Wed, September 16, 2026

پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں ریکارڈ اضافہ، معیشت نے اہم سنگِ میل عبور کرلیا

پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں ریکارڈ اضافہ، معیشت نے اہم سنگِ میل عبور کرلیا

کراچی : پاکستان کی معیشت نے ایک اور بڑا سنگِ میل عبور کیا ہے، کیونکہ ملک کے زرمبادلہ ذخائر مارچ 2022 کے بعد سب سے بلند سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ تازہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر 21.1 ارب ڈالر تک جا پہنچے ہیں، جو ملکی معیشت کی پائیدار ترقی اور عالمی سطح پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کا واضح ثبوت ہے۔

اس وقت سٹیٹ بینک کے ذخائر 15.9 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں، جبکہ ملک کی درآمدات کے لیے دستیاب ذخائر کی مدت 2.6 ماہ سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ قرضوں پر انحصار کرنے کی بجائے مقامی معاشی ترقی، اصلاحات اور کاروباری اعتماد کے بڑھنے کا نتیجہ ہے۔

اعداد و شمار سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بیرونی قرضہ بمقابلہ جی ڈی پی کا تناسب 31 فیصد سے کم ہو کر 26 فیصد تک آ گیا ہے، جو کہ مالی نظم و ضبط اور حکومتی اصلاحات کی کامیابی کو ظاہر کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہ ذخائر کا اضافہ محض وقتی انتظامات کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک پائیدار معاشی بحالی کی طرف ایک اہم قدم ہے۔

اگر ہم 2023 کی بات کریں تو مرکزی بینک کے ذخائر صرف 2.9 ارب ڈالر تھے، لیکن اب یہ بڑھ کر 15.9 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں، جو کہ تقریباً ساڑھے پانچ گنا اضافہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ فارورڈ فارن ایکسچینج واجبات میں بھی 65 فیصد کمی آئی ہے، جس سے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ بیرونی دباؤ کم ہو گا۔

ٹیگز: