Wed, September 16, 2026

ہم نے دیکھے ہیں خوشحالی کے خواب 

ہم نے دیکھے ہیں خوشحالی کے خواب 

جوں جوں وقت گزر رہا ہے الم و مصائب میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔غربت بے روزگاری آبادی اور بیماری اس طرح بڑھ رہے ہیں جیسے آکاس بیل بڑھتی ہے لہٰذا ان سے چھٹکارا پانا خاصا مشکل ہے اس کے لئے جنگی بنیادوں پر اقدامات کرنا ہوں گے مگر اٹھہتر سالہ ملکی تاریخ سے پتا چلتا ہے کہ کسی حکمران نے بھی عوامی مسائل کو سنجیدگی سے نہیں لیا وہ آتے گئے جاتے گئے اور اپنی تجوریاں بھرتے گئے۔ یہ حکمران ہی نہیں ہر بااختیار نے جی بھر کر ملکی خزانے کو شیر مادر سمجھا اور اپنا پیٹ بھرا یہی وجہ ہے کہ آج ملکی معیشت لنگڑا کر چل رہی ہے بر آمدات میں شدید کمی واقع ہو چکی ہے کاروبار‘ نئے قوانین متعارف کرانے پر سخت متاثر ہیں۔ ٹیکسٹائل کی صنعت کا بیڑا غرق ہو چکا ہے جس سے ہزاروں کارکنان روزگار سے محروم ہو گئے ہیں۔کسانوں کا بھی بہت برا حال ہے ان کی اجناس کوڑیوں کے مول فروخت ہو رہی ہیں زیادہ تر کسانوں نے تو انہیں کھیتوں میں ہی دبا دیا ہے اور کچھ نے چارے کے طور پر اپنے مویشیوں کو ڈالنا شروع کر دیا ہے۔
یوں عوام کی اکثریت پریشان ہے۔ ان پر طرح طرح کے ٹیکس لگا دئیے گئے ہیں لگائے جا رہے ہیں اور وہ چیخیں مار رہے ہیں۔گیس بجلی کی قیمتوں میں آئے روز اضافہ کیا جا رہا ہے۔غریب آدمی کے لئے انصاف کا حصول قریب قریب ناممکن بنا دیا گیا ہے اور پھر منصفوں کو مصلحتوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے سماج میں کیسے نہ بے چینی پھیلے کیسے نہ وہ مایوس ہو اور کیسے نہ وہ احساس بیگانگی کا شکار ہو اور جب شہ دماغ اسے ڈنڈے کے زور پر سکون سے رہنے کا کہیں تو اس میں نفرت کا طوفان جنم لیتا ہے۔ عوام کو ریلیف دینے کے بجائے ان سے خزانہ بھرنے کے نام پر ان کی جمع پونجی بھی ہتھیائی جا رہی ہے۔سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا ایسی صورت میں عوام کسی حکومت سے خوش ہو سکتے ہیں ہر گز نہیں مگر راگ یہی الاپا جا رہا ہے کہ ملک ترقی کر رہا ہے چلیں مان لیتے ہیں کہ ملک آگے بڑھ رہا ہے تو پھر لوگ دہائی کیوں دے رہے ہیں۔ ترقی اسے کہتے ہیں جب عوام کو ریلیف مل رہے ہوں ان کی زندگیاں آسان ہو رہی ہوں صنعتوں کے جال بچھ رہے ہوں انصاف عام اور سستا ہو تعلیم صحت کے بارے میں کوئی غریب کسی گہری سوچ میں مبتلا نہ ہوتا ہو قانون و آئین کی حکمرانی ہو مگر معذرت کے ساتھ ایسا کچھ بھی نہیں۔ تعلیم مہنگی دوائیاں مہنگی اور بے روزگاری حدیں پار کر رہی ہے جس پر نج کاری کے ذریعے قابو پانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اہل اختیار سے پوچھا جا سکتا ہے کہ جو ادارے قابل اصلاح ہیں یا منافع بخش ہیں انہیں نجی ہاتھوں میں دینے کی کیا منطق ہے یہ کہ ان سے بے روزگاری کیسے ختم ہو گی ان میں جتنے کارکنان کام کرتے ہیں وہ اب بھی کریں گے۔ عرض اوپر بھی کیا گیا ہے کہ روزگار مہیا کرنے کا واحد راستہ ایک ہی ہے کہ ملیں فیکٹریاں اور کارخانے ہنگامی طور سے لگائے جائیں اور یہ جو اونے پونے ادارے بیچے جا رہے ہیں ان پر نظر ثانی کی جائے ملک غربت کی چکی میں پس رہا ہے۔ ستم یہ کہ کوئی داد فریاد بھی نہیں یہاں ہم یہ بھی عرض کرتے چلیں کہ حکومت یا حکومتوں کا یہ موقف ہے کہ اداروں کے مالکان ہی انہیں بہتر طور سے چلا سکتے ہیں ایسا بالکل نہیں سرکاری انتظامیہ چاہے تو ہر ادارہ منافع کما سکتا ہے مگر ہماری پالیسیاں تشکیل ہم نہیں آئی ایم ایف دیتا ہے جس نے یہ ٹھان رکھی ہے کہ پاکستان کو ترقی نہیں کرنے دینی لہٰذا وہ حکمرانوں سے سخت سے سخت اقدامات کرنے کو کہتا ہے اور وہ خندہ پیشانی سے ان پر عمل در آمد کر دیتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ جب ہم عالمی مالیاتی اداروں کے زیر اثر رہتے ہیں تو ہماری اپنی شناخت و حیثیت کیا رہ جاتی ہے شاید ہمیں اپنی شناخت و حیثیت کا اندازہ یا پھر اس کی ضرورت نہیں وگرنہ ان کی اور امریکا کی پالیسیاں ہم پر مسلط نہ ہوں۔ عجیب صورت حال ہے اب بھی امریکا سے کسی بہتری کی امید باندھے ہوئے ہیں کہ جس نے ہمیشہ ہماری تعمیر وترقی کے عمل میں رخنہ ڈالا ایسے کسی پروگرام کو پایہ تکمیل تک نہیں پہنچنے دیا گیا جو ہمارے اچھے دنوں کی کوئی نوید دے سکتا تھا۔ اب بھی وہ ڈکٹیٹ کرتا ہے اور ساتھ کہتا ہے کہ اگر یہ نہ کیا تو اس کا انجام ٹھیک نہیں ہو گا۔ لگتا ہے امریکا کے صدر کا فشار خون بلند رہنے لگا ہے کہ کبھی کسی ملک کو دھمکیاں دیتا ہے اور کبھی کسی کو۔اب ایران کے پیچھے لٹھ لے کر چڑھا ہوا ہے مگر ایرانی حکومت اس کی کسی دھمکی یا جارحیت کو خاطر میں نہیں لا رہی۔اسے چین اور روس کی آشیر باد بھی حاصل ہے ہو سکتا ہے کہ وہ کسی جارحیت پر میزائلوں کا رخ امریکا کی طرف کر دیں لہٰذا حالات بڑے خراب ہی نہیں تشویش ناک ہیں پور ی دنیا کا امن خطرے میں نظر آتا ہے جب کہ ان تمام ترقی یافتہ ممالک کو چاہیے کہ وہ گفتگو سے اپنے مسائل حل کرنے کی کوشش کریں۔غریب ممالک کو غربت سے نجات دلانے کے لئے سر جوڑ کر بیٹھیں جتنی توانائیاں ایک دوسرے کو برباد کرنے گرانے اور جھکانے کے لئے صرف ہو رہی ہیں انہیں انسانوں کی فلاح وخوشحالی کے لئے خرچ کرنا چاہیے مہذب پن تو یہی ہے کہ یہ کہاں کی تہذیب ہے کہ کمزور ریاستوں کو برباد کرکے اپنے چہرے سرخ کیے جائیں۔
مگر ایسی وسعت قلبی کہاں لہٰذا یہ جو جمہوریت ہے سب دھوکا ہے تھوڑی بہت آزادیوں کو جمہوریت کہنا درست نہیں جتنے بھی جمہوریت کے علم بردار ہیں مکار جھوٹے اور دھوکے باز ہیں آج کچھ کہتے ہیں تو کل کچھ لہٰذا ہمارے کرتا دھرتاو¿ں کو ان سے امید وفا بالکل نہیں رکھنا چاہیے جو بھی کرنا ہے اپنی جدو جہد سے کرنا ہے اس کے لئے پورے ملک کے لوگوں کو شریک سفر کرنا ہو گا اور کشکول کو پھینکنا ہو گا قرضہ نہیں ٹریڈ کی راہ پر چلنا ہو گا قرضوں کی جکڑ بندیوں نے ہمارے بڑھتے قدموں کو روک دیا ہے علاوہ ازیں علاقائی سطح پر سیاست ہو یا کاروبار اس کو ترجیح دینا پڑے گی آزمائے ہوو¿ں کو آزمانا دانشمندی نہیں۔ ہم خوشحالی کے خواب دیکھتے تھے اور دیکھتے دیکھتے آٹھ دہائیاں بیت گئیں مگر خواب‘ خواب ہی رہے۔ اب حالت سب کے سامنے ہے رات کو چین ہے نہ دن کو آرام ایک خوف سا ہر طرف پھیلا دکھائی دیتا ہے بھلا اس میں کوئی جئیے تو کیسے ؟۔

ٹیگز: