تہران / دوحہ : ایران نے مسلم ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے محض اجلاسوں اور بیانات پر اکتفا نہ کریں، بلکہ ایک مشترکہ "آپریشن روم" قائم کریں تاکہ حقیقی اور مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔
ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی نے کہا کہ اسرائیلی حکومت کو صرف تقریروں سے نہیں روکا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مسلمان ممالک فلسطینی عوام کی مدد نہیں کر سکتے تو کم از کم اپنی حفاظت کے لیے ہی کوئی عملی قدم اٹھا لیں۔
ادھر پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی قطر پر اسرائیلی حملے کے بعد دوحہ میں ہونے والے ایک ہنگامی اجلاس میں اسرائیل کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی بڑھتی ہوئی جارحیت کو روکنے کے لیے ایک "اسلامی ٹاسک فورس" بنائی جائے جو اس کے توسیع پسندانہ منصوبوں پر نظر رکھ سکے۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ بار بار اجلاس بلانے کی نوبت خود اس بات کا ثبوت ہے کہ اسرائیل اب عالمی امن کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ بن چکا ہے۔ انہوں نے قطر کی خودمختاری پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران اور پاکستان کے حالیہ بیانات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ مسلم دنیا میں اسرائیل کے خلاف ایک نیا علاقائی اتحاد بننے کے امکانات بڑھ رہے ہیں، جو مستقبل میں خطے کی سیاست پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔