پاکستان کو گزشتہ دو دہائیوں سے توانائی کے شدید بحران، مہنگے درآمدی ایندھن پر انحصار، گردشی قرضے اور بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں جیسے چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔ ایسے ماحول میں کیروٹ پاور منصوبے کی تکمیل محض ایک پاور پلانٹ کا اضافہ نہیں بلکہ پاکستان کی توانائی پالیسی میں ایک سٹرٹیجک پیش رفت ہے۔ یہ منصوبہ نہ صرف قابلِ تجدید توانائی کی طرف منتقلی کی علامت ہے بلکہ طویل المدتی توانائی تحفظ کی بنیاد بھی فراہم کرتا ہے۔یہ منصوبہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت مکمل ہونے والا پہلا بڑا پن بجلی منصوبہ ہے، جس نے پاکستان میں بنیادی ڈھانچے کی سرمایہ کاری کے ایک نئے ماڈل کو فروغ دیا۔ 720 میگاواٹ پیداواری صلاحیت کے ساتھ یہ منصوبہ سالانہ تقریباً 3.4 سے 3.6 ارب یونٹس بجلی قومی گرڈ میں شامل کرتا ہے، جو لاکھوں گھروں اور صنعتوں کے لیے مستحکم توانائی کی فراہمی کو یقینی بناتا ہے۔
یہ منصوبہ دریائے جہلم پر تعمیر کیا گیا ہے، جو پاکستان کے پن بجلی وسائل کے مؤثر استعمال کی ایک اہم مثال ہے۔ پن بجلی کی کم پیداواری لاگت اس منصوبے کو خاص طور پر اس وقت اہم بناتی ہے جب عالمی سطح پر تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس طرح کیروٹ منصوبہ نہ صرف توانائی کی قیمتوں کے دبائو کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے بلکہ بجلی کے نظام کو زیادہ مستحکم بھی بناتا ہے۔ منصوبے کی مجموعی لاگت تقریبا 1.6 سے 1.7 ارب امریکی ڈالر ہے، جسے بنیادی طور پر چینی سرمایہ کاری اور ترقیاتی بینکوں کے قرضوں سے مکمل کیا گیا۔ یہ منصوبہ Build-Own-Operate-Transfer (BOOT) ماڈل کے تحت تیار کیا گیا، جس کے ذریعے نجی سرمایہ کار پلانٹ تعمیر کرتے ہیں، ایک مخصوص مدت تک اسے چلاتے ہیں اور بعد ازاں حکومت کو منتقل کرتے ہیں۔ اس ماڈل نے پاکستان کو فوری مالی دبائو کے بغیر بڑی پیداواری صلاحیت شامل کرنے کا موقع فراہم کیا۔ اس منصوبے کے لیے منظور شدہ لیولائزڈ ٹیرف تقریباً 7.57 امریکی سینٹ فی یونٹ ہے، جو 30 سال کے عرصے کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ یہ ٹیرف سرمایہ کاری کی واپسی، آپریشن، مرمت اور سرمایہ کار کے منافع کو مدنظر رکھ کر طے کیا گیا۔ اگرچہ پن بجلی کی حقیقی پیداواری لاگت انتہائی کم ہوتی ہے، لیکن صارفین کو وصول کیا جانے والا حتمی ٹیرف نظامی اخراجات، ٹرانسمیشن، ٹیکسز اور کیپیسٹی پیمنٹس کی وجہ سے زیادہ ہو جاتا ہے۔
یہ عظیم الشان منصوبہ دنیا کی بڑی پن بجلی کمپنیوں میں شمار ہونے والی چائنہ تھری گارجز کارپوریشن کے زیرِ انتظام مکمل کیا گیا ہے۔ BOOT معاہدے کے تحت کمپنی 30 سال تک اس منصوبے کی ملکیت اور آپریشن سنبھالے گی، جس کے بعد یہ منصوبہ حکومت پنجاب کو منتقل کر دیا جائے گا۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں کیروٹ منصوبے کا اصل معاشی فائدہ نمایاں ہو گا کیونکہ اس کے بعد بجلی انتہائی کم لاگت پر پیدا کی جا سکے گی۔ کیروٹ منصوبہ پاکستان کے توانائی مکس میں توازن پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ پاکستان میں بجلی کی پیداوار کا بڑا حصہ درآمدی ایندھن پر مبنی ہے، جو نہ صرف مہنگا ہے بلکہ عالمی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ سے بھی متاثر ہوتا ہے . کیروٹ جیسے منصوبے اس انحصار کو کم کرتے ہیں اور توانائی کے مقامی ذرائع کو مضبوط بناتے ہیں۔ اس منصوبے کے ماحولیاتی فوائد بھی نمایاں ہیں۔ اندازوں کے مطابق کیروٹ سالانہ تقریباً 3.5 ملین ٹن کاربن اخراج میں کمی کا باعث بنتا ہے، جو پاکستان کے موسمیاتی اہداف کے لیے اہم ہے۔ اس کے علاوہ منصوبے نے تعمیراتی مرحلے میں روزگار کے مواقع فراہم کیے اور مقامی معیشت کو تقویت دی۔تاہم کروٹ منصوبہ مکمل طور پر چیلنجز سے پاک نہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ڈالر سے منسلک ٹیرف اور کیپیسٹی پیمنٹس صارفین پر دباؤ ڈال سکتے ہیں، خاص طور پر جب روپے کی قدر کم ہوتی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صرف نئے منصوبے لگانا کافی نہیں بلکہ بجلی کے شعبے میں وسیع اصلاحات بھی ضروری ہیں، جن میں ٹرانسمیشن نظام کی بہتری، لائن لاسز میں کمی اور گردشی قرضے کا حل شامل ہے۔
کیروٹ منصوبہ تین بنیادی حوالوں سے اہم ہے۔ اول، یہ سی پیک کے تحت مکمل ہونے والا پہلا بڑا پن بجلی منصوبہ ہے جو مستقبل کی سرمایہ کاری کے لیے مثال قائم کرتا ہے۔ دوم، یہ پاکستان کے قابل تجدید توانائی پورٹ فولیو کو مضبوط بناتا ہے۔ سوم، یہ ایسے مالیاتی ماڈل کو ظاہر کرتا ہے جسے پاکستان آئندہ بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں میں استعمال کر سکتا ہے۔ یہ منصوبہ طویل المدتی توانائی منصوبہ بندی میں بھی اہم ہے کیونکہ یہ بیس لوڈ بجلی فراہم کرتا ہے، جو صنعتی ترقی اور معاشی استحکام کے لیے ضروری ہے۔ قابلِ تجدید توانائی کی طرف منتقلی عالمی سطح پر ایک ناگزیر حقیقت بن چکی ہے اور کیروٹ منصوبہ اس سمت میں پاکستان کے عملی اقدامات کی نمائندگی کرتا ہے۔ کیروٹ ہائیڈرو پاور منصوبہ پاکستان کی توانائی کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل ہے جو موقع اور پیچیدگی دونوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ ایک طرف یہ منصوبہ کم لاگت، صاف اور قابلِ اعتماد بجلی فراہم کرتا ہے، جبکہ دوسری طرف BOOT ماڈل اور ڈالر سے منسلک ٹیرف صارفین کے لیے قلیل اور درمیانی مدت میں قیمتوں کے دباؤ کو برقرار رکھتے ہیں۔
حقیقی معاشی فائدہ اس وقت سامنے آئے گا جب 30 سال بعد یہ منصوبہ حکومت کے پاس منتقل ہو گا اور پاکستان انتہائی کم لاگت پر بجلی پیدا کرنے کے قابل ہو جائے گا۔کیروٹ منصوبے کی کامیابی کا انحصار صرف پیدا ہونے والی میگاواٹس پر نہیں بلکہ اس بات پر ہے کہ پاکستان بجلی کے شعبے میں اصلاحات کتنی مؤثر طریقے سے نافذ کرتا ہے۔ اگر ٹرانسمیشن نظام بہتر بنایا جائے، لائن لاسز کم کیے جائیں، گردشی قرضہ قابو میں لایا جائے اور قابلِ تجدید توانائی کے مزید منصوبے شامل کیے جائیں تو کیروٹ منصوبہ مستقبل میں سستی بجلی، صنعتی ترقی اور معاشی استحکام کی بنیاد بن سکتا ہے۔ کیروٹ ایک پاور پلانٹ سے بڑھ کر ایک سٹرٹیجک توانائی اثاثہ ہے۔ یہ منصوبہ پاکستان کے لیے توانائی تحفظ، ماحولیاتی پائیداری اور انفراسٹرکچر پر مبنی ترقی کے ایک نئے دور کی نشاندہی کرتا ہے۔ درست پالیسی فیصلوں کے ساتھ کیروٹ منصوبہ آنے والی دہائیوں میں پاکستان کے توانائی کے مستقبل کا مرکزی ستون ثابت ہو سکتا ہے۔