Wed, September 16, 2026

اسرائیلی فوج کا امدادی کشتی "حنظلہ" پر حملہ، کارکنوں کو اغوا کر لیا

اسرائیلی فوج کا امدادی کشتی

غزہ: اسرائیلی فوج نے غزہ کی طرف امداد لے کر جانے والی کشتی "حنظلہ" کو بین الاقوامی پانیوں میں روکا اور اس پر سوار کارکنوں سمیت اس کا سامان ضبط کر لیا۔ اس کشتی پر 12 ممالک کے 21 سماجی کارکن سوار تھے، جن میں الجزیرہ کے دو صحافی بھی شامل تھے۔

کشتی کے منتظمین نے لائیو ویڈیو میں دکھایا کہ اسرائیلی فوجی زبردستی کشتی پر سوار ہو کر اس پر قابض ہو گئے۔ کشتی کی ایک رکن اِما فوریو نے اپنی ایکس پوسٹ میں لکھا تھا کہ "اسرائیلی فوج پہنچ گئی ہے، ہم اپنے فون سمندر میں پھینک رہے ہیں، غزہ میں قتل عام بند کرو۔" اس کے کچھ دیر بعد، کشتی سے تمام رابطہ منقطع ہوگیا اور اس کے کیمرے بھی بند کر دیے گئے۔

فریڈم فلوٹیلا کولیشن کا کہنا ہے کہ کشتی انسانی امداد لے کر جا رہی تھی، جس میں بچوں کا دودھ، خوراک، ڈائپرز اور دوا شامل تھے۔ تنظیم نے اس کارروائی کو بین الاقوامی سمندری قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا کیونکہ یہ حملہ بین الاقوامی پانیوں میں کیا گیا، جو فلسطینی علاقے سے باہر ہے۔

حماس کی مذمت
فلسطینی تنظیم حماس نے اسرائیل کی اس کارروائی کی سخت مذمت کی اور اقوام متحدہ سے اپیل کی کہ وہ اس "بحری قزاقی" کی مذمت کرے۔ حماس نے مزید کہا کہ اسرائیل کے اس اقدام کا مقصد غزہ کے محاصرے کو مزید سخت کرنا ہے اور انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اس امدادی مشن کو جاری رکھنے کی اجازت دے۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ اسرائیلی فوج نے امدادی کشتیوں کا راستہ روکا ہو۔ گزشتہ ماہ بھی "میڈلین" نامی امدادی کشتی کو اسرائیلی فوج نے غزہ سے 200 کلومیٹر دور واپس بھیج دیا تھا۔

اس واقعے کے بعد عالمی سطح پر اسرائیل کے اقدامات پر تنقید ہو رہی ہے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیل پر دباؤ ڈال رہی ہیں کہ وہ غزہ کی طرف امدادی مشنوں کو بلا روک ٹوک جانے دے۔

ٹیگز: