھتے ہیں کہ ٹرمپ کی بند کمرے میں اپنے آرمی چیف سے ملاقات ایران اور اسرائیل جنگ کے بعد پاکستان میں کیا رنگ جماتی ہے لیکن کیا ہم چین کی حمایت سے دستبردار ہونے کا تصور کرسکتے ہیں ؟ کیا سعودیہ کی مالی معاونت کے بغیر پاکستان کو جیسے تیسے بھی چلایا جا سکتا ہے ؟ کیا ہم واقعی وہ بحری جہاز ہیں جو ڈوبتا بھی نہیں اور آگے بھی نہیں بڑھ رہا ؟ یا ہماری قسمت میں کوئی ایسا فیصلہ بھی ہے جو ہمارا اپنا فیصلہ ہو اور اپنے عوام کیلئے ہو ؟ بہتر حالات کی امید ہی کی جا سکتی ہے ورنہ اپنا کوئی تجزیہ بھی اپنی حمایت میں بہتر صورت حال نکالنے کیلئے تیار نظر نہیں آ رہا ۔ ایران اوراسرائیل کی جنگ بظاہر ختم ہو چکی ہے لیکن ایک نظر نہ آنے والی جنگ ابھی پاکستان پر منڈلا رہی ہے ٗ دیکھیں کیا بنتا ہے۔