Wed, September 16, 2026

آئی جی پنجاب سے ملاقات اور مشورے

آئی جی پنجاب سے ملاقات اور مشورے


اگلے روز میرے محترم بھائی راﺅ عبدالکریم (آئی جی پنجاب) نے بڑی محبت سے یاد کیا میں چلے گیا، میرا ان سے ایک دیرینہ تعلق ہے، انہوں نے ہمیشہ عزت دی کیونکہ وہ خود عزت دار ہیں، دوسروں کو عزت وہی دیتا ہے جس کے اپنے پاس عزت ہوتی ہے، البتہ ہمارے ہاں کبھی کبھی یہ معاملہ کچھ اس طرح ا لٹا ہو جاتا ہے آپ کسی کم ظرف کو عزت دیں وہ اسے اپنا حق سمجھ کر دوسروں کو بے عزت کرنا بھی اپنا حق ہی سمجھتا ہے، میرے والد محترم اکثر یہ فرماتے تھے ”صرف اپنی عزت آبرو کو نہیں دوسروں کی عزت آبرو کو بھی مقدم سمجھنا چاہیے“، وہ اور طرح کا زمانہ تھا، بدقسمتی سے اب اکثر لوگ عزت کو نہیں شہرت اور دولت کو ترجیح دیتے ہیں، میں ایک ایسے نفیس آئی جی (عبدالکریم) سے مل رہا تھا جس نے ہمیشہ عزت کو مقدم سمجھا، اسے شہرت کی کوئی لالچ ہے نہ دولت کی اس قدر ہوس ہے کہ پاکستان میں اندھا دھند پراپرٹیاں بنانے بعد پورے پرتگال کی پراپرٹیاں خریدنے کی خواہش دل میں پال کر بیٹھ جائے، عزت دار آدمی ہمیشہ عزت داروں سے ملنا پسند کرتا ہے اور دولت پرست، ظالم و کمینہ افسر ہمیشہ اپنے جیسے لوگوں کو پاس بٹھا کر خوش ہوتا ہے، اس حوالے سے بڑے بڑے چول پولیس افسر میں نے دیکھے ہیں، چند برس قبل فیصل آباد میں تعینات ایک آر پی او کے بارے میں ا س کے ایک ٹیچر نے بتایا وہ جب ان سے ملنے ان کے دفتر گیا ا ن کے ساتھ تصویر بنانا چاہی ا نہوں نے فرمایا ”سر تصویر رہنے دیں“، ٹیچر ابھی وہیں بیٹھے تھے شہر کا نامی گرامی بدمعاش ا ن کے دفتر میں داخل ہوا، آر پی او نے کھڑے ہو کر گھٹ کے ا س سے جپھی ڈالی اور باہر سے اردلی کو بلا کر خود ا س کے ساتھ تصویریں بنوائیں کیونکہ بدمعاش صاحب، آر پی او صاحب کے لئے نئے ماڈل کا ایک موبائل فون، ایک لیپ ٹاپ اور چند قیمتی پرفیومز لے کے آئے تھے، ہمارے زیادہ تر افسران ایسے ہی ”تحفہ پسند“ ہیں، کوئی قیمتی تحفہ ا±ن کے لیے لے کے آ جائے وہ یہ نہیں دیکھتے یہ کس قماش کا ہے یا ا±س کا کریمنل ریکارڈ کیا ہے؟ بس یہ دیکھتے ہیں وہ تحفہ کیسا لے کے آیا ہے؟ عام سا تحفہ لانے والے کے ساتھ تصویر وہ ا±س سے ذرا فاصلے پر کھڑے ہو کر بنواتے ہیں اور قیمتی تحفہ لے کر آنے والے کے ساتھ ج±ڑ کر بناتے ہیں، دفتروں میں ا±ن کی خاطر مدارت بھی تحائف کی قیمت کے مطابق ہوتی ہے، عام سا تحفہ لانے والے کو بعض اوقات سادہ چائے بھی نہیں پوچھتے اور قیمتی تحفہ لانے والوں کو باقاعدہ لنچ کرائے جاتے ہیں، ساتھ یہ بھی بتایا جاتا ہے، ”آج آپ کی بھابھی نے آپ کے لیے بڑے مزے کا گوبھی گوشت بنا کر بھیجا ہے“، اگلے روز میرا امریکہ سے آنے والا ایک دوست لاہور میں اپنے دوست افسر سے ملنے خالی گلدستہ لے کر چلے گیا، وہ افسر خالی گلدستہ وصول کرتے ہوئے بڑے ہلکے طریقے سے اس سے ملا، پھر اس سے کہنے لگے ”ایسے دس بارہ گلدستے روزانہ مجھے باہر پھینکنا پڑ جاتے ہیں“، میں اس موقع پر موجود نہیں تھا ورنہ ان سے کہتا ”حضور باہر کیوں پھینکتے ہیں بیچ دیا کریں“، میں اکثر اپنے دوستوں سے کہتا ہوں کسی افسر سے ملنے جائیں کوئی کام اس سے اگر نہ بھی ہو خالی ہاتھ مت جایا کریں اور اگر کوئی کام ہو پھر اس کام کے مطابق تحفہ ساتھ لازمی لے جایا کریں ورنہ یہ توقع لے کے مت جایا کریں وہ آپ کا کام صرف دوستی دوستی میں کر دے گا، موجودہ آئی جی پنجاب عبدالکریم ان ساری خرافات سے پاک سیدھے سادھے آدمی ہیں اور تعلقات بھی ایسے ہی سیدھے سادھے پالتے ہیں جن میں کوئی لالچ غرض یا مفاد نہیں ہوتا۔ پچھلے دنوں وہ اپنے ایک عام سے دوست کے بیٹے کی وفات پر مسلسل تین دن ان کے گھر جا کر ان کی ڈھارس بندھاتے رہے، کل میں جب مقررہ وقت پر ان کے دفتر پہنچا وہ میرے منتظر تھے، میں ان سے کچھ ایسے معاملات پر بات کر رہا تھا جو پولیس کی جانب سے پبلک کو ریلیف دینے کے حوالے سے تھے، میں نے دیکھا اس دوران ان کا سائلنٹ فون مسلسل لائیٹیں مار رہا ہے، انہوں نے کوئی کال اٹینڈ نہیں کی، اس دوران بس ایک فون ایک ڈی پی او کو انہوں نے خود کیا، اس سے پوچھا ”مرید کے میں ایک خاتون قتل ہوئی ہے آپ کو اس واقعے کا پتہ ہے؟“، ستم ظریفی دیکھئے آئی جی کو اس واقعے کا پتہ تھا متعلقہ ڈی پی او کو نہیں پتہ تھا، آئی جی صاحب اپنے ڈی پی او کی اس لاعلمی پر بالکل غصے میں نہیں آئے، بس اتنا فرمایا ”اس واقعے کی تفصیل معلوم کر کے ابھی مجھے آگاہ کریں“، آئی جی صاحب سے میں نے گزارش کی آپ کی ترجیحات میں یہ بھی شامل ہونا چاہیے ایسے بےخبر پولیس افسروں سے فوری طور پر چ±ھٹکارا حاصل کریں، حال ہی میں کچھ نئے ڈی پی اوز لگائے گئے ہیں، ایک دو کو میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ وہ جب لاہور میں بطور ایس پی تعینات تھے کیسی کیسی بدنامیوں کے حامل تھے، آئی جی صاحب کو جو نئی ٹیم بنانی ہے انہیں پوری کوشش کرنی چاہیے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے ایسے پولیس افسروں کی منظوری لیں جو ذرا کم بے ایمان ہوں، مکمل ایماندار تو ظاہر ہے اب چراغ لے کے ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملنے، صرف محکمہ پولیس میں نہیں کسی محکمے میں نہیں ملتے، آئی جی صاحب سے میں نے یہ بھی گزارش کی ”گزشتہ تین برسوں میں مذموم و مخصوص مقاصد کے حصول کے لئے ماتحت پولیس کو صرف جزاﺅں سے ہی نوازا یا شہبازا جاتا رہا ہے، ان کے ناز نخرے اٹھائے جاتے رہے، ترقیاں دیتے ہوئے ان کی ایمانداری کو تو بالکل ہی خاطر میں نہیں لایا گیا، ترقیوں کے لئے صرف کسی افسر کی اے سی آر ٹھیک ہونا کافی نہیں، وہ تو آج کل ”دم والے پانی“ کی دو بوتلیں لے کر ٹھیک لکھوا لی جاتی ہیں، اس دیرینہ غلیظ نظام نے بڑے بڑے ڈاکو افسروں کو اگلے عہدوں پر براجمان کرا دیا ہے، ماتحت پولیس کی ترقیوں کے لئے اب کوئی نیا سسٹم نیا نظام نیا فارمولہ طے ہونا چاہیے، سب سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے کوئی افسر جب محکمے میں بھرتی ہوا تھا تب اس کے کتنے اثاثے تھے اب کتنے ہیں؟ خاتون افسروں کے اثاثے بھی ایسے ہی چیک ہونے چاہئیں ان کے ”اثاثے“ چیک کرنے کا دوسرا رائج طریقہ بالکل غلط ہے۔ دوسری بات کسی ماتحت افسر کی ترقی کے لئے یہ اہم ہونی چاہیے جہاں جہاں وہ تعینات رہا کرائم پر کتنا کنٹرول رہا؟ اگر اس نوعیت کی ”خصوصیات“ کو ترقیوں سے نہیں جوڑا جائے گا، جزا اور سزا کے نظام میں توازن قائم نہیں کیا جائے گا، پولیس کا گھناﺅنا چہرہ مزید گھناﺅنا ہوتا جائے گا، سابق آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کے بہت سے اوصاف کا میں ذاتی طور پر بڑا مداح ہوں، مگر بطور آئی جی پنجاب اپنی فورس کے جو ضروری اور غیر ضروری بھلے انہوں نے کیے فورس نے اس کی ذرا قدر نہیں کی ورنہ عوام کے ساتھ اس کا رویہ اب تک تبدیل ہو چکا ہوتا، تبدیل یہ ہوا کہ پہلے سے زیادہ ابتر ہو گیا، کچھ لالچی بددیانت اور نااہلوں کی ترقیاں تو ظاہر ہے اب واپس نہیں ہو سکتیں، لیکن مستقبل میں ترقیوں کے حوالے سے محتاط رویہ اپنا کر پولیس کی کالی بھیڑوں کو کچھ سبق ضرور سکھائے جا سکتے ہیں۔ (جاری ہے)

ٹیگز: