کولکتہ: بھارت میں کورونا کے بعد اب ایک نئے اور انتہائی مہلک 'نیپا وائرس' نے سر اٹھا لیا ہے، جس کے باعث ریاست مغربی بنگال میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ حکام نے وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے جنگی بنیادوں پر اقدامات شروع کر دیے ہیں۔مغربی بنگال میں 5 افراد میں وائرس پایا گیا ہے۔
متاثرہ افراد کے رابطے میں آنے والے 100 افراد کو فوری طور پر الگ تھلگ (آئسولیٹ) کر دیا گیا ہے۔ تھائی لینڈ، نیپال اور تائیوان نے اپنے ہوائی اڈوں پر مسافروں کی سخت اسکریننگ کا حکم دے دیا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق یہ وائرس چمگادڑوں سے پھیلتا ہے اور انسانی جان کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوتا ہے۔ اس کی خاص بات یہ ہے کہ یہ براہِ راست انسان کے دماغ اور پھیپھڑوں پر حملہ کرتا ہے۔
اس وائرس کی کوئی ویکسین یا مخصوص دوا ابھی تک ایجاد نہیں ہوئی۔ یہ متاثرہ شخص کے لعاب، خون یا سانس کی رطوبتوں کے ذریعے دوسرے انسان میں منتقل ہو جاتا ہے۔ بخار اور سر درد سے شروع ہونے والی یہ بیماری مریض کو محض 48 گھنٹوں میں کوما میں دھکیل سکتی ہے۔
حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ درختوں سے گرے ہوئے یا پرندوں کے کترے ہوئے پھل کھانے سے مکمل پرہیز کریں۔