کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ امریکہ اور ایران کی جنگ جاری ہے یا ختم ہو گئی ہے۔ جنگ کا جب جی چاہتا ہے رُک جاتی ہے، جب جی چاہتا ہے شروع ہو جاتی ہے، بس اتنا سمجھ میں آ رہا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان جو بھی ہو رہا ہے، اس سے باقی دنیا کا کباڑا ضرور ہوتا جا رہا ہے۔ خاص طور پر پاکستان اور پاکستانیوں کا تو کچھ زیادہ ہی کباڑا ہو رہا ہے۔ پاکستانی اس جنگ کے نتیجے میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کو بھگت رہے ہیں اور بھگتتے چلے جا رہے ہیں۔ اس اضافے کے اثرات روزمرہ استعمال کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں اور یہ اضافہ بھی عوام ہی کو بھگتنا پڑ رہا ہے اور ”اسی تنخواہ میں“ بھگتنا پڑ رہا ہے جو جنگ سے پہلے تھی یعنی عام آدمی کی آمدن میں کسی قسم کا کوئی اضافہ نہیں ہوا مگر ہر چیز کی قیمت کئی گنا بڑھ گئی ہے۔
پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ رکوانے کے لیے ان تھک کوششیں کیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وزیر داخلہ محسن نقوی بطور خاص متحرک رہے۔ جبکہ دفتر خارجہ نے بھی اپنا کام جاری رکھا۔ اسلام آباد میں امریکی نائب صدر کی میزبانی کی۔ عالمی رہنماو¿ں سے رابطے کیے۔ جنگ کے دونوں فریقوں کے ساتھ متعدد ملاقاتیں کیں اور بالآخر ”اسلام آباد ایم او یو“ کے نام سے جنگ بندی کا ایک چودہ نکاتی تحریری معاہدہ کرانے میں بھی کامیاب ہو گیا جس پر عملدرآمد کے حوالے سے پہلا اجلاس بھی سوئٹزرلینڈ کے پُرفضا مقام برکنسٹاک میں ہوا۔
اسلام آباد ایم او یو پر دستخط کرنے کے باوجود امریکہ ایران کے ساتھ چھیڑ چھاڑ سے باز نہ آیا اور ایران نے بھی جوابی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھا۔ امریکہ روز ایران پر حملے کرتا اور ان حملوں کی شدت بڑھانے کی دھمکیاں دیتا رہتا۔ ادھر ایران بھی خلیجی ملکوں میں قائم امریکی اڈوں پر حملے کر کے ترکی بہ ترکی جواب دیتا رہا۔ ادھر دنوں ملکوں کی کارروائیوں کے نتیجے میں دنیا میں تیل کی قیمتیں بڑھتی چلی گئیں۔ ثالثی کرانے والے بھی حیران و پریشان تھے کہ یہ ہم کس مصیبت میں پھنس گئے ہیں کہ امریکہ جنگ بندی پر عمل درآمد کا وعدہ بھی کرتا ہے اور جنگ بند بھی نہیں کرتا۔ ابھی ثالث ملک سوچ ہی رہے تھے کہ کیا کیا جائے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کو تباہ و برباد کرنے کی دھمکیاں دیتے دیتے اچانک بغیر کسی ثالث کی مداخلت کے ازخود ہی جنگ بند کرنے کا اعلان کر دیا۔ اور ایران نے بھی یہ کہتے ہوئے حملے روک دیئے کہ ہماری کارروائیاں جوابی نوعیت کی ہوتی ہیں۔
معلوم نہیں امریکہ اپنے جنگ بند کرنے کے اعلان پر کب تک قائم رہتا ہے تاہم اس اعلان کے حوالے سے طرح طرح کی قیاس آرائیاں سامنے آ رہی ہیں۔ کوئی اسے امریکہ کی چال کہہ رہا ہے تو کوئی اسے عالمی دباو¿ قرار دے رہا ہے۔ کچھ لوگوں کے نزدیک یہ امریکہ کی امن کی خواہش ہے، البتہ ہماری نظر میں یہ سراسر امریکہ کی کمزوری ہے۔ وہ یوں کہ امریکہ نے یہ جنگ بہت سینہ چوڑا کر کے شروع کی تھی اور ایران میں رجیم چینج کرنے کا نعرہ بھی لگایا تھا بلکہ اس مقصد کے لیے سابق شاہ ایران کے بیٹے کو بھی تیار کر رکھا تھا۔ اس جنگ کو شروع کرنے کی اسے اس قدر جلدی تھی کہ اس نے ان مذاکرات کو بھی مکمل نہ ہونے دیا جو جنگ سے قبل اس کے اور ایران کے درمیان جاری تھے۔
پھر ایک روز امریکہ کی ایما پر اسرائیل نے صبح سویرے اچانک ایران پر حملہ کر دیا اور ایرانی سپریم لیڈر، ان کے اہل خانہ اور میناب سکول کے ایک سو سے زائد طلبہ کو شہید کر ڈالا۔ یہ حملہ کرتے ہوئے امریکہ اور اسرائیل کو یقین تھا کہ وہ جلد ایران کا حال افغانستان، عراق یا غزہ جیسا کر دیں گے لیکن ایران کی طرف سے ایسا منہ توڑ جواب دیا گیا کہ دنوں کی بولتی بند ہو گئی۔ اسرائیل کی تو ایران نے ایسی تباہی پھیری کہ اس کے ایک دو شہروں کے میئر باقاعدہ رو رو کر اپنی حکومت سے جنگ بندی کا مطالبہ کرتے نظر آئے۔ امریکہ کی طرف سے فراہم کیا گیا آئرن ڈوم نامی آہنی حصار بھی ریت کی دیوار ثابت ہوا۔ اسرائیل اس وقت سے دبک کر نہ جانے کہاں جا بیٹھا ہے۔ اب تو اس سارے معاملے میں اس کا نام بھی کہیں پڑھنے سننے میں نہیں آ رہا۔
خلیجی ملکوں میں جو امریکی اڈے قائم تھے ایران نے ان پر بھی دل کھول کر ہاتھ صاف کیا لیکن ان ملکوں میں سے بھی بیشتر کی طرف سے ایران کو دھمکیوں کے سوا کوئی مو¿ثر جواب نہیں دیا جا سکا۔ غرض ایرانی مزاحمت سے طاقت کے نشے میں دھت امریکا پر اپنی طاقت کی اوقات عیاں ہو گئی۔ اب اس کے پاس جنگ جاری رکھنے کی ہمت ہے نہ جواز جبکہ جنگ ختم کرنے کا بھی کوئی بہانہ نظر نہیں آ رہا۔ اس لیے وہ کبھی پاگل ہو کر حملہ کر دیتا ہے اور جواب میں جب پٹائی ہوتی ہے تو حملے روک دیتا ہے۔ ایک عجیب سا تماشا لگا ہوا ہے۔ اور اس بے جواز جنگ میں سارا قصور امریکہ ہی کا ہے۔ اس لیے اسے اب اپنی اس تماشا گری کو بند کر دینا چاہیے۔ دنیا کو مزید انتظار کی سولی پر نہیں لٹکانا چاہیے۔ کیونکہ اس انتظار سے دنیا کا کباڑا ہو رہا ہے۔ خاص طور پر پاکستانیوں کے لیے جو جنگ کے باعث پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اور روزانہ اضافے سے اس شعر کی تفسیر بنے ہوئے ہیں۔
یہ انتظار نہ ٹھہرا، کوئی بلا ٹھہری
کسی کی جان گئی، آپ کی ادا ٹھہری