لاہور: حکومت پنجاب نے مون سون کے موسم میں متوقع شدید بارشوں، دریاؤں اور برساتی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کے خدشے کے باعث صوبے بھر میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے متعدد حفاظتی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے جاری احکامات کے مطابق صوبے کے تمام ڈیموں، نہروں، دریاؤں، جھیلوں اور تالابوں میں نہانے اور تیراکی کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
اس کے علاوہ سڑکوں، گلیوں، محلوں اور دیگر عوامی مقامات پر بارش کے جمع شدہ پانی میں اترنے یا نہانے پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔
اعلامیے کے مطابق متعلقہ حکام کی پیشگی اجازت کے بغیر دریاؤں اور جھیلوں میں کشتی چلانا بھی ممنوع قرار دیا گیا ہے۔
محکمہ داخلہ نے واضح کیا ہے کہ یہ پابندیاں عوامی تحفظ کے پیش نظر دفعہ 144 کے تحت نافذ کی گئی ہیں اور آئندہ دو ماہ تک مؤثر رہیں گی۔
حکام کے مطابق مون سون کے دوران شہری سیلاب، تیز پانی کے ریلوں اور دیگر آبی خطرات سے شہریوں کو محفوظ رکھنے کے لیے یہ اقدامات ناگزیر تھے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ مختلف آبی ذخائر میں پانی کی سطح بلند ہونے اور ممکنہ ہنگامی صورتحال کے خدشات کے باعث یہ فیصلہ احتیاطی تدابیر کے طور پر کیا گیا ہے۔